کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: فجر اور عصر کے بعد طواف کرنا اور جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ وہ اسی وقت دو رکعت نماز ادا کرے گا
حدیث نمبر: 13720
١٣٧٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن أبي الزبير عن عبد اللَّه ابن باباه عن جبير بن مطعم (أن) (١) النبي ﷺ (٢) قال: "يا بني عبد مناف لا تمنعوا أحدًا طاف بهذا البيت وصلى أي ساعة من ليل (أو) (٣) نهار" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے بنو عبد مناف ! کسی شخص کو طواف کرنے اور کسی بھی وقت دن یا رات میں اس میں نماز ادا کرنے سے نہ روکو۔
حدیث نمبر: 13721
١٣٧٢١ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) أبو الأحوص عن ليث عن عطاء قال: رأيت ابن عمر وابن عباس (طافا) (٢) بعد العصر وصليا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا آپ نے عصر کے بعد طواف کیا اور نماز ادا فرمائی۔
حدیث نمبر: 13722
١٣٧٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عطاء قال: رأيت ابن عمر طاف (بالبيت) (١) (بعد) (٢) الفجر وصلى الركعتين قبل طلوع الشمس (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا آپ نے فجر کے بعد طواف کیا اور سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی دو رکعتیں ادا فرمائیں۔
حدیث نمبر: 13723
١٣٧٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن ليث عن (أبي) (١) شعبة أنه رأى الحسن والحسين قدما مكة فطافا بالبيت بعد العصر وصليا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرات حسنین کو دیکھا کہ آپ مکہ تشریف لائے اور عصر کے بعد طواف کیا اور دو رکعتیں ادا فرمائیں۔
حدیث نمبر: 13724
١٣٧٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان التيمي عن ليث أن الحسن وعطاء ومجاهدا كانوا يطوفون بالبيت بعد العصر ويصلون في دبر (طوافهم) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث سے مروی ہے کہ حسن، حضرت عطاء اور حضرت مجاہد عصر کے بعد طواف کرتے تھے اور طواف کے فورا بعد دو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 13725
١٣٧٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود الطيالسي عن (سَلِيم) (١) بن حيان قال: سألت عكرمة بن خالد عنه فقال: لا بأس (به) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیم بن حیان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عکرمہ بن خالد سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 13726
١٣٧٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو داود عن) (١) حماد بن سلمة (عن هشام) (٢) عن أبيه أنه لم ير بأسًا بالطواف بعد الفجر وبعد العصر والصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فجر اور عصر کے بعد طواف کرنے اور دو رکعت نماز ادا کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 13727
١٣٧٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن الوليد بن (جميع) (١) عن (أبي) (٢) الطفيل أنه كان يطوف بالبيت بعد العصر، ويصلي (حتى) (٣) تصفر الشمس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الطفیل نے عصر کے بعد طواف کیا اور نماز ادا کی یہاں تک کہ سورج زرد ہونا شروع ہوگیا (قریب الغروب ہوگیا) ۔
حدیث نمبر: 13728
١٣٧٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يعلى بن عبيد عن الأجلح عن عطاء قال: رأيت ابن عمر وابن الزبير طافا بالبيت بعد صلاة الفجر ثم صليا ركعتين قبل طلوع الشمس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے حضر ت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن زبیر کو فجر کے بعد طواف کرتے اور طلوع شمس سے قبل نماز ادا کرتے دیکھا۔
حدیث نمبر: 13729
١٣٧٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (مسعر) (١) عن عبد الملك بن ميسرة عن طاوس قال: طف وصل بعد العصر وبعد الفجر ما كنت في وقت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ فجر اور عصر کے بعد جب چاہے طواف کر اور نماز ادا کر۔
حدیث نمبر: 13730
١٣٧٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن عبد اللَّه بن مسلم عن (١) عبد اللَّه بن عروة بن الزبير أن ثابت بن عبد اللَّه بن الزبير طاف (بالبيت) (٢) سبعًا بعد صلاة الصبح، فجلس ولم يصل، فجاءه (أبوه) (٣) عبد اللَّه بن الزبير فقال: يا بني (إن) (٤) كنت طائفًا (فصل) (٥)، و (إن) (٦) لم تصل فلا تطف (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن عبد اللہ بن عروہ بن الزبیر سے مروی ہے کہ حضرت ثابت بن عبد اللہ بن زبیر نے فجر کے بعد طواف کے سات چکر لگائے اور بیٹھ گئے نماز ادا نہ کی، ان کے والد حضرت عبد اللہ بن زبیر تشریف لائے اور فرمایا : اے بیٹے ! جب طواف کرو تو نماز ادا کرو اور جب تم نماز ادا نہ کرو تو طواف بھی نہ کرو۔
حدیث نمبر: 13731
١٣٧٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين بن (عن إبراهيم) (١) بن طهمان عن أبي الزبير عن عبد اللَّه بن (باباه) (٢) قال: رأيت أبا الدرداء طاف بعد ⦗١٩⦘ العصر وصلى ركعتين، فقيل له، فقال: إنها ليست كسائرها من البلدان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن باباہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو دردائ کو دیکھا آپ نے عصر کے بعد طواف کیا اور دو رکعتیں ادا فرمائیں، آپ سے اس کے متعلق پوچھا گیا ؟ آپ نے فرمایا مکہ دوسرے شہروں کی طرح نہیں ہے۔