کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: عورت کو حج کے لیے نکلنے سے پہلے حیض آ جائے
حدیث نمبر: 13647
١٣٦٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن عروة عن عائشة قالت: حاضت صفية بعد ما أفاضت، (فأخبر بذلك) (١) النبي ﷺ فقال: " (أَحَابِسَتُنَا) (٢) هي؟ " قلت: قد (طافت) (٣) ثم (حاضت) (٤) بعد ذلك، قال: (فَلْتَنْفُرْ) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طواف افاضہ کے بعد حضرت صفیہ کو حیض آگیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا یہ ہمیں روکے رکھے گی ؟ میں نے عرض کیا طواف کرنے کے بعد اس کو حیض آیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر اس کو چاہئے لوگوں کے ساتھ ہی نکلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13647
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٤٤٠١)، ومسلم (١٢١١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13647، ترقيم محمد عوامة 13337)
حدیث نمبر: 13648
١٣٦٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن عيينة عن عبد الرحمن بن (القاسم) (١) (التيمي) (٢) عن أبيه عن عائشة بمثله إلا أنه قال: فلا إذن (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مروی ہے اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر کوئی بات نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13648
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (١٢١١)، وأحمد (٢٤١١٣)، وأصله عند البخاري (١٧٧٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13648، ترقيم محمد عوامة 13338)
حدیث نمبر: 13649
١٣٦٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة قالت: ذكر رسول اللَّه ﷺ صفية، (فقلنا) (١): إنها قد حاضت (فقال) (٢): "عقرى حلقى ما أراها الا حَابسَتَنَا" (قالت) (٣): قلت: إنها قد (طافت) (٤) يوم النحر، قال: "فلا إذن، مُرُوهَا فَلْتَنْفُرْ" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے حضرت صفیہ کا ذکر ہوا کہ ان کو حیض آگیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کا ستیاناس ہوا مگر وہ ہمیں روکنا چاہتی ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ انہوں نے یوم النحر میں طواف کرلیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر کوئی حرج نہیں اس کو حکم دو وہ بھی لوگوں کے ساتھ نکلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13649
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٧٧١)، ومسلم (١٢١١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13649، ترقيم محمد عوامة 13339)
حدیث نمبر: 13650
١٣٦٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا جرير عن أبي فروة قال: سألت القاسم بن محمد عن امرأة زارت البيت يوم النحر، ثم حاضت (قبل النفر) (١)، فقال: يرحم اللَّه عمر، (كان) (٢) أصحاب محمد ﷺ (يقولون) (٣): قد فرغت، إلا عمر فإنه كان يقول: يكون آخر عهدها بالبيت (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن محمد سے دریافت کیا گیا کہ ایک عورت نے یوم النحر میں بیت اللہ کا طواف کیا پھر نکلنے سے قبل اس کو حیض آگیا ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ حضرت عمر پر رحم فرمائے، تمام صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ وہ فارغ ہوچکی ہے سوائے حضرت عمر کے، وہ فرماتے ہیں اس کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13650
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13650، ترقيم محمد عوامة 13340)
حدیث نمبر: 13651
١٣٦٥١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن مسعر عن عبد الملك بن ميسرة عن طاوس قال: ما رأيت بن عباس خالفه أحد في شيء فتركه حتى يقرره، فخالفه جابر ابن عبد اللَّه في المرأة تطوف ثم تحيض، فقال ابن عباس: تنفر، فأرسلوا إلى امرأة كان أصابها ذلك، فوافقت ابن عباس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کبھی نہیں دیکھا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی نے مخالفت کی ہو تو انہوں نے اس شخص کو چھوڑ دیا ہو جب تک کہ مسئلہ کو اس کے سامنے ثابت نہ کرلیتے، حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے بارے میں جس کو طواف کے بعد حیض آیا ہو آپ کی مخالفت کی (اختلاف کیا) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا وہ نکلے گی، پھر اس عورت کو بلایا جس کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا تھا، اس عورت نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کی موافقت کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13651
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13651، ترقيم محمد عوامة 13341)
حدیث نمبر: 13652
١٣٦٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء قال: (سمعت) (١) القاسم بن ربيعة (قال) (٢): سألت (سعد) (٣) بن مالك عن امرأة حاضت بعد الطواف بالبيت يوم النحر، قال: تصدر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن مالک سے دریافت کیا گیا کہ عورت کو یوم النحر میں طواف کرنے کے بعد حیض آجائے ؟ آپ نے فرمایا وہ واپس لوٹے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13652
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13652، ترقيم محمد عوامة 13342)
حدیث نمبر: 13653
١٣٦٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا جرير عن ابن شبرمة عن سالم بن عبد اللَّه عن أبيه أنه كان يقيم على الحائض - (وإن) (١) كانت طافت طواف يوم النحر- سبعة أيام حتى (تطوف) (٢) طواف يوم (النفر) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر کا قول یہ تھا کہ عورت اگر یوم النحر کو طواف کرچکی تو اسے سات دن تک مکہ میں روکتے تھے تاکہ وہ کوچ کرنے کے دن کا طواف بھی کرلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13653
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13653، ترقيم محمد عوامة 13343)
حدیث نمبر: 13654
١٣٦٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن يزيد بن هانئ أن امرأة طافت، ثم حاضت يوم النحر بعد ما طافت، فسئل الحسن بن علي (فقال: تنفر) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن ہانی فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے طواف کیا پھر اس کو طواف کے بعد یوم النحر میں حیض آگیا، حسن ابن علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا وہ نکلے گی (واپس لوٹے گی حج مکمل ہوگیا ہے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13654
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13654، ترقيم محمد عوامة 13344)
حدیث نمبر: 13655
١٣٦٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: (ثنا) (١) عفان قال: ثنا أبو عوانة عن يعلى بن ⦗٥٤٢⦘ عطاء عن الوليد بن عبد الرحمن عن الحارث بن عبد اللَّه بن أوس الثقفي قال: سألت عمر بن الخطاب عن المرأة تطوف بالبيت ثم تحيض، (فقال) (٢): (ليكن) (٣) آخر عهدها بالبيت، فقال الحارث: كذلك أفتاني رسول اللَّه ﷺ، فقال عمر: (آربْتَ) (٤) (عن) (٥) يديك، سألتني عن شيء سألت عنه رسول اللَّه ﷺ كيما أخالفه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر سے دریافت کیا کہ عورت کو اگر طواف کے بعد حیض آجائے ؟ آپ نے فرمایا : لیکن اس کا آخری عمل طواف ہونا چاہئے، حضرت حارث نے فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اسی طرح مجھے بتلایا تھا، حضرت عمر نے ان کو بددعا دی اور فرمایا : تو مجھ سے اس چیز کے متعلق سوال کرتا ہے جس کے متعلق تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرچکا ہے تاکہ میں اس کی مخالفت کر جاؤں ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13655
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (١٥٤٤٠)، وأبو داود (٢٠٠٤)، والنسائي في الكبرى (٤١٨٥)، والترمذي (٩٤٦)، والطحاوي ٢/ ٢٣٢، والطبراني (٣٣٥٣)، والبخاري في التاريخ ٢/ ٢٦٣، وابن عبد البر في جامع بيان العلم وفضله ٢/ ١٩٨، والطوسي في مختصر الأحكام ٤/ ٢١٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13655، ترقيم محمد عوامة 13345)