حدیث نمبر: 14493
١٤٤٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ابن جريج ⦗٢٠٥⦘ عن عطاء [(قال) (١): لا بأس بالغناء والحداء والشعر للمحرم، ما لم يكن فحشًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ محرم کے لیے ایسے گانے، حدی یا اشعار پڑھنے میں کوئی حرج نہیں جس میں فحش اور شرکیہ کلام نہ ہو۔
حدیث نمبر: 14494
١٤٤٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن عطاء] (١) بن السائب قال: كان عمر يأمر رجلًا فيحدو (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن السائب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ایک شخص کو حکم فرماتے تو وہ حدی پڑھتا۔
حدیث نمبر: 14495
١٤٤٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن محمد بن القاسم قال: سمعت الحسن وسئل عن الحداء قال: كان [المسلمون يفعلونه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن قاسم فرماتے ہیں کہ حسن سے اونٹوں کی حدی کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا مسلمان (صحابہ کرام) اس طرح کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 14496
١٤٤٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن إبراهيم بن عبد الأعلى قال: كان] (١) سويد بن غفلة يأمر غلامًا له فيحدو لنا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن عبد الاعلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت سوید بن غفلہ نے اپنے غلام کو حکم فرمایا کہ وہ ہمارے (اونٹوں) کے لیے حدی پڑھے۔
حدیث نمبر: 14497
١٤٤٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن حسن بن أبي جعفر عن يزيد الأعرج قال: سمعت (مورجًا) (١) يحدو في طريق مكة وهو يقول: لو تكلمن لاشتكين (راشدا) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن الأعرج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مورق کو مکہ کے راستہ پر ان الفاظ کے ساتھ حدی پڑھتے ہوئے سنا کہ اگر وہ بول سکتیں تو راہ رو سے شکایت کرتیں۔
حدیث نمبر: 14498
١٤٤٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أسامة بن زيد (عن زيد) (١) بن ⦗٢٠٦⦘ أسلم عن أبيه قال: سمع عمر بن الخطاب رجلا (بفلاة) (٢) من الأرض وهو يحدو بغناء الركبان فقال عمر: إن هذا من زاد الراكب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب نے سنا کہ ایک شخص سواریوں کے لیے گانے والی حدی پڑھ رہا ہے آپ نے فرمایا : یہ سوار کا زاد راہ ہے۔
حدیث نمبر: 14499
١٤٤٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن (العوام) (١) عن حصين عن مجاهد أن النبي ﵇ لقي قوما فيهم (حادٍ) (٢) يحدو، فلما (رأوا) (٣) النبي ﵇ سكت حاديهم، (فقال) (٤): "من القوم؟ " (فقالوا) (٥): من مضر (٦)، فقال رسول اللَّه ﷺ: " (وأنا من مضر) (٧) " (فقال رسول اللَّه ﷺ: " [ما شأن حاديكم لا يحدو؟ " فقالوا: يا رسول اللَّه] (٨) إنا أول العرب حداء، قال: "ومِمَّ ذلك؟ " (٩) قال: إن رجلًا منا -وسموه (له) (١٠) - غرب عن أبله في أيام الربيع فبعث غلاما له مع الإبل (قال) (١١): فأبطأ الغلام، فضربه بعصى على يده، فانطلق الغلام وهو يقول: ⦗٢٠٧⦘ يا يداه (يا يداه) (١٢) قال: فتحركت الإبل لذلك (ونشطت) (١٣)، قال: فقال له: أمسك أمسك، قال: (فافتتح) (١٤) الناس الحداء (١٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک قوم سے ملاقات ہوئی جن میں حدی پڑھنے والے تھے، جب ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو ان کا حدی خوان خاموش ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : کون سی قوم کے لوگ ہیں، لوگوں نے عرض کیا قبیلہ مضر میں سے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں بھی مضر میں سے ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے حدی خوان کو کیا ہوا ہے کہ وہ حدی نہیں پڑھتا ؟ لوگوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم عرب کے پہلے حدی خواں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ کس طرح شروع ہوا ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم میں ایک شخص تھا پھر اس کا نام لیا ایام ربیع میں اپنے اونٹ سے دور تھا، اس نے اپنے ایک غلام کو اونٹ کے ساتھ روانہ کیا، غلام کو دیر ہوگئی۔ اس پر اس نے غلام کے ہاتھ پر اپنی لاٹھی ماری تو غلام یہ کہتے ہوئے تیز تیز چلنے لگا کہ : ہائے میرا ہاتھ، ہائے میرا ہاتھ، غلام کے اس قول کی وجہ سے اونٹ میں بھی حرکت پیدا ہوئی اور وہ بھی تیز اور چست ہو کر چلنے لگا، اس شخص نے اس کو کہا رک جا، رک جا، پھر لوگوں نے (اس واقعہ کے بعد) حدی پڑھنا شروع کردی۔