حدیث نمبر: 13057
١٣٠٥٧ - حدثنا أبو خالد عن يحيى بن سعيد عن عمرو بن عبد اللَّه الأنصاري أن رجلًا نذر أن ينحر بدنة، فأتى عبد اللَّه بن محمد بن علي، فقال: (البدن) (١) من الإبل ولا ينحر إلا بمكة، إلا إن نوى منحرًا فحيث نوى، فإن لم يجد فسبع من الغنم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن عبد اللہ انصاری سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ اونٹ ذبح کرے گا، وہ حضرت عبد اللہ بن محمد بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : بدنۃ اونٹ میں سے ہے اور اس کو مکہ میں ذبح کیا جائے، البتہ اگر کہیں اور نیت کی تو وہاں ذبح کیا جائے گا جہاں نیت کی اور اگر وہ نہ پائے تو سات بکریاں کرلے، پھر میں نے حضرت سالم سے دریافت کیا انہوں نے بھی اسی طرح کہا، پھر میں نے حضرت سعید بن المسیب سے دریافت کیا انہوں نے بھی یہی کہا سوائے اس کے کہ اگر وہ نہ ملے تو دس بکریاں، پھر میں نے حضرت خارجہ بن زید کو بتایا جو ان حضرات نے کہا تھا آپ نے فرمایا : میں نے اپنے اصحاب میں سے کسی کو نہیں پایا جو اس کو شمار کرتے ہوں مگر سات بکریوں کے مقابلہ میں۔
حدیث نمبر: 13058
١٣٠٥٨ - قال: وسألت سالمًا (فقال) (١): مثل ذلك.
حدیث نمبر: 13059
١٣٠٥٩ - قال: وسألت سعيد بن المسيب فقال: مثل ذلك، إلا أنه قال: فإن لم يجد فعشرة من الغنم.
حدیث نمبر: 13060
١٣٠٦٠ - قال: وسألت خارجة بن زيد و (أخبرته) (١) بما قال القوم، فقال: ما أدركت أصحابنا يعدونها إلا سبعًا من الغنم. [كمل جميع الكفارات والحمد للَّه حق حمده] (٢)