حدیث نمبر: 13746
١٣٧٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أسباط بن محمد عن الحسن بن عمرو عن أبي أمامة قال: سألت ابن عمر، قال: قلت: أقتل البعوض؟ قال: وما عليك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا : میں مچھر کو مار سکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا : کیا اس کے بدلے تجھ پر کچھ نہیں ہے ؟۔
حدیث نمبر: 13747
١٣٧٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن (عبيد) (١) اللَّه بن أبي زياد قال: رأيت سالمًا قتل بعوضة بمكة، فقلت له، فقال: إنه قد أمر بقتل الحية والعقرب، (قلت: إنهما) (٢) عدو، قال: فهذه عدو.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن ابو زیاد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم کو دیکھا آپ نے مکہ میں مچھر مار ڈالا، میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا ؟ انہوں نے فرمایا سانپ اور بچھو کے مارنے کا ہمیں حکم دیا گیا، میں نے عرض کیا وہ تو ہمارے دشمن ہیں، آپ نے فرمایا یہ بھی تو دشمن ہے۔
حدیث نمبر: 13748
١٣٧٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن عطاء قال: لا بأس أن (تقتل) (١) الذباب والبعوض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں حالت احرام میں مکھی اور مچھر کو مارنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 13749
١٣٧٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مرزوق عن سعيد بن جبير (في محرم) (١) قتل ذبابًا، قال: ليس عليه شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے دریافت کیا گیا کہ محرم اگر مکھی مار ڈالے ؟ آپ نے فرمایا : اس پر کچھ نہیں ہے۔