حدیث نمبر: 14651
١٤٦٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر وابن فضيل عن يزيد بن أبي زياد قال: حدثنا عبد الرحمن بن سابط عن عياش بن أبي ربيعة المخزومي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تزال هذه الأمة بخير ما عظموا هذه (الحرمة) (١) (حق) (٢) تعظيمها، فإذا ضيعوا ذلك هلكوا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیاش بن ابو ربیعہ المخزومی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ امت ہمیشہ خیر پر رہے گی جب تک کہ یہ لوگ بیت اللہ کی تعظیم کا حق ادا کرتے رہیں گے اور جب انھوں نے اس کے حق اور عظمت کو ضائع کردیا تو یہ لوگ ھلاک ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 14652
١٤٦٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يزيد عن مجاهد عن (ابن عباس) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "هذه حرم -يعني مكة-[(حرمها) (٢) اللَّه (يوم خلق السموات والأرض، ووضع هذين الأخشبين، لم تحل لأحد قبلي، ولم تحل لأحد بعدي، ولم تحل لي إلا) (٣) ساعة من نهار، لا يعضد شوكها ولا ينفر صيدها ولا يختلى خلاها ولا يرفع لقطتها إلا لمنشد"، فقال العباس: يا رسول اللَّه إن أهل مكة لا صبر لهم عن الإذخر لقينهم وبنيانهم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إلا (الإذخر) (٤)] (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ مکہ مکرمہ حرم ہے، اللہ تعالیٰ نے جس دن زمین و آسمان کو پیدا فرمایا اس دن اس کو حرم بنایا اور اس کو دو لکڑیوں (شہتیریوں) پر رکھا، میرے سے پہلے اور میرے بعد یہ کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور میرے لیے بھی دن کے کچھ حصہ میں حلال ہوا تھا، اس کے کانٹوں کو نہیں اکھیڑا جائے گا اور اس کے شکار کو نہیں بھگایاجائے گا اور اس کی گھاس وغیرہ (جڑی بوٹیاں) نہیں کاٹی جائیں گی اور اس میں گری ہوئی چیز نہیں اٹھائیں گے، سوائے اس کی تشہیر کرنے کے۔ حضرت عباس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مکہ والے تعمیرات کے سلسلہ میں اذخر پر صبر نہیں کرسکتے (اس کو وہ ضرور کاٹیں گے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سوائے اذخر کے (اس کو کاٹ سکتے ہیں) ۔
حدیث نمبر: 14653
١٤٦٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مسعر عن عمرو بن مرة عن طلق ابن حبيب قال: قال عمر: يا أهل مكة اتقوا اللَّه في حرم اللَّه، أتدرون من كان ساكن (هذا البلد) (١)؟ كان به بنو فلان، فأحلوا حرمه، فأهلكوا، وكان به بنو فلان، فأحلوا حرمه، فأهلكوا، حتى ذكر ما شاء اللَّه من قبائل العرب أن يذكر، ثم قال: لأن أعمل عشر خطايا (بركبة) (٢) أحب إلي من أن أعمل هاهنا خطيئة واحدة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : اے اہل مکہ ! اللہ سے ڈرو اللہ کے حرم کے بارے میں، کیا تم جانتے ہو کہ اس شہر میں کون رہا ہے ؟ فلاں قبیلہ نے اس کی حرمت کو حلال سمجھا تو وہ ھلاک کردیئے گئے، اور فلاں قبیلہ نے اس کی حرمت کو حلال سمجھا تو وہ ھلاک کر دئیے گئے، یہاں تک کہ ذکر کیا جو اللہ پاک نے چاہا عرب کے قبائل میں سے کہ ان کو ذکر کیا جائے، پھر فرمایا کہ میں مقام رکبہ میں دس غلطیاں (گناہ) کروں یہ مجھے اس سے پسند ہے کہ میں یہاں پر (حرم) میں ایک غلطی (گناہ) کروں۔
حدیث نمبر: 14654
