کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات نے احرام باندھتے وقت خوشبو لگانے کو ناپسند کیا ہے
حدیث نمبر: 14001
١٤٠٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع عن (أسلم) (١) مولى عمر (أن عمر) (٢) وجد ريح طيب وهو (بذي) (٣) الحليفة [فقال: ⦗٨٨⦘ (ممن) (٤) هذا؟] (٥) فقال معاوية: مني. فقال: أمنك لعمري؟ قال: يا أمير المؤمنين لا تعجل عليّ، فإن أم حبيبة طيبتني وأقسمت عليّ، قال: وأنا أقسم عليك لترجعن إليها (فلتغسله) (٦) (عنك) (٧) كما طيبتك، قال: فرجع إليها حتى لحقهم ببعض الطريق (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسلم جو حضرت عمر کے غلام ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ذوالحلیفہ میں خوشبو سونگھی تو دریافت فرمایا یہ کس سے آرہی ہے ؟ حضرت معاویہ نے عرض کیا مجھ سے، حضرت عمر نے فرمایا : میری عمر کی قسم کیا تجھ سے ؟ حضرت معاویہ نے عرض کیا، اے امیر المؤمنین ! میرے متعلق جلد بازی سے کام نہ لیں، بیشک حضرت ام حبیبہ نے مجھے خوشبو لگائی اور مجھے قسم دی ہے، حضرت عمر نے فرمایا، میں بھی تمہیں قسم دیتا ہوں کہ آپ ان کے پاس واپس جاؤ اور ان کو چاہئے کہ جس طرح انہوں نے آپ کو خوشبو لگائی ہے اسی طرح اس کو دھو دیں، حضرت معاویہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ام حبیبہ کی طرف لوٹا یہاں تک کہ راستہ میں ہی ان کے ساتھ مل گیا۔
حدیث نمبر: 14002
١٤٠٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن الزهري أن عمر دعا بثوب. فأتي (بثوب) (١) فيه ريح طيب فرده (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر نے کپڑا منگوایا تو آپ کے پاس وہ کپڑا لایا گیا جس پر خوشبو لگی ہوئی تھی آپ نے اس کو واپس کردیا۔
حدیث نمبر: 14003
١٤٠٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (عن شعبة) (١) عن (سعد) (٢) (ابن) (٣) إبراهيم عن أبيه أن إبراهيم رأى رجلًا قد تطيب عند الإحرام، فأمره أن يغسل رأسه بطين.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے ایک شخص کو احرام پہنتے ہوئے خوشبو لگاتے ہوئے دیکھا تو آپ نے اس کو مٹی کے ساتھ سر دھونے کا حکم فرمایا۔
حدیث نمبر: 14004
١٤٠٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (عن) (١) عيينة بن عبد الرحمن عن ⦗٨٩⦘ أبيه قال: حججت مرة (فوافقت) (٢) عبد الرحمن بن عمرو بن العاص فلما كان عند الإحرام أصبنا شيئًا من الطيب فقال لي عبد الرحمن: وددت أنك لم تفعل، إني حججت مرة مع عثمان بن (أبي) (٣) العاص فأحرم من (المنجشانية) (٤) وهي (قريبة) (٥) من البصرة وقال (لنا) (٦): عليكم بهذا الطين الأبيض فاغسلوا به رؤوسكم عند الإحرام (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بار حج کا ارادہ کیا تو میں نے حضرت عبد الرحمن بن عمرو بن العاص کو پایا، جب احرام کا وقت آیا تو ہمیں کچھ خوشبو لگی ہوئی تھی، حضرت عبد الرحمن نے مجھ سے فرمایا : میرا خیال تھا کہ آپ اس طرح نہیں کرو گے، بیشک میں نے ایک بار حضرت عثمان بن ابو العاص کے ساتھ حج کیا اور مقام منجشانیہ جو بصرہ کے قریب ہے وہاں سے احرام باندھا، آپ نے ہمیں فرمایا : تم پر سفید مٹی کے اثرات ہیں اس لیے احرام باندھنے سے پہلے سروں کو دھو لو۔
حدیث نمبر: 14005
١٤٠٠٥ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن محمد أنه كان يكره أن يتطيب الرجل عند إحرامه] (١).
