کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: خانہ کعبہ کو کون سا شخص گرائے گا؟
حدیث نمبر: 14659
١٤٦٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن زياد بن سعد عن الزهري عن سعيد بن المسيب: سمع أبا هريرة يقول عن النبي ﷺ: "يخرب الكعبة ذو السويقتين من الحبشة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : خانہ کعبہ کو حبشہ کا چھوٹی پنڈلیوں والا شخص منہدم کرے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14659
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٥٩١)، ومسلم (٢٩٠٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14659، ترقيم محمد عوامة 14297)
حدیث نمبر: 14660
١٤٦٦٠ - حدثنا أبو بكر (قال) (١): (حدثنا) (٢) إسحاق الأزرق عن هشام بن حسان عن حفصة عن أبي العالية عن علي بن أبي طالب قال: كأني أنظر إلى رجل من الحبش أصلع أصمع (حمش) (٣) الساقين جالس عليها وهو (يهدمها) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب ارشاد فرماتے ہیں کہ گویا کہ میں حبشہ کے اس شخص کو دیکھ رہا ہوں جس کے سر کے بال آگے سے اڑے ہوئے ہیں، چھوٹے کانوں اور چھوٹی پنڈلیوں والا اس پر بیٹھا اس کو منہدم کر رہا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14660
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14660، ترقيم محمد عوامة 14298)
حدیث نمبر: 14661
١٤٦٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد سمع ابن عمرو يقول: كأني به (أصيلع) (١) (أفيدع) (٢) قائم عليها يهدمها بمسحاته (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما و فرماتے ہیں کہ گویا کہ وہ شخص جس کے سر کے بال اڑے ہوئے ہیں اور پاؤں اور ہاتھوں کے جوڑوں میں ٹیڑھا پن ہے اس پر کھڑا ہے اور اس کو گرا رہا ہے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب ابن زبیر نے گرایا تو میں نے وہ صفات آپ میں دیکھنے کی کوشش کی جو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما و نے بیان فرمائیں تھی لیکن میں نے اس کو نہ پایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14661
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14661، ترقيم محمد عوامة 14299)
حدیث نمبر: 14662
١٤٦٦٢ - فلما هدمها ابن الزبير جعلت أنظر إلى صفة ابن (عمرو) (١) فلم أرها (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14662
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14662، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 14663
١٤٦٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن (داود) (١) بن شابور عن مجاهد قال: لما أجمع ابن الزبير على هدمها خرجنا إلى منى ثلاثًا ننتظر العذاب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن زبیر نے کعبہ کو گرانے کے لیے لوگوں کو جمع کیا تو ہم لوگ تین دن کے لیے منیٰ چلے گئے اور اللہ کے عذاب کا انتظار کرتے رہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14663
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14663، ترقيم محمد عوامة 14300)
حدیث نمبر: 14664
١٤٦٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن سلمة بن كهيل عن ⦗٢٤٩⦘ أبي صادق عن (حنش) (١) الكناني عن عليم الكندي عن سلمان قال: (ليحرقن) (٢) هذا البيت على يدي رجل من آل الزبير (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ آل زبیر کے ایک شخص کے ہاتھ سے کعبہ منہدم کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14664
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف حنش، أخرجه عبد الرزاق (٩١٨٤)، والأزرقي ١/ ١٩٧، وابن عساكر ٢٨/ ٢٢١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14664، ترقيم محمد عوامة 14301)
حدیث نمبر: 14665
١٤٦٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن مجاهد قال: لما هدم البيت، وجد فيه صخرة مكتوب فيها: أنا اللَّه ذو بكة صغته يوم صغت الشمس والقمر، حففته بسبعة أملاك (حلقًا) (١)، باركت لأهله في السمن والسمين، لا يزول حتى (يزول) (٢) الأخشبان: يعني الجبلين، وأول من يحلها أهلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب بیت اللہ کو گرایا گیا تو ایک پتھر ملا جس پر یہ تحریر تھا : میں خدا ہوں مکہ شہر کا مالک، میں نے اس کو اس دن بنایا تھا جس دن میں نے چاند وسورج کو بنایا تھا، میں نے اس کو سات سیدھی املاک سے ڈھانپا ہے۔ میں نے ان کے رہنے والوں کے لیے گھی اور سالن میں برکت رکھی ہے، اور یہ نہیں زائل ہوگا یہاں تک کہ یہ دو پہاڑ زائل اور ختم ہوجائیں اور سب سے پہلے اس حرمت کا حلال سمجھنے والے اس کے رہائشی ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14665
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14665، ترقيم محمد عوامة 14302)
حدیث نمبر: 14666
١٤٦٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سلمة بن (نبيط) (١) عن الضحاك بن مزاحم قال: لما كسو البيت جاء سيل، فقلب حجرًا من حجارة البيت فإذا مكتوب فيه: أنا اللَّه ذو بكة صغته يوم صغت الجبلين، بنيته على (وجوه) (٢) سبعة أملاك حنفاء ليسوا (بيهود) (٣) ولا نصارى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک بن مزاحم فرماتے ہیں کہ جب بیت اللہ کو منہدم کیا گیا تو ایک سیلاب نما پانی کا ریلا آیا جس نے بیت اللہ کے ایک پتھر کو الٹ دیا تو اس پر تحریر تھا : میں بیت اللہ والا خدا ہوں، میں نے اس کو اس دن بنایا جس دن میں نے پہاڑوں کو بنایا اور میں نے اس کو سات سیدھی املاک کے سامنے بنایا جو یہودی اور عیسائی نہ تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14666
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14666، ترقيم محمد عوامة 14303)
حدیث نمبر: 14667
١٤٦٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا زكريا عن عامر قال: حدثني من قرأ كتابا في (تخت في) (١) سقف البيت أو أسفل مقام إبراهيم: أنا اللَّه ذو ⦗٢٥٠⦘ بكة بنيته على وجوه سبعة أملاك حنفاء، باركت لأهله في اللحم والماء وجعلت رزق أهله من ثلاثة سبل، ولا يستحل حرمته أول من أهله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا جس نے وہ مکتوب پڑھا جو بیت اللہ کی چھت کی دیواروں سے یا مقام ابراہیم کے نیچے سے ملا تھا (اس میں تحریر تھا) میں بیت اللہ والا خدا ہوں، میں نے اس کو سات املاک کے سامنے بنایا ہے، میں نے اس کے رہنے والوں کے لیے کھانے پینے (گوشت اور پانی) کی چیزوں میں برکت رکھی، اور اس کے رہنے والے کے رزق کو تین راستوں سے بنایا اور سب سے پہلے اس کی حرمت کو حلال سمجھنے والے اس کے اھل ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14667
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14667، ترقيم محمد عوامة 14304)