حدیث نمبر: 14668
١٤٦٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن (ابن) (١) (أبي) (٢) نجيح عن سليمان بن (ميناء) (٣) قال: سمعت عبد اللَّه (بن) (٤) (عمرو) (٥) يقول: إذا رأيتم قريشًا قد هدموا البيت، ثم بنوه، (فزوقوه) (٦)، فإن (استطعت) (٧) أن تموت فمت (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تم قریش کو دیکھو کہ وہ بیت اللہ کو منہدم کر کے اس کی دوبارہ تعمیر اور نقش ونگار کر رہے ہیں، تو اگر تم طاقت رکھتے ہو تو ان کو اس سے روکو اگر اس معاملہ میں تمہاری جان چلی جاتی ہے تو جان قربان کرنے سے دریغ نہ کرو۔
حدیث نمبر: 14669
١٤٦٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء (عن أبيه) (١) قال: كنت، (آخذًا) (٢) بلجام دابة عبد اللَّه بن (عمرو) (٣) فقال: كيف أنتم إذا ⦗٢٥١⦘ هدمتم هذا البيت فلم تدعوا حجرا (على حجر؟) (٤) قالوا: ونحن على الإسلام؟ قال: ونحن على الإسلام، (قلت) (٥): ثم ماذا؟ قال: ثم (يبنى) (٦) أحسن ما كان، فإذا رأيت مكة (قد) (٧) (بعجت) (٨) (كظائم) (٩) ورأيت البناء يعلو رؤوس الجبال فاعلم أن الأمر قد أظلك (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی لگام کو پکڑا ہوا تھا، آپ نے فرمایا : اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم لوگ اس بیت اللہ کو منہدم کرو گے اور کوئی پتھر کسی پتھر پر نہیں چھوڑو گے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ کیا اس وقت ہم اسلام پر ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : (ہاں) اس وقت ہم اسلام پر ہوں گے، میں نے عرض کیا کہ پھر ایسا کیوں ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : پھر اس کو اس سے اچھی تعمیر پر بنایا جائے گا، جب تم دیکھو کہ مکہ مکرمہ میں پانی کی چھوٹی نہریں نکل پڑی ہیں اور تم دیکھو کہ عمارتیں پہاڑوں سے بلند ہیں تو جان لینا کہ معاملہ تمہارے قریب آگیا ہے (قیامت قریب ہے) ۔
حدیث نمبر: 14670
١٤٦٧٠ - حدثنا أبو بكر (قال) (١): حدثنا يزيد بن هارون عن حميد (عن) (٢) (بكر) (٣) بن عبد اللَّه المزني عن عبد اللَّه بن (عمر) (٤) قال: تمتعوا من هذا البيت قبل أن يرفع، فإنه سيرفع ويهدم مرتين ويرفع في الثالثة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ بیت اللہ کے اٹھائے جانے سے قبل اس سے فائدہ حاصل کرلو، بیشک عنقریب یہ اٹھایا جائے گا اور منہدم ہوگا دو بار، اور پھر اٹھایا جائے گا تیسری بار۔
حدیث نمبر: 14671
١٤٦٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن عبد الملك عن ابن أبي مليكة عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "لو كان عندنا سعة لهدمت الكعبة ولبنيتها وجعلت لها بابين بابا يدخل منه الناس وبابا يخرجون منه"، (قال) (١): ⦗٢٥٢⦘ فلما ولي ابن الزبير هدمها فجعل لها بابين، فكانت كذلك، فلما ظهر الحجاج عليه هدمها، وأعاد بناءها الأول (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور اقدس نے ارشاد فرمایا : اگر میرے پاس گنجائش (اور طاقت) ہو تو میں کعبہ گراؤں اور اس کی دوبارہ تعمیر اس طرح کروں کہ اس میں دو دروازے بناؤں، ایک دروازہ لوگوں کے داخل ہونے کے لیے اور دوسرا دروازہ جس سے وہ باہر نکلیں، راوی کہتے ہیں کہ جب حضرت عبد اللہ بن زبیر امیر بنے تو آپ نے کعبہ کو گرایا اور آپ نے اس کے دو دروازے بنائے، پھر یہ اسی طرح رہا، جب حجاج بن یوسف آپ پر غالب آیا تو اس نے خانہ کعبہ کو گرا کر اس کو پہلی طرز پر دوبارہ تعمیر کردیا۔