کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص اپنے خادم کو طمانچہ مارے
حدیث نمبر: 13030
١٣٠٣٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن فراس عن أبي صالح عن زاذان عن (١) ابن عمر أنه أعتق عبدًا له، ثم أخذ من الأرض شيئًا، فقال: ما لي من أجره مثل هذا، سمعت النبي ﷺ (يقول) (٢): "من لطم (خادمًا له) (٣) فكفارته عتقه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زاذان سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا غلام آزاد کیا اور پھر زمین سے کچھ اٹھایا اور فرمایا میرے لیے اس کے برابر بھی اجر نہیں ہے میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے غلام کو طمانچہ مارے اس کا کفارہ اس کو آزاد کرنا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 13030
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (١٦٥٧) وأحمد (٤٧٨٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13030، ترقيم محمد عوامة 12754)
حدیث نمبر: 13031
١٣٠٣١ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن هلال بن (يساف) (١) قال: عجل شيخ فلطم خادمًا له فقال سويد بن مقرن: أعجز عليك إلا حر وجهها؟ لقد رأيتني سابع سبعة من بني مقرن ما لنا خادم إلا واحدة لطمها أصغرنا، فأمرنا رسول اللَّه ﷺ أن نعتقها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھلال بن یساف سے مروی ہے کہ ایک بوڑھے نے اپنے خادم کو طمانچہ مار دیا، حضرت سوید بن مقرّن نے فرمایا : تیرے پاس اب اسے آزاد کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں مجھے یاد ہے ہم اپنے باپ مقرن کے سات بچے تھے اور ہماری ایک خادمہ تھی جسے ہم میں سے سب سے چھوٹے نے تھپڑ مارا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کردیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 13031
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (١٦٥٨) وأحمد (١٥٧٠٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13031، ترقيم محمد عوامة 12755)