حدیث نمبر: 13688
١٣٦٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) عن أبي بشر عن عطاء ويوسف ابن ماهك ومنصور عن عطاء أن رجلًا أغلق بابه على حمامة و (فرخيها) (٢)، ثم انطلق إلى عرفات ومنى، فرجع وقد موتت فأتى ابن (عمر) (٣)، فذكر ذلك له، فجعل عليه (ثلاثًا) (٤) من الغنم وحكم معه رجل (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے مروی ہے کہ ایک شخص نے کبوتر اور اس کے بچوں پر دروازہ بند کیا اور منیٰ اور عرفات چلا گیا پھر جب واپس لوٹا تو وہ کبوتر اور بچے مرچکے تھے، وہ شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے ذکر کیا آپ نے اس پر تین بکریوں کا دینا لازم قرار دیا اور ایک اور شخص نے ان کے ساتھ حکم لگایا۔
حدیث نمبر: 13689
١٣٦٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب قال: نزلنا منزلًا (فاغلقتُ) (١) باب المنزل على حمامة، فماتت، (فسألنا) (٢) عطاء فقال: فيها شاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن السائب سے مروی ہے کہ ہم لوگ ایک گھر میں آئے اور گھر میں ایک کبوتر کو قید کردیا جس سے کبوتر مرگیا، ہم نے حضرت عطاء سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا اس میں بکری دیناپڑے گی۔
حدیث نمبر: 13690
١٣٦٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: عليه شاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ اس پر بکری لازم ہے۔
حدیث نمبر: 13691
١٣٦٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن أشعث عن عطاء قال: من قتل حمامة من حمام مكة فعليه شاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جو شخص مکہ کے کبوتروں میں سے کوئی کبوتر مار دے اس پر بکری لازم ہے۔
حدیث نمبر: 13692
١٣٦٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن ابن جريج عن عطاء قال: عليه شاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں اس پر بکری لازم ہے۔
حدیث نمبر: 13693
١٣٦٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سلمة بن محرز قال: (أغلقت) (١) بأبي بمكة، ثم فتحته فإذا (طيران) (٢) قد (ماتا) (٣) (٤) فسألت طاوسًا، فقال: أذبح شاتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن محرز فرماتے ہیں کہ میں نے مکہ میں اپنا دروازہ بند کردیا جب میں نے اس کو دوبارہ کھولا تو دو پرندے مرچکے تھے، میں نے حضرت طاؤس سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا : دو بکریاں ذبح کرو۔
حدیث نمبر: 13694
١٣٦٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (ابن) (١) أبي (ليلى) (٢) عن عطاء عن ابن عباس في طير الحرم: شاة، شاة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں حرم کے ہر پرندے (کبوتر) کے بدلے ایک ایک بکری دینا لازم ہے۔
حدیث نمبر: 13695
١٣٦٩٥ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا وكيع عن ابن أبي (ليلى) (٢) عن عطاء في (الدوبسي) (٣) والقمري (والأخضر) (٤) شاة، شاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں الدبسی پرندہ (جو لال اور کالے رنگ کا ہوتا ہے) اور خوبصورت آواز والا کبوتر اور الأخضر پرندہ (جو عربوں کے ہاں منحوس سمجھا جاتا ہے) کے بدلے بکری لازم ہے۔
حدیث نمبر: 13696
١٣٦٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن شيخ من أهل مكة أن حمامًا كان على البيت، فخرت على يد عمر، فأشار بيده، فطار، (فوقع) (١) على (بعض) (٢) بيوت أهل مكة، فجاءت حية، فأكلته، فحكم عمر ⦗٩⦘ على نفسه شاة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم مکہ کے ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں کہ گھر پر ایک کبوتر بیٹھا ہوا تھا جو حضرت عمر کے ہاتھ پر گرپڑا حضرت عمر نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ اڑ کر مکہ کے کسی گھر پر جا بیٹھا جہاں اس کو سانپ نے کھالیا، حضرت عمر نے اپنے اوپر بکری لازم کرلی۔
حدیث نمبر: 13697
١٣٦٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن محمد بن أبي يحيى عن صالح بن (المهدي) (١) أن أباه أخبره قال: حججت مع عثمان، فقدمنا (مكة) (٢)، ففرشت له في بيت، فرقد، فجاءت حمامة، فوقعت (في) (٣) كوة على فراشه، فجعلت تبحث (برجليها) (٤)، فخشيت أن تنثر على فراشه، فيستيقظ (فأطرتها) (٥)، فوقعت في كوة أخرى، فخرجت حية، (فقتلتها) (٦) فلما استيقظ عثمان أخبرته، فقال: أد عنك شاة فقال: إنما (أطرتها) (٧) من أجلك، قال: وعني شاة (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صالح کے والد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان کے ساتھ حج کیا میں نے ان کے لیے ایک گھر میں بستر بچھایا تو وہ لیٹ گئے، اتنے میں ایک کبوتر آیا اور بستر کے اوپر روشندان میں آ بیٹھا اور اس نے اپنے پاؤں سے کھودنا شروع کردیا مجھے ڈر ہوا کہ یہ مٹی وغیرہ بستر پر گرائے گا جس کی وجہ سے حضرت عثمان جاگ جائیں گے، میں نے اس کبوتر کو اڑا دیا تو وہ دوسرے روشندان میں جا بیٹھا، ایک سانپ نکلا اور اس کو مار ڈالا، پھر جب حضرت عثمان نیند سے بیدار ہوئے تو میں نے یہ بات بتائی، آپ نے فرمایا اپنی طرف سے بکری ادا کرو، میں نے عرض کیا کہ میں نے تو آپ کی وجہ سے اس کو بھگایا تھا، آپ نے فرمایا پھر میری طرف سے بھی بکری ادا کرو۔
حدیث نمبر: 13698
١٣٦٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عطاء قال: أول من فدى طير الحرم شاة عثمان (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے جس شخص نے حرم کے پرندوں کا فدیہ دیا وہ حضرت عثمان تھے۔
حدیث نمبر: 13699
١٣٦٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب أنه كان يقول في حمام الحرم: إذا قتل (بمكة) (١) ففيه شاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ اگر حرم کے کبوتروں کو مکہ میں مار دیا جائے تو اس پر بکری دینا لازم ہے۔
حدیث نمبر: 13700
١٣٧٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن الحكم وحماد (قالا) (١): سألنا إبراهيم عن رجل أخذ بيده فرخًا (وهو محرم) (٢)، قال: (فأراد) (٣) أن يَرُدَّهُ فمات، فقال: هو ضامن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اور حضرت حماد فرماتے ہیں کہ ہم نے ابراہیم سے دریافت کیا کہ ایک شخص نے پرندے کے بچوں کو پکڑا پھر واپس رکھنے کا ارادہ کیا تو وہ بچے مرگئے، آپ نے فرمایا وہ شخص ان بچوں کا ضامن ہے۔