کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص حج کا احرام باندھے پھر وہ روک لیا جائے تو اس پر کیا ہے؟
حدیث نمبر: 13530
١٣٥٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا يحيى بن سعيد وابن علية عن حجاج (بن) (١) أبي عثمان عن يحيى بن أبي كثير عن عكرمة عن الحجاج بن عمرو الأنصاري قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من حج فكُسِرَ أو عرج أحلَّ وعليه الحج". فذكرت ذلك لأبي هريرة وابن عباس، فقالا: صدق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج بن عمرو الانصاری فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جو شخص حج کا ارادہ کرے (اور احرام باندھ لے) پھر اس کی ٹانگ وغیرہ ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہوجائے تو وہ احرام کھول دے اس پر حج کی قضاء ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے اس حدیث کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : اس نے سچ کہا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13530
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (١٥٧٣١)، وأبو داود (١٨٦٣)، والترمذي (٩٤٥)، وابن ماجة (٣٠٧٧)، والحاكم ١/ ٤٨٣، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢١٥٥)، والطبراني (٣٢١١)، وابن عبد البر في التمهيد ١٥/ ٢٠٨، والطحاوي ٢٤٩/ ٢، والدارقطني ٢/ ٢٧٧، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٣٥٧، والبيهقي ٥/ ٢٢٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13530، ترقيم محمد عوامة 13229)
حدیث نمبر: 13531
١٣٥٣١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن علية عن أيوب عن عكرمة عن ابن عباس قال: أمر اللَّه بالقصاص (أفياخذ) (١) منكم العدوان (حج وعمرة لعمرة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے برابری کا حکم فرمایا ہے، کیا وہ تم سے زیادہ وصول کرے گا ؟ حج کے بدلے حج اور عمرہ کے بدلے عمرہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13531
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13531، ترقيم محمد عوامة 13230)
حدیث نمبر: 13532
١٣٥٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو خالد الأحمر عن (الأعمش) (١) عن إبراهيم عن عكرمة قال: إذا أهل الرجل بالحج فاحصر، (فليبعث) (٢) بهديه، فإن مضى جعلها عمرة وعليه الحج من قابل (ولا) (٣) هدي عليه، وإن هو أخر ذلك حتى يحج فعليه حجة وعمرة وما استيسر من الهدي، فمن لم يجد فصيام ثلاثة أيام في الحج آخرها يوم عرفة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص حج کا احرام باندھے پھر وہ محصور ہوجائے تو اس پر ھدی ہے، پھر اگر اس کے لیے وقت نکل آئے تو اس کو عمرہ بنا لے اور آئندہ حج کرے لیکن اس پر قربانی نہیں ہے اور اگر وہ اس کو مؤخر کر دے یہاں تک کہ حج ہوجائے تو اس پر آئندہ سال حج اور عمرہ دونوں ہیں اور جو ھدی اس کو میسر ہو اور اگر وہ ھدی نہ پائے تو تین روزے اس طرح رکھے کہ آخری روزہ یوم عرفہ میں ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13532
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13532، ترقيم محمد عوامة 13231)
حدیث نمبر: 13533
١٣٥٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو خالد الأحمر عن الأعمش عن إبراهيم قال: سألني عن ذلك سعيد بن جبير، فأخبرته، فقال: بيده هكذا، وعقد ثلاثين، هكذا. قال: ابن عباس (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ مجھ سے اس کے متعلق حضرت سعید بن جبیر نے سوال کیا ؟ میں نے ان کو خبر دی، پھر اپنے ہاتھ کے ساتھ اس طرح فرمایا اور انگوٹھے کے سر کو شہادت کی انگلی کے سرے پر رکھا جس طرح کنکری وغیرہ پھینکی جاتی ہے، اسی طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13533
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13533، ترقيم محمد عوامة 13232)
حدیث نمبر: 13534
١٣٥٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن إسحاق بن سويد قال: سمعت عبد اللَّه بن الزبير يخطب، فقال: يا أيها الناس -واللَّه- ما المتمتع بالعمرة إلى الحج كما تقولون، ولكن إنما (التمتع) (١) بالعمرة إلى (الحج) (٢) أن يهل ⦗٥١٢⦘ الرجل، (فيحصره) (٣) إما مرض أو أمر (يحبسه) (٤) حتى تذهب أيام الحج، فيقدم، فيجعلها عمرة، ويتمتع بحجه إلى العام المقبل، ويهدي ويحج، فهذا (التمتع) (٥) بالعمرة (إلى الحج) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن زبیر نے خطبہ ارشاد فرمایا : اے لوگو ! اللہ کی قسم حج کا عمرہ کے ساتھ تمتع اس طرح نہیں ہے جس طرح تم لوگ کہتے ہو، بلکہ حج کا عمرہ کے ساتھ تمتع اس طرح ہوتا ہے کہ کوئی شخص حج کا احرام باندھے پھر اس کو مرض یا کوئی چیز محصور کر دے یہاں تک کہ ایام حج گذر جائیں پھر وہ آئے اور اس حج کو عمرہ میں تبدیل کرے اور آئندہ سال حج تمتع کرے اور ھدی بھی بھیجے (قربانی کرے) یہ ہے حج کا عمرہ کے ساتھ تمتع کرنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13534
