کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: مکہ کے رباع (چاروں جانب بازار یا دکانوں سے گھرے ہوئے علاقوں) کے بیع (فروخت) کے بارے میں
حدیث نمبر: 15320
١٥٣٢٠ - حدثنا أبو بكر قال (حدثنا) (١) ابن علية عن سوار عن الوليد بن أبي هشام قال: قال عثمان: رباعي التي بمكة يسكنها بني ويسكنونها من أحبوا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان ارشاد فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں میرے گھر ہیں جن میں میری اولاد رہتی ہے، اور وہ جس کو چاہتے ہیں ان گھروں میں رہائش دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 15321
١٥٣٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن ليث عن مجاهد وعطاء وطاوس قال: كانوا يكرهون أن يبيعوا شيئًا من رباع مكة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد، حضرت عطاء اور حضرت طاؤس مکہ مکرمہ کے مکان کو فروخت کرنے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 15322
١٥٣٢٢ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن إبراهيم بن مهاجر عن مجاهد قال: لا يحل بيع رباعها] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ کے مکان فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15323
١٥٣٢٣ - [(حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد رفعه قال: لا يحل بيع رباعها] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے مرفوعاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مکہ مکرمہ کے مکان فروخت کرنا جائز نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 15324
١٥٣٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن (عمر) (١) بن سعيد بن (أبي) (٢) (حسين) (٣) عن عثمان بن أبي سليمان عن علقمة بن (نضلة) (٤) قال: كانت رباع مكة في زمان رسول اللَّه ﷺ وزمان أبي بكر وعمر تسمى السوائب، من احتاج سكن ومن استغنى أسكن (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ بن نضلہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں اور حضرت صدیق اکبر اور حضرت عمر کے زمانہ میں مکہ مکرمہ میں مکان تھا اس کا نام سوائب تھا کہ جو خود محتاج ہے وہ خود اس میں رہے اور جو مالدار ہے وہ دوسروں کو اس میں رہنے کی جگہ دے۔