کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات نے سواری پر سوار ہو کر طواف کرنے کی اجازت دی ہے
حدیث نمبر: 13608
١٣٦٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا بن (مسهر) (١) عن ابن جريج عن أبي الزبير ⦗٥٣١⦘ عن جابر قال: طاف رسول اللَّه ﷺ بالبيت في (حجة) (٢) الوداع على راحلته يستلم الحجر (بمحجنه) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر سواری پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور خم دار لکڑی سے حجر اسود کا استلام فرمایا۔
حدیث نمبر: 13609
١٣٦٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن علية عن خالد الحذاء عن عكرمة أن النبي ﷺ (١) طاف بالبيت على بعير، فكان إذا أتى (على) (٢) الحجر الأسود أشار إليه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا، جب بھی حجر اسود کے پاس سے گزرتے تو اس کی طرف اشارہ فرماتے ۔
حدیث نمبر: 13610
١٣٦١٠ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا عبدة عن هشام عن أبيه أن أم سلمة قالت: يا رسول اللَّه ما (طفت) (١) طواف الخروج، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إذا أقيمت الصلاة فطوفي على بعيرك من وراء الناس" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے طواف وداع نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب نماز کھڑی ہوجائے تو اونٹ پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرلینا۔
حدیث نمبر: 13611
١٣٦١١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن فضيل عن يزيد عن عكرمة عن ابن عباس قال: جاء رسول اللَّه ﷺ وقد اشتكى، فطاف بالبيت على بعير ومعه (محجن) (١) كلما مر على الحجر استلمه، فلما فرغ من طوافه أناخ، ثم صلى ركعتين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی تکلیف تھی پھر آپ نے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس خم دار چھڑی تھی، جب بھی حجر اسود کے پاس سے گذرتے اس کا استلام فرماتے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف سے فارغ ہوئے تو اونٹ سے اتر گئے اور پھر دو رکعتیں ادا فرمائیں۔
حدیث نمبر: 13612
١٣٦١٢ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن معروف المكي قال: سمعت أبا الطفيل وأنا غلام (يقول) (١): رأيت رسول اللَّه ﷺ يطوف بالبيت على راحلته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معروف المکی فرماتے ہیں کہ میں نے چھوٹے ہوتے وقت حضرت ابو الطفیل سے سنا تھا وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف سواری پر سوار ہو کر فرمایا۔
حدیث نمبر: 13613
١٣٦١٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو خالد عن حجاج عن عطاء أن النبي ﷺ (طاف) (١) طاف بالبيت على راحلته، يستلم الحجر بمحجنه وبين الصفا والمروة، فقلت لعطاء: ما أراد إلى ذلك، قال: التوسعة على أمته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف فرمایا اور خم دار چھڑی سے حجر اسود کا استلام فرمایا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی فرمائی، حضرت حجاج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ ایسا کرنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا امت پر وسعت کی غرض سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا فرمایا۔
حدیث نمبر: 13614
١٣٦١٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة قال: كان أبي (إذا) (١) رآهم يطوفون بالبيت على الدواب (نهاهم) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ میرے والد محترم جب کسی کو سواری پر طواف کرتے ہوئے دیکھتے تو منع فرما دیتے۔