کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس شخص کے بارے میں جو حج تمتع میں (قربانی نہ کرنے کے سبب) روزے رکھ رہا ہو اور اپنے سینے کو اس کے ساتھ لگا رہے ہیں
حدیث نمبر: 14318
١٤٣١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير بن عبد الحميد عن مغيرة عن إبراهيم في الرجل يصوم (المتعة) (١)، ثم يجد الهدي قبل أن يتم صومه، قال: يترك الصوم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص حج تمتع کے روزے رکھ رہا ہو، پھر وہ روزے مکمل کرنے سے قبل ہی ھدی پالے تو وہ روزے رکھنا ترک کر دے۔
حدیث نمبر: 14319
١٤٣١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ليث عن عطاء في رجل (صام) (١) الثلاثة (أيام) (٢) في الحج ثم (أيسر) (٣) (وهو بمكة) (٤) أن عليه الهدي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ جو ایام حج میں تین روزے رکھے پھر مکہ میں ہی اس کو ھدی میسر آجائے تو اس پر قربانی لازم ہے۔
حدیث نمبر: 14320
١٤٣٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شريك عن عبد الكريم عن سعيد ابن جبير وعكرمة قالا: إذا أيسر قبل أن يحلق فليذبح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر اور حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ اگر حلق کروانے سے قبل ہی قربانی کا جانور میسر آجائے تو وہ اس کو ذبح کرے۔
حدیث نمبر: 14321
١٤٣٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي (رواد) (١) عن ابن جريج عن مجاهد أنه كان يقول: في فدية الصيام أو صدقة أو (نسك) (٢)، في يسره ذلك في (حجه) (٣) وعمرته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد روزے کے فدیہ میں فرماتے ہیں کہ اپنے حج اور عمرہ کے دوران قربانی میسر ہو تو وہ کرلے یا صدقہ کر دے۔
حدیث نمبر: 14322
١٤٣٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن (أبي) (١) رواد عن ابن جريج عن سليمان بن موسى قال: إن كان في الحج (فحتى) (٢) يحل، وإن كان في العمرة فحتى يطوف بالبيت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن موسیٰ فرماتے ہیں کہ اگر وہ حج میں ہے تو جب تک حلال نہ ہوجائے، اور اگر وہ عمرہ میں ہے تو جب تک بیت اللہ کا طواف نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 14323
١٤٣٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل بن مسلم عن عطاء وابن سيرين (والحسن) (١) قالوا: إذا صمت في متعة الحج ثم وجدت (قبل أن تفرغ من صيامك فكفر وإن وجدت) (٢) وقد فرغت من صيامك فليس عليك كفارة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء ، حضرت ابن سیرین اور حسن فرماتے ہیں کہ اگر آپ نے حج میں روزے رکھے ہیں پھر اپنے روزوں سے فارغ ہونے سے قبل ہی آپ نے قربانی کو پا لیا تو کفارہ ادا کرو اور اگر روزے مکمل ہونے کے بعد پایا تو پھر آپ پر کفارہ نہیں ہے۔