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13534، ترقيم محمد عوامة 13233)
حدیث نمبر: 13535
١٣٥٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا (هشيم) (١) (عن يونس) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13535
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13535، ترقيم محمد عوامة 13234)
حدیث نمبر: 13536
١٣٥٣٦ - وحميد (عن الحسن) (١) قال: عليه حجة (وعمرة) (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13536
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13536، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 13537
١٣٥٣٧ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم مثله] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے اسی طرح منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13537
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13537، ترقيم محمد عوامة 13235)
حدیث نمبر: 13538
١٣٥٣٨ - [حدثنا أبو بكر قال: ثنا هشيم عن ابن شبرمة عن الشعبي، قال: عليه الحج] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اس پر آئندہ سال صرف حج ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13538
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13538، ترقيم محمد عوامة 13236)
حدیث نمبر: 13539
١٣٥٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن حجاج (عن) (١) عطاء، قال: ⦗٥١٣⦘ إن كان (٢) حج فعليه أن يصل (إلى) (٣) البيت (بحج) (٤) أو عمرة، وإن كان لم يحج فعليه الحج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر وہ حج کا ارادہ کرے تو اس پر لازم ہے کہ وہ حج یا عمرہ کے ساتھ بیت اللہ کی طرف جائے اور اگر وہ حج نہ کرسکے تو اس پر آئندہ سال حج ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13539
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13539، ترقيم محمد عوامة 13237)
حدیث نمبر: 13540
١٣٥٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي عدي عن ابن عون قال: كان محمد يقول: إذا (فرض) (١) الرجل الحج (فأصابه) (٢) حصر، فإنه يبعث بهديه، فإذا بلغ الهدي محله (حل) (٣) من أشياء وحرم (من أخرى) (٤)، فإذا كان عام قابل (هل) (٥) بالحج والعمرة، فإن جمع بينهما فعليه الهدي، وإن شاء أقام حتى يبرأ، فيمضي من وجهه، فيطوف بالبيت، (فتكفي) (٦) (عنه) (٧) العمرة وعليه الحج من قابل.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ کوئی شخص اپنے اوپر حج لازم کرلے پھر وہ محصور ہوجائے تو ھدی کا جانور بھیجے گا، پھر جب قربانی کا جانور اپنے مقام تک پہنچ جائے تو وہ کچھ اشیاء سے حلال ہوجائے گا، اور کچھ سے محرم رہے گا، پھر جب آئندہ سال آئے تو وہ حج وعمرہ دونوں کا احرام باندھے گا، اور اگر دونوں کو جمع کرے تو اس پر قربانی بھی ہے، اور اگر وہ چاہے تو جب محصور ہو تو کچھ انتظار کرے پھر جب محصور ہونا ختم ہوجائے تو بیت اللہ جا کر عمرہ کرے اور آئندہ سال صرف عمرہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13540
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13540، ترقيم محمد عوامة 13238)
حدیث نمبر: 13541
١٣٥٤١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن أبي عدي عن ابن عون قال: سألت القاسم وسالمًا عن المحصر، فقالا: نحو قول محمد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم اور حضرت قاسم سے محصر شخص کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ دونوں نے بھی محمد کی طرح جواب ارشاد فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13541
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13541، ترقيم محمد عوامة 13239)
حدیث نمبر: 13542
١٣٥٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن (سليمان) (١) عن يحيى بن سعيد ⦗٥١٤⦘ عن سليمان (بن يسار) (٢) أن معبد (٣) بن (حزابة) (٤) (المخزومي) (٥) صرع بطريق مكة، فخرج ابنه إلى الماء (الذي) (٦) صرع عليه أبوه، فوجد ابن عباس وابن عمر ومروان بن الحكم، (فكلمهم) (٧) [(و) (٨) ذكر (لهم) (٩) مصرع أبيه، والذي أصابه، فكلهم] (١٠) (قالوا) (١١): (يتداوى بالذي يصلحه) (١٢)، فإذا صح اعتمر، ففسخ عنه حرم الحج، فإذا أدركه الحج فعليه الحج وما استيسر من الهدي (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معبد بن حزابہ المخزومی کو مکہ کے سفر میں راستہ میں مرگی کا دورہ پڑا، ان کا بیٹا اس چشمے کی طرف گیا جہاں پر اس کے باپ کو دورہ پڑا تھا، اس نے راستہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور مروان بن حکم کو پایا، ان کے سامنے اس کے باپ کے مرگی کے دورے کا ذکر کیا گیا، سب حضرات نے فرمایا : وہ دوا استعمال کرے جس سے وہ ٹھیک ہوجائے، پھر جب ٹھیک ہوجائے تو عمرہ کر کے حج کو ختم کر دے، اور اگر حج کو پالے تو حج کرے اور جو قربانی میسر ہو وہ دیدے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13542
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13542، ترقيم محمد عوامة 13240)