کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات مکہ مکرمہ کے گھروں کو بطور کرایہ دینے کو ناپسند کرتے ہیں اور اس کے متعلق جو وارد ہوا ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 15309
١٥٣٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "مَكّةُ حَرَمٌ حرمها اللَّهُ لا يحل بيع رِباعها ولا إجارة بُيوتها" (١).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مکہ مکرمہ کو اللہ تعالیٰ نے قابل احترام بنایا ہے، اس کے گھروں کو فروخت کرنا اور کرایہ پر دینا جائز اور حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15310
١٥٣١٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن إبراهيم بن المهاجر عن مجاهد قال: بيوت مكة لا تحل إجارتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ کے گھروں کا کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15311
١٥٣١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن حجاج عن عطاء أنه كان يكره أجور بيوت مكة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء مکہ مکرمہ کے گھروں کے کرایہ کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 15312
١٥٣١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن ليث عن القاسم قال: من أكل شيئًا من كراء مكة فإنما يأكل نارًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ جو شخص مکہ مکرمہ کے گھر کو کرایہ پردے کر اس کی اجرت کھا رہا ہے وہ جہنم کی آگ کھا رہا ہے۔
حدیث نمبر: 15313
١٥٣١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن عياش عن ابن (جريج) (١) قال: أنا قرأت كتاب عمر بن عبد العزيز على الناس بمكة ينهاهم عن كراء بيوت مكة ودورها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کا مکتوب لوگوں کو پڑھ کر سنایا (جس میں تحریر تھا کہ) مکہ مکرمہ کے گھروں اور رہائشی مکانوں کو کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے (اس سے منع کیا گیا ہے) ۔
حدیث نمبر: 15314
١٥٣١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن عبيد اللَّه بن أبي زياد عن (١) أبي نجيح عن عبد اللَّه بن (عمرو) (٢) قال: الذين يأكلون أجور بيوت مكة إنما يأكلون في بطونهم نارًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو لوگ مکہ مکرمہ کے گھر کرایہ پردے کر ان کا کرایہ کھاتے ہیں وہ لوگ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 15315
١٥٣١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ابن (جريج) (١) عن عطاء ⦗٣٩٥⦘ قال: كان عمر يمنع أهل مكة أن يجعلوا لها أبوابا (حين) (٢) ينزل (الحاج) (٣) في عرصات الدور (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے اھل مکہ کو منع کیا تھا کہ وہ اپنے گھروں کے دروازے بنائیں تاکہ حاجی آ کر ان گھروں کے صحنوں میں اتریں (اور وہاں ٹھہریں) ۔
حدیث نمبر: 15316
١٥٣١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه قال: لم يكن [(للدور بمكة) (١) أبواب، كان أهل مصر وأهل العراق يأتون] (٢) (بقطراتهم) (٣) فيدخلون دور مكة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر کے والد فرماتے ہیں کہ مکہ کے گھروں کے دروازے نہیں ہونے چاہئے، مصر اور عراق والے اپنی اونٹوں کی قطار کے ساتھ آتے ہیں اور وہ مکہ مکرمہ کے گھروں میں داخل ہوجاتے ہیں۔