کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی شخص کے گھر والے میقات کے اندر رہتے ہوں تو کہاں سے احرام باندھے؟
حدیث نمبر: 13925
١٣٩٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن ابن طاوس عن أبيه رفعه قال: من كان (أهله) (١) (دون) (٢) (الميقات) (٣) أهل من حيث ينشئ، حتى يأتي ذلك على أهل مكة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس سے مرفوعاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کے گھر والے میقات کے اندر رہتے ہوں تو وہاں سے احرام باندھے جہاں وہ پیدا ہوا اور پرورش پائی، یہاں تک کہ وہ اہل مکہ کے پاس آجائے۔
حدیث نمبر: 13926
١٣٩٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن ليث عن طاوس وعطاء ومجاهد قالوا: إن كان أهله بين الوقت وبين مكة أهل من أهله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس، حضرت عطاء اور حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کے اہل مکہ اور میقات کے درمیان رہائش پذیر ہوں تو وہ اپنے اہل کے پاس احرام باندھے۔
حدیث نمبر: 13927
١٣٩٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن أنه كان لا يرى بأسا إذا كان أهله دون الميقات أن يحرم من أهله.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ کسی شخص کا گھر میقات کے اندر ہو تو وہ اپنے گھر سے احرا م باندھ لے۔
حدیث نمبر: 13928
١٣٩٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ابن جريج عن عطاء قال: إن كان (أهله) (١) دون الميقات أهل من حيث ينشئ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر کسی کے گھر والے میقات کے اندر ہی رہائش پذیر ہوں تو وہ وہاں سے احرام باندھے جہاں وہ پیدا ہوا۔