مولانا محمد اویس سرور
محمد اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کوئی شخص احرام باندھتے وقت خوشبو لگائے۔
حدیث نمبر: 14006
١٤٠٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبد الأعلى عن) (١) هشام عن الحسن مثل ذلك، (ويحب) (٢) أن يجيء أشعث أغبر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 14007
١٤٠٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن ابن جريج ⦗٩٠⦘ عن عطاء أنه كره الطيب (عند) (١) الإحرام (و) (٢) قال: إن كان به شيء (منه) (٣) فليغسله (ولينقه) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کوئی شخص احرام باندھتے وقت خوشبو لگائے، اور فرماتے کہ اگر اس کو خوشبو لگی ہو تو اس کو چاہئے کہ اس کو دھو لے اور صاف کرلے۔
حدیث نمبر: 14008
١٤٠٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبد الأعلى عن) (١) برد عن نافع عن ابن عمر أنه كان إذا أراد أن يحرم: ترك إجمار ثيابه قبل ذلك (بخمس) (٢) عشرة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب احرام باندھنے کا ارادہ فرماتے تو پندرہ دن پہلے ہی کپڑوں کو دھونی دینا ترک کردیتے۔
حدیث نمبر: 14009
١٤٠٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن عبد الملك عن سعيد ابن جبير أنه كان يكره للمحرم حين يحرم أن يدهن (بدهن) (١) فيه مسك أو أفواه أو عنبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ محرم احرام باندھتے وقت ایسی خوشبو سے دھونی دے جس میں مشک، افواہ اور زعفران ہو۔
حدیث نمبر: 14010
١٤٠١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان (عن) (١) عبد الملك (أن) (٢) سعيد بن جبير كان (يتقي) (٣) الطيب إذا أراد أن يحرم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر جب احرام باندھنے کا ارادہ کرتے تو خوشبو سے پرہیز کرتے۔
حدیث نمبر: 14011
١٤٠١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا مسعر عن وبرة عن ابن عمر قال: وجد عمر بن الخطاب ريحًا عند الإحرام فتوعد صاحبها، (فرجع ⦗٩١⦘ معاوية) (١) (فألقى) (٢) ملحفة كانت عليه (يعني) (٣) مطيبة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب نے احرام پہنتے وقت خوشبو محسوس کی تو اس کے لگانے والے کو ڈانٹا، پس حضرت امیر معاویہ لوٹے اور انہوں نے اپنی خوشبو دار چادر اتار کر رکھ دی۔
حدیث نمبر: 14012
١٤٠١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا مسعر وسفيان عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر (عن أبيه) (١) قال: سمعت ابن عمر يقول: لأن أصبح [يعني (مطليًا) (٢) (بقطران) (٣) أحب إلي من أن أصبح] (٤) محرمًا (أنضح) (٥) طيبًا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ میں اس حال میں صبح کروں کہ میں اپنے اوپر تار کول ملوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں اس حال میں صبح کروں کہ میں حالت احرام میں ہوں اور مجھ سے خوشبو ٹپک رہی ہو۔
حدیث نمبر: 14013
١٤٠١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا محمد بن قيس عن بشير بن (يسار) (١) الأنصاري قال: لما أحرموا وجد عمر ريح طيب، فقال: (ممن) (٢) (هذا) (٣) الريح؟ فقال البراء بن عازب: مني يا أمير المؤمنين، قال: قد علمنا أن امرأتك (عطرة) (٤) أو عطارة إنما الحاج (الأذفر الأغبر) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بشیر بن یسار الانصاری فرماتے ہیں کہ جب سب حضرات نے احرام باندھا تو حضرت عمر نے خوشبو محسوس کی، تو دریافت فرمایا : یہ خوشبو کس سے آرہی ہے ؟ حضرت براء بن عازب نے فرمایا اے امیر المؤمنین ! مجھ سے آرہی ہے، آپ نے فرمایا ہمیں معلوم ہے کہ تیری اھلیہ عطر فروش ہے لیکن حاجی تو پراگندہ اور غبار آلود ہوتے ہیں۔