کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: مستحاضہ عورت بیت اللہ کا طواف کرے گی
حدیث نمبر: 15144
١٥١٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن هاشم عن ابن (أبي) (١) ليلى عن عبد الكريم عن أبي ماعز قال: جاءت امرأة إلى النبي ﷺ فقالت: يا رسول اللَّه إني ⦗٣٥٧⦘ استحضت، قال: "دعي الصلاة أيامك التي هي أيامك، (ثم) (٢) اغتسلي واحشي كُرْسُفًا وطوفي بالبيت وصلي" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ماعز سے مروی ہے کہ ایک عورت سرکار دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے استحاضہ آگیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو تیرے ایام (مقررہ) ہیں ان میں نماز کو چھوڑ دے، پھر غسل کر کے اس کو روئی سے بھر دے اور بیت اللہ کا طواف کر اور نماز ادا کر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15144
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15144، ترقيم محمد عوامة 14744)
حدیث نمبر: 15145
١٥١٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن عبد العزيز بن رفيع عن مجاهد عن ابن عمر في المستحاضة قال: مرها فلتغتسل و (لتستنق) (١) (بجهدها) (٢) و (لتستذفر) (٣) بثوب نظيف ثم لتطف بالبيت (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما مستحاضہ عورت کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس کو حکم دو کہ وہ غسل کرے اور خوب کوشش کے ساتھ پاکی حاصل کرے اور شرم گاہ پر پاک کپڑا باندھ لے پھر بیت اللہ کا طواف کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15145
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15145، ترقيم محمد عوامة 14745)
حدیث نمبر: 15146
١٥١٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن (حميد) (١) (عن عطاء) (٢) عن عمار بن أبي عمار مولى بني هاشم قال: (جاءت) (٣) امرأة (إلى) (٤) ابن عباس فقالت: تطوف المستحاضة بالبيت؛ (قال) (٥): تقعد أيام (إقرائها) (٦) ثم ⦗٣٥٨⦘ تغتسل وتطوف بالبيت، قال: فقالت: هل تدخل الكعبة؟ قال: فقال: استدخلي واستذفري وادخلي (٧).
مولانا محمد اویس سرور
ایک عورت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ مستحاضہ عورت بیت اللہ کا طواف کرسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : اپنے (مقررہ دن عبادت کے مطابق) بیٹھی رہے، پھر غسل کر کے طواف کرے، اس نے عرض کیا کہ کیا مستحاضہ کعبہ میں داخل ہوسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ کوئی کپڑا وغیرہ باندھ لے پھر داخل ہوجا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15146
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15146، ترقيم محمد عوامة 14746)
حدیث نمبر: 15147
١٥١٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن عبد اللَّه بن مسلم عن سعيد بن جبير قال: سألته أتصلي المستحاضة؟ قال: نعم؛ وتحج البيت وإن سال على عقبيها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے دریافت کیا گیا کہ کیا مستحاضہ نماز پڑھ سکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں وہ بیت اللہ کا حج کرے گی اگرچہ خون اس کی ایڑھیوں پر بہہ رہا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15147
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15147، ترقيم محمد عوامة 14747)
حدیث نمبر: 15148
١٥١٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب والحسن أنهما قالا: تقضي المناسك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب اور حسن فرماتے ہیں کہ مستحاضہ حج کے تمام مناسک ادا کرے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15148
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15148، ترقيم محمد عوامة 14748)
حدیث نمبر: 15149
١٥١٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (حماد بن خالد) (١) عن (ابن) (٢) أبي ذئب عن الزهري قال: المستحاضة تطوف بالبيت وبين الصفا والمروة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زھری فرماتے ہیں کہ مستحاضہ بیت اللہ کا طواف بھی کرے گی اور صفا ومروہ کی سعی بھی کرے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15149
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15149، ترقيم محمد عوامة 14749)
حدیث نمبر: 15150
١٥١٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن همام عن عطاء عن امرأة من أهل مكة عن عائشة أنها طافت (بمستحاضة) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے مروی ہے کہ مکہ مکرمہ کی ایک خاتون فرماتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے طواف کرایا حالانکہ میں سستی ضد تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15150
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15150، ترقيم محمد عوامة 14750)
حدیث نمبر: 15151
١٥١٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أسباط بن محمد عن أشعث عن عطاء (قال) (١): تجلس المستحاضة استعدادها الذي كانت تجلس فيه، ثم (تحتشي) (٢) وتطوف بالبيت وتنفر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ مستحاضہ عورت اپنے (مقررہ) دن تک بیٹھی رہے گی، پھر وہ روئی رکھے گی اور غسل کرے گی اور بیت اللہ کا طواف کر کے چلی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15151
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15151، ترقيم محمد عوامة 14751)