حدیث نمبر: 15078
١٥٠٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عبيد اللَّه عن ابن عباس عن (الصعب) (١) بن جثامة قال: أهديت إلى رسول اللَّه ﷺ بالأبواء أو بودان حمار وحش وهو محرم (قال) (٢): (فرده) (٣)، وقال: "إنه ليس (منّا) (٤) (رد) (٥) عليك، ولكنا حرم" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت الصعب بن جثامہ فرماتے ہیں کہ مقام ابواء یا مقام ودّان میں، میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حمار وحشی کا گوشت پیش کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حالت احرام میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو لوٹا دیا اور فرمایا : ہمیں یہ گوشت واپس تیری طرف لوٹانے کا کوئی حق نہ تھا، مگر ہم حالت احرام میں ہیں۔
حدیث نمبر: 15079
١٥٠٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن حبيب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: أهدى الصعب (بن) (١) جثامة إلى رسول اللَّه ﷺ حمار وحش وهو محرم فرده عليه وقال: "لولا أنا محرمون لقبلناه منك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت صعب بن جثامہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حمار وحشی کا گوشت پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت حالت احرام میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو واپس کردیا اور فرمایا : اگر ہم حالت احرام میں نہ ہوتے تو آپ سے ضرور قبول کرتے۔
حدیث نمبر: 15080
١٥٠٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع عن ابن عمر أنه كره طري الصيد (وقديده) (١) للمحرم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے تازہ اور خشک دونوں قسم کے گوشت کو محرم کے لیے ناپسند کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15081
١٥٠٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يزيد عن مجاهد عن ابن عباس قال: أهدى الصعب بن (جثامة) (١) إلى رسول اللَّه ﷺ حمار وحش فقال: " (ردوا) (٢) إليه، إنا محرمون" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صعب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حمار وحشی کا ھدیہ بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو واپس کردو ہم تو حالت احرام میں ہیں۔
حدیث نمبر: 15082
١٥٠٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن الحسن بن مسلم عن طاوس أنه كان ينهي الحرام عن أكل الصيد، (وشيقة) (١) (أو) (٢) غيرها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس محرم کو منع فرماتے تھے کہ وہ شکار والا گوشت کھائے یا اس کو سفر میں زاد راہ بنائے یا کسی اور کام میں لائے۔
حدیث نمبر: 15083
١٥٠٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن عمرو عن أبي الشعثاء أنه كره أكله للمحرم ويتلو: ﴿وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا﴾ [المائدة: ٩٦].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الشعثائ محرم کے لیے اس کے کھانے کو ناپسند کرتے تھے، اور قرآن پاک کی یہ آیت تلاوت فرماتے { وَ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا }۔
حدیث نمبر: 15084
١٥٠٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة (قالت: قلت) (١) يا ابن أختي إنما هي ليال، ⦗٣٤٤⦘ (فإن تخلع) (٢) في صدرك شيء فدعه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا : اے بھتیجے ! بیشک یہ چند راتیں ہیں، اگر تیرے سینے میں کوئی چیز کھٹکے تو اس کو چھوڑ دے۔
حدیث نمبر: 15085
١٥٠٨٥ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا ابن عيينة عن عبد الكريم عن طاوس عن ابن عباس قال: هي (مبهمة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ گوشت مبھم ہے۔
حدیث نمبر: 15086
١٥٠٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن سماك عن معبد بن صبيح عن علي أنه كرهه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے کھانے کو ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 15087
١٥٠٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عبد الرحمن بن (زياد) (١) عن عبد اللَّه بن الحارث أن عثمان أهديت له حجل وهو في بعض حجاته وهو محرم، فأمر بها فطبخت فجعلت ثريدا فأتي بها في الجفان (ونحن محرمون) (٢)، فأكلوا كلهم إلا علي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان کے لیے سفید پیروں والا جانور ھدیہ لایا گیا آپ اس وقت حاجیوں کے ساتھ حالت احرام میں تھے، آپ نے اس کے پکانے کا حکم فرمایا : اس کی ثرید بنائی گئی اور پیالوں میں لائی گئی، ہم سب حالت احرام میں تھے ہم سب نے اس کو کھایا مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس میں سے تناول نہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 15088
١٥٠٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل قال: سألت الشعبي عنه فقال: قد اختلف (فيه، فلا تأكل) (١) منه أحب إلي.
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ اس کے متعلق اختلاف واقع ہوا ہے، میرے نزدیک پسندیدہ تو یہی ہے کہ تو اس کو نہ کھا۔