حدیث نمبر: 13252
١٣٢٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن طاوس عن ابن عباس قال: الطواف بالبيت صلاة ولكن اللَّه (تعالى) (١) أحل فيه المنطق، فمن نطق فلا ينطق إلا بخير (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بیت اللہ کا طواف بھی نماز کی طرح ہی ہے مگر اس میں اللہ پاک نے بات چیت کرنے کی اجازت دی ہے، لہٰذا جو بات کرے وہ اچھی اور بھلی بات کرے۔
حدیث نمبر: 13253
١٣٢٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن فضيل عن عبد الملك بن أبي سليمان عن مولى لأبي سعيد عن أبي سعيد أنه كان يأمر بنيه إذا طافوا (ولا يهجروا) (١) أن لا ⦗٤٤٣⦘ يلغوا في طوافهم (ولا يقضوا حاجة) (٢) ولا يكلموا أحدًا حتى يقضوا طوافهم إن استطاعوا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید نے اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ جب وہ طواف کریں تو دوران طواف لغو حرکت نہ کریں، اور نہ بیہودہ کلام کریں، اور نہ قضائے حاجت کریں اور نہ کسی سے بات کریں جب تک کہ وہ اپنا طواف مکمل نہ کریں، اگر وہ ان چیزوں کی طاقت رکھتے ہوں تو ضرور ایسا کریں۔
حدیث نمبر: 13254
١٣٢٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا (أبو سعد) (١) محمد بن (ميسر) (٢) عن ابن جريج عن عطاء قال: طفت (وراء ابن عمر وابن عباس) (٣)، فلم (أسمع واحدًا) (٤) منهما يتكلم (في الطواف) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے پیچھے طواف کیا اور دوران طواف ان میں سے کسی کی بات کرنے کی آواز نہ سنی۔
حدیث نمبر: 13255
١٣٢٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن عيينة عن ابن طاوس عن أبيه عن ابن عباس قال: الطواف بالبيت صلاة، فأقلوا الكلام فيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بیت اللہ کا طواف نماز کی مانند ہے، پس اس میں کم کلام کرو۔
حدیث نمبر: 13256
١٣٢٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن نمير عن إبراهيم (بن) (١) نافع قال: طفت مع طاوس فلم (أسمعه) (٢) يبدأ إنسانًا بالكلام إلا أن يكلمه (فيجيبه) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن نافع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت طاؤس کے ساتھ طواف کیا اور ان کو کسی شخص کے ساتھ بات کرنے میں پہل کرتے ہوئے نہ دیکھا، ہاں اگر کوئی ان سے بات کرتا تو اس کو جواب دیتے۔
حدیث نمبر: 13257
١٣٢٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا حميد بن عبد الرحمن عن موسى بن أبي الفرات قال: قال طاوس: إني لأعدها غنيمة أن أطوف بالبيت (سبوعًا) (١) لا يكلمني أحد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ میں اس بات کو غنیمت سمجھتا ہوں کہ میں طواف کے سات چکر پورے کرلوں لیکن میرے ساتھ کوئی شخص بات نہ کرے۔