حدیث نمبر: 14575
١٤٥٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي حصين قال: ⦗٢٢٧⦘ رأيت (سعيد) (١) بن جبير (٢) [وحبيب) (٣) بن أبي ثابت] (٤) ورجلًا من قريش بعد ما أفاض الإمام عشية عرفة، فقام سعيد بن جبير (وأذن) (٥) وأم القرشي بعدما أفاض الإمام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حصین فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر، حضرت حبیب بن ابو ثابت اور ایک قریشی کو عرفہ کی شام امام کے مزدلفہ چلے جانے کے بعد دیکھا، حضرت سعید بن جبیر کھڑے ہوئے اور آپ نے اذان دی اور اس قریشی شخص نے امام کے چلے جانے کے بعد امامت کروائی۔
حدیث نمبر: 14576
١٤٥٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن أبي (شرقي) (١) عن (أبي) (٢) عثمان النهدي أنه صلى مع عمر سنتين المغرب دون جمع (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان النھدی سے مروی ہے کہ انہوں نے دو سال حضرت عمر کے ساتھ مغرب کی نماز مزدلفہ سے پہلے پڑھی۔
حدیث نمبر: 14577
١٤٥٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (حسن) (١) بن صالح عن عبد الأعلى عن سعيد (بن) (٢) جبير عن ابن عباس: أنه صلى دون جمع (بالأجبال) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مغرب کی نماز مزدلفہ پہنچنے سے قبل ہی پہاڑوں پر ادا کی۔
حدیث نمبر: 14578
١٤٥٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن أبي الزبير عن جابر قال: لا صلاة إلا بجمع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر ارشاد فرماتے ہیں کہ نماز مغرب مزدلفہ پہنچ کر ہی ادا کرے۔
حدیث نمبر: 14579
١٤٥٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن خالد بن أبى عثمان قال: رأيت أبان بن عثمان صلى المغرب في الشعب قبل أن يأتي جمعًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابو عثمان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبان ابن عثمان کو دیکھا آپ نے مغرب کی نماز مزدلفہ پہنچنے سے قبل ہی راستہ میں ادا کی۔
حدیث نمبر: 14580
١٤٥٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ بن (معاذ) (١) عن ابن عون عن محمد قال: لا أعلم الصلاة ليلة جمع (إلا بجمع) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ مغرب کی نماز مزدلفہ میں ہی ادا کی جائے، (اس کے علاوہ مجھے کوئی اور بات معلوم نہیں) ۔
حدیث نمبر: 14581
١٤٥٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن السكن بن المغيرة قال: صلى بنا سالم المغرب قبل أن يأتي (جمعًا) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سکن بن المغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت سالم نے مغرب کی نماز مزدلفہ پہنچنے سے قبل ہی ہمیں پڑھائی۔
حدیث نمبر: 14582
١٤٥٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن ليث عن مجاهد قال: لا (تصلي) (١) المغرب إلا بجمع إلا أن (تخطي طريقك) (٢) أو (تضل) (٣) راحلتك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ مغرب کی نماز مزدلفہ میں ہی ادا کرو، ہاں اگر تم راستہ بھٹک جاؤ یا تمہاری سواری تمہیں راستہ میں بھٹکا دے (گمراہ کر دے) تو راستہ میں ادا کرسکتے ہو۔
حدیث نمبر: 14583
١٤٥٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن ابن جريج عن عطاء قال: (أرأيت) (١) إن (صلاها) (٢) (في الطريق) (٣) قال: لا بأس ⦗٢٢٩⦘ (قال) (٤): قلت: أرأيت إن صلى المغرب في الطريق والعشاء بجمع، قال: لا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے عرض کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے اگر میں مغرب و عشاء کی نماز راستہ میں ادا کروں ؟ آپ نے فرمایا : کوئی حرج نہیں، میں نے عرض کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے اگر میں مغرب کی نماز راستہ میں ادا کرلوں اور عشاء کی نماز مزدلفہ میں ؟ آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 14584
١٤٥٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن (يحيى) (١) بن سعيد قال: كان (عمر بن) (٢) عبد العزيز (واقفًا) (٣) بعرفة، فقال: (يا) (٤) أيها الناس (قد) (٥) جئتم من القريب والبعيد، وإنكم وفد غير واحد، وإن السابق ليس الذي تسبق دابته ولا بعيره، وإن السابق من (غفر) (٦) اللَّه له ذنبه، فناداه رجل أين أصلي المغرب؟ قال: أين (أدركتك من واديك) (٧) هذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز عرفہ میں کھڑے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے اے لوگو ! تم لوگ قریب اور دور سے آئے ہو، بیشک تم لوگ ایک وفد (جماعت) میں نہیں ہو، تم میں پہلے جانے والا (سبقت لے جانے والا) وہ نہیں ہے جس کی سواری اور اونٹ نے اس کو آگے کردیا بلکہ سبقت لے جانے والا وہ ہے جس کے گناہ اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیئے، ایک شخص نے بلند آواز میں پوچھا کہ ہم مغرب کی نماز کہاں ادا کریں ؟ آپ نے فرمایا جس وادی میں تم مغرب کا وقت پالو وہیں ادا کرلو۔
حدیث نمبر: 14585
١٤٥٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عايذ) (١) بن حبيب عن هشام بن عروة عن أبيه أنه (كان) (٢) إذا أفاض من عرفات ربما (صلى) (٣) في الشعب الأيسر على الجبل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ جب عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانہ ہوتے تو بعض اوقات مغرب کی نماز راستہ میں پہاڑ پر ادا کرتے۔
حدیث نمبر: 14586
١٤٥٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (بن) (١) أبي عدي عن أشعث عن الحسن ⦗٢٣٠⦘ قال: (كان) (٢) يكره أن يصلي دون جمع، فإن فعل أجزأ عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن نماز مغرب مزدلفہ پہنچنے سے قبل ادا کرنے کو ناپسند کرتے تھے، اور اگر کوئی شخص پہلے ہی پڑھ لے تو اس کی طرف سے نماز ادا ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 14587
١٤٥٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن زمعة عن ابن طاوس عن أبيه أنه كان يكره الصلاة دون المزدلفة إلا (من ضرورة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس ضرورت کے علاوہ مزدلفہ سے قبل نماز ادا کرنے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 14588
١٤٥٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مبارك عن إبراهيم بن عقبة عن كريب قال: (أخبرني) (١) أسامة بن زيد قال: أفضت مع رسول اللَّه ﷺ من عرفات فلما كان ببعض الطريق قلت: الصلاة (فقال: "الصلاة) (٢) أمامك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ بن زید فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عرفات سے نکلا، جب ہم راستے میں پہنچے تو میں نے عرض کیا نماز، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نماز تمہارے آگے ہے (آگے چل کر ادا کریں گے) ۔
حدیث نمبر: 14589
١٤٥٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم عن الأسود عن عمر أنه صلاهما بجمع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر نے مغرب و عشاء منیٰ میں ادا فرمائی۔