حدیث نمبر: 14718
١٤٧١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن خالد بن (عرعرة) (١) عن علي أن إبراهيم (٢) قال لابنه: ابغني حجرًا قال: فذهب، ثم جاء (وقد) (٣) ركبه، فقال: من أين هذا؟ قال: جاءني به من لم يتكل على (بنائك) (٤)، جاءني به جبريل من السماء (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابراہیم نے اپنے فرزند سے فرمایا : میرے لیے پتھر تلاش کر کے لاؤ، وہ چلے گئے پھر جب واپس آئے تو (کیا دیکھتے ہیں کہ) ابراہیم پتھر پر سوار ہیں، اسماعیل نے عرض کیا (ابا جان) یہ کہاں سے آیا ؟ آپ نے فرمایا میرے پاس لے کر آئے وہ جنہوں نے تیری بنا پر بھروسہ نہیں کیا، میرے پاس یہ پتھر حضرت جبرئیل آسمان سے لے کر آئے ہیں۔
حدیث نمبر: 14719
١٤٧١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن عطاء عن ابن عباس قال: الحجر من حجارة الجنة ولولا ما مسه من أنجاس أهل الجاهلية ما مسه من ذي عاهة إلا برأ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ جنت کے پتھروں میں سے ایک پتھر ہے، اور اگر اس کو اھل جاہلیت کے نجس لوگوں نے نہ چھوا ہوتا تو نہیں چھوتا اس کو کوئی آفت زدہ مگر اس سے بری (ٹھیک) ہوجاتا۔
حدیث نمبر: 14720
١٤٧٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن حصين عن مجاهد عن عبد اللَّه بن عمرو قال: لقد نزل الحجر من الجنة وإنه أشد بياضًا من الثلج، فما سوده إلا خطايا بني آدم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس پتھر کو جنت سے نازل فرمایا : بیشک یہ پتھر برف سے زیادہ سفید تھا اس کو بنی آدم کے گناہوں نے کالا کردیا۔
حدیث نمبر: 14721
١٤٧٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة (بن سليمان عن سعيد) (١) بن أبي عروبة عن قتادة قال: سئل كعب عن الحجر الأسود فقال: حجر من حجارة الجنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب سے حجر اسود کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ جنت کے پتھروں میں سے ایک پتھر ہے۔
حدیث نمبر: 14722
١٤٧٢٢ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): (حدثنا أبو أسامة عن شعبة عن) (٢) قتادة عن أنس قال: الحجر من حجارة الجنة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس ارشاد فرماتے ہیں کہ جنت کے پتھروں میں سے ایک پتھر ہے۔
حدیث نمبر: 14723
١٤٧٢٣ - (حدثنا أبو (بكر) (١) قال): (٢) حدثنا وكيع عن سوادة (بن) (٣) أبي الأسود عن أبيه (عن) (٤) عبد اللَّه بن عمرو قال: حجوا هذا البيت واستلموا هذا الحجر، فواللَّه ليرفعن أو ليصيبنه أمر من السماء إن (كانا لحجرين) (٥) أهبطا من الجنة، فرفع أحدهما وسيرفع الآخر، وإن لم يكن كما قلت، فمن مر على قبري فليقل هذا قبر عبد اللَّه بن عمرو (الكذاب) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ بیت اللہ کا حج کرو اور حجر اسود کا استلام کرو، اللہ کی قسم ضرور بضرور یہ اٹھا لیا جائے گا یا اس کو آسمان سے کوئی امر پیش آئے گا، بیشک جنت سے دو پتھر اتارے گئے تھے ایک تو اٹھا لیا گیا ہے اور عنقریب دوسرا بھی اٹھا لیا جائے گا، اور جو میں کہہ رہا ہوں ایسا نہ ہوا تو جو شخص میری قبر پر سے گزرے وہ یوں کہے کہ یہ (حضرت) عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی قبر ہے جو (نعوذ باللہ) جھوٹا ہے۔
حدیث نمبر: 14724
١٤٧٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن زياد مولى بني مخزوم قال: لولا ما مس الحجر من ذنوب بني آدم ما مسه (من) (١) ذي عاهة إلا برأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد جو بنو مخزوم کے غلام ہیں ان سے مروی ہے کہ اگر اس پتھر کو بنی نوع آدم کے گناہوں نے (گناہ گاروں) نے نہ چھوا ہوتا، تو اس کو کوئی آفت زدہ نہ چھوتا مگر وہ اس سے بری ہوجاتا۔