کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص مکہ مکرمہ سے نکلے تو وہ یوں نہ کہے کہ میں حج کرنے والا ہوں (حاجی ہوں) اور وہ کیا کہے
حدیث نمبر: 14640
١٤٦٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن عاصم عن أنس قال: إذا خرجت وأنت تريد الحج فلا تقل: إني حاج حتى تهل، قال: (فقلت) (١): أي (شيء) (٢) أقول؟ قال: قل إني مسافر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تم نکلو اور تمہارا ارادہ حج کرنے کا ہو تو جب تک احرام نہ باندھ لو یوں مت کہو کہ میں حج کرنے والا ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا تو پھر میں کیا کہوں ؟ آپ نے فرمایا کہ یوں کہو کہ میں مسافر ہوں۔
حدیث نمبر: 14641
١٤٦٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن (العلاء) (١) بن المسيب (عن) (٢) خيثمة قال: قال عبد اللَّه: من أراد هذا الوجه فلا يقل إني حاج (إنما) (٣) الحاج المحرم، وليقل إني وافد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جو حج کے لیے نکلنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ یوں نہ کہے کہ میں حج کرنے جا رہا ہوں، کیونکہ حاجی تو وہ ہے جو محرم ہے، اس کو چاہئے کہ وہ یوں کہے کہ میں مسافر، قاصد ہوں۔
حدیث نمبر: 14642
١٤٦٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن مغيرة عن إبراهيم في الرجل (يحج) (١)، فيبدو له أن يرجع قبل أن يحرم، قال: لا بأس أن يرجع قبل أن يحرم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے دریافت کیا گیا کہ کوئی حج کرنے جا رہا ہو، پھر احرام باندھنے سے قبل واپس لوٹنا ظاہر ہوجائے ؟ آپ نے فرمایا کہ احرام باندھنے سے قبل واپس جانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 14643
١٤٦٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن عبد الملك بن أبي (غنية) (١) عن أبيه عن الحكم قال: إذا خرج الرجل إلى مكة، ثم بدا له أن يرجع رجع ما لم يهل بالحج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص مکہ مکرمہ سے حج کی نیت سے نکلے پھر اس کو واپس لوٹنا پڑجائے تو جب تک اس نے حج کے لیے احرام نہیں باندھا واپس لوٹ سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 14644
١٤٦٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن ليث عن عطاء وطاوس (قالا) (١): إن شاء (تم، وإن شاء) (٢) رجع (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اور حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ اگر چاہے تو حج مکمل کرے اور اگر چاہے تو واپس لوٹ جائے۔