١٤٦٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن (السدي) (١) (عن مرة) (٢) عن عبد اللَّه قال: من هم بسيئة لم تكتب عليه حتى يعملها، وإن هم (و) (٣) (هو بعدن) (٤) أبين أن (يقتل) (٥) عند المسجد الحرام، أذاقه اللَّه من عذاب أليم ثم قرأ: ﴿وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ﴾ [الحج: ٢٥] (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص گناہ اور برائی کا ارادہ کرے تو جب تک وہ اس پر عمل نہ کرے وہ لکھا نہیں جاتا، لیکن اگر کوئی شخص حرم میں گناہ کا ارادہ کرے کہ وہ مسجد حرام کے پاس قتل کرے گا تو اللہ پاک اس کو درد ناک عذاب چکھائیں گے پھر آپ نے سورة الحج کی یہ آیت تلاوت فرمائی، { وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْہِ بِاِلْحَادٍ بِظُلْمٍ }۔
حدیث نمبر: 14655
١٤٦٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي (سليمان) (١) عن عبد اللَّه بن عمرو قال: إن الحرم محرم في السماوات السبع مقداره من الأرض، وإن (البيت) (٢) المقدس (مقدس) (٣) في السماوات السبع مقداره من الأرض (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ حرم تمام آسمانوں میں (سات آسمان) محترم ومقدس ہے اور اس کی پیمائش زمین سے ہے اور بیت المقدس ساتوں آسمانوں میں مقدس اور محترم ہے اور اس کی پیمائش زمین سے ہے۔
حدیث نمبر: 14656
١٤٦٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يزيد بن أبي زياد عن ابن سابط قال: كان الناس إذا كان الموسم بالجاهلية خرجوا فلم يبق أحد بمكة، وإنه تخلف رجل سارق فعمد إلى قطعة من ذهب فوضعها، ثم دخل ليأخذ أيضا فلما أدخل رأسه (صره) (١) البيت، فوجدوا رأسه في البيت واسته خارجه، فألقوه للكلاب واصلحوا البيت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سابط فرماتے ہیں کہ لوگ جاہلیت میں میلہ پر نکلے تو مکہ میں کوئی شخص بھی باقی نہ رہا، ایک شخص جو چور تھا وہ پیچھے رہ گیا اور اس نے سونے کے ایک ٹکڑے کے چوری کرنے کا ارادہ کیا اور اس کو رکھ دیا، پھر بعد میں جب وہ داخل ہوا تاکہ اس کو سونے کے ٹکڑے کو اٹھا لے، جب اس نے اپنا سر داخل کیا تو دروازہ اس پر تنگ ہوگیا، لوگوں نے اس کے سر بیت اللہ میں اور اس کی پشت کو باھر پایا تو اس کو اٹھا کر کتوں کے لیے پھینک دیا اور بیت اللہ صاف وپاک کردیا۔
حدیث نمبر: 14657
١٤٦٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن مجاهد عن عبد اللَّه بن عمرو: أنه كان له فسطاطان: أحدهما في الحرم والآخر في (الحل) (١)، فإذا أراد أن يصلي صلى في الذي في الحرم، وإذا كانت له الحاجة إلى أهله جاء إلى الذي في الحل، فقيل له في ذلك، فقال: إن مكة (بكة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے دو خیمے ہوتے، ایک خیمہ حرم میں اور دوسرا خیمہ حرم کے باہر، اگر نماز پڑھنے کا ارادہ کرتے تو اس خیمہ میں پڑھتے تو جو حرم میں ہوتا اور اگر ان کو گھریلو ضرورت پیش آتی تو اس خیمہ میں تشریف لے جاتے جو حرم سے باھر ہوتا، ان سے اس کی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا کہ بیشک مکہ تو مکہ (قابل احترام و عظمت) ہے۔
حدیث نمبر: 14658
١٤٦٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب عن خالد عن عكرمة قال: قلت له: ما لا ينفر صيدها؟ قال: تحوله من الظل (إلى) (١) الشمس وتنزل مكانه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عکرمہ سے عرض کیا کہ (حدیث میں ہے کہ) اس کے شکار کو نہ بھگاؤ (اس کا کیا مطلب ہے) آپ نے فرمایا کہ تم اس کو سائے سے دھوپ میں منتقل کر کے خود اس کی جگہ اترو اور ٹھہرو یہ مراد ہے۔