حدیث نمبر: 15152
١٥١٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن ابن جريج قال: قلت لنافع متى كان ابن عمر يروح؟ قال: "رسوله عند الإمام فإذا راح عجل أو أخر" قال: وكان لا يخرج حتى يطوف سبعًا، وكان يحب أن لا يصلي الظهر إلا بمنى، قال: وأخر (الأمير) (١) (يومًا) (٢) (فصلى) (٣) دون منى (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع سے عرض کیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کب منیٰ جاتے تھے ؟ آپ نے فرمایا : ان کا قاصد امام کے پاس ہوتا، جب وہ چلتا تو آپ بھی چلتے، چاہے وہ جلدی کرے یا تاخیر، اور وہ طواف کے سات چکر مکمل کرنے سے پہلے نہیں نکلتے تھے، اور آپ ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کرنا پسند کرتے تھے، ایک دن امیر نے تاخیر کردی تو آپ نے ظہر کی نماز منیٰ سے پہلے ہی پڑھ لی۔
حدیث نمبر: 15153
١٥١٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن عبد العزيز بن رفيع قال: رأيت أنسًا راكبا حمارًا (ذاهبًا) (١) إلى منى يوم التروية فقلت له: أين صلَّى رسول اللَّه ﷺ الظهر في هذا اليوم؟ (فقال) (٢): انظر أين يصلي أمراؤك فصل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد العزیز بن رفیع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس کو یوم الترویہ (آٹھ ذوالحجہ) میں دراز گوش پر سوار منیٰ جاتے ہوئے دیکھا، میں نے ان سے عرض کیا کہ آج کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی ؟ آپ نے فرمایا اپنے امیر کو دیکھو وہ کہاں ادا کرتا ہے وہی تم بھی ادا کرو۔
حدیث نمبر: 15154
١٥١٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: يصلى الظهر يوم التروية بمكة (ثم) (١) يسير إلى منى فيبيت بها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم یوم الترویہ میں ظہر کی نماز مکہ میں ادا کرتے پھر منیٰ آجاتے اور رات وہاں گزارتے۔
حدیث نمبر: 15155
١٥١٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه عن جابر أن النبي ﷺ لما كان (يوم) (١) التروية توجه إلى منى، فصلى (بها الظهر) (٢) ⦗٣٦٠⦘ والعصر والمغرب والعشاء والصبح (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آٹھ ذوالحجہ منیٰ تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں پر ظہر وعصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نماز ادا فرمائی۔
حدیث نمبر: 15156
١٥١٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن ابن جريج عن عطاء الخراساني عن ابن عباس قال: الرواح إلى منى إذا زاغت الشمس (فليرح) (١) الإمام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ سورج جب غروب کی طرف مائل ہو تو منیٰ کی طرف نکلے، پھر امام کو چاہئے کہ وہ منیٰ کی طرف نکلے۔
حدیث نمبر: 15157
١٥١٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن ابن جريج عن عطاء قال: صلى رسول اللَّه ﷺ الظهر يوم التروية بمنى (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آٹھ ذوالحجہ کو ظہر کی نماز منیٰ میں ادا فرمائی۔
حدیث نمبر: 15158
١٥١٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد (الأحمر) (١) عن ابن جريج عن عطاء قال: كانت عائشة تمكث بمكة ليلة عرفة (مساء) (٢) يوم التروية عامة الليل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عرفہ کی رات اور یوم الترویہ کی شام مکہ میں ٹھہرتی تھیں۔
حدیث نمبر: 15159
١٥١٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ليث عن طاوس قال: صليت معه بمكة العشاء ليلة التروية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت طاؤس کے ساتھ آٹھ ذوالحجہ کی رات عشاء کی نماز مکہ میں ادا کی۔
حدیث نمبر: 15160
١٥١٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن يحيى بن سعيد عن القاسم قال: سمعت ابن الزبير يقول: إن من سنة الحج أن الإمام يصلي (بمنى) (١) الظهر والعصر والمغرب والعشاء والفجر، ثم يغدو (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن زبیر ارشاد فرماتے ہیں کہ حج کی سنتوں میں سے یہ ہے کہ امام ظہر، عصر مغرب اور عشاء اور فجر کی نماز منیٰ میں ادا کر پھر وہ آگے چلے۔
حدیث نمبر: 15161
١٥١٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن ابن جريج قال: قال عطاء: من شاء صلى (بمكة الظهر) (١)، ومن شاء صلى بمنى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جو چاہے ظہر مکہ مکرمہ ادا کرے اور جو چاہے منیٰ میں ادا کرے۔
حدیث نمبر: 15162
١٥١٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن إسماعيل بن عبد الملك قال: رأيت سعيد بن جبير يوم التروية صلى ركعتين في المسجد الحرام ثم خرج من مكة ماشيًا، حتى انتهى إلى منى، فصلى بها الظهر والعصر والمغرب والعشاء والفجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن عبد الملک فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر کو آٹھ ذوالحجہ کو دیکھا آپ نے مسجد حرام میں دو رکعتیں ادا فرمائیں، پھر آپ مکہ سے نکلے اور پیدل چلتے ہوئے منیٰ تشریف لائے اور ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نماز وہاں ادا فرمائی۔