حدیث نمبر: 15209
١٥٢٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد العمي عن عطاء ابن السائب قال: رأيت أبا جعفر رمى الجمرة قبل طلوع الشمس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر کو طلوع شمس سے قبل رمی کرتے ہوئے دیکھا، او حضرت عطاء ، حضرت طاؤس، حضرت مجاہد، حضرت نخعی، حضرت عامر اور حضرت سعید بن جبیر جب بھی آتے رمی کرلیتے وہ اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے۔
حدیث نمبر: 15210
١٥٢١٠ - وكلان عطاء وطاوس ومجاهد والنخعي وعامر وسعيد بن جبير يرمون حين يقدمون أي ساعة (قدموا) (١)، لا يرون به بأسًا.
حدیث نمبر: 15211
١٥٢١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن ليث عن عطاء أنه كان لا يرى بأسًا أن يرمي الرجل جمرة العقبة قبل أن تطلع الشمس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء جمرہ عقبہ کی رمی طلوع شمس سے قبل کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 15212
١٥٢١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن عبيد اللَّه بن عمر عن القاسم عن عائشة (قال) (١): قالت: وددت أني كنت استأذنت رسول اللَّه ﷺ كما أستأذنته سودة أن تأتي منى بليل وترمي من قبل أن يأتي الناس، فأذن لها وكانت (امرأة) (٢) ثبطة ثقيلة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میری خواہش تھی کہ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگ لوں جس طرح حضرت سودہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لی تھی کہ وہ رات کو منیٰ آجائیں اور لوگوں کی آمد سے قبل ہی رمی کرلیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اجازت مرحمت فرما دی تھی کیونکہ وہ بھاری جسم والی تھیں۔
حدیث نمبر: 15213
١٥٢١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن عبيد اللَّه بن (عمر عن نافع عن عبد اللَّه بن) (١) عبد اللَّه قال: كان ابن عمر يبعث بصبيانه ليلة المزدلفة فيصلون الصبح بمنى، (ويرمون) (٢) الجمرة قبل أن يأتي الناس (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے بچوں کو مزدلفہ کی رات ہی منیٰ بھیج دیا تھا انھوں نے فجر کی نماز منیٰ میں ادا کی اور لوگوں کی آمد سے قبل ہی رمی کرلی۔