حدیث نمبر: 13012
١٣٠١٢ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عبيد اللَّه عن ابن عباس أن سعد بن عبادة استفتى النبي ﷺ في نذر كان على أمه توفيت قبل أن تقضيه، فقال: "اقضه عنها" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن عبادہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ ان کی والدہ پر نذر تھی جو وہ پوری کرنے سے پہلے ہی فوت ہوگئیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو اس کی طرف سے پورا کرلے۔
حدیث نمبر: 13013
١٣٠١٣ - حدثنا ابن علية عن علي بن الحكم البناني عن ميمون عن ابن عباس ﵄ (١) سئل عن رجل (مات) (٢) وعليه نذر، فقال: يصام (عنه) (٣) النذر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص فوت ہوگیا اور اس پر نذر تھی ؟ آپ نے فرمایا : اس کی طرف سے نذر کا روزہ رکھا جائے گا۔
حدیث نمبر: 13014
١٣٠١٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي حصين عن سعيد بن جبير قال مرة عن ابن عباس: إذا مات وعليه نذر قضى عنه وليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کوئی شخص فوت ہوجائے اور اس پر نذر ہو تو اس کا ولی اس کو پورا کرے گا۔
حدیث نمبر: 13015
١٣٠١٥ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان (١) عن أبيه عن إبراهيم في رجل مات وعليه نذر صوم، قال: يطعم عنه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے مروی ہے کہ ایک شخص فوت ہوگیا اور اس پر روزے کی نذر تھی، فرماتے ہیں اس کی طرف سے کھانا کھلایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 13016
١٣٠١٦ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن في رجل نذر (أن) (١) يصوم، فمات قبل أن يصوم، قال: كان يعجبه أن يقضى عنه الصوم صومًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے مروی ہے کہ ایک شخص نے روزے کی نذر مانی اور روزہ رکھنے سے پہلے ہی مرگیا تو فرماتے ہیں پسندیدہ یہ ہے کہ اس کی طرف سے روزہ کی قضاء روزے سے کرے۔
حدیث نمبر: 13017
١٣٠١٧ - حدثنا معتمر عن أبيه عن طاوس في النذر على الميت قال: يقضيه ورثته بينهم، إن كان على رجل صوم سنة، إن شاء صام كل إنسان (منهم) (١) ثلاثة أشهر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس میت پر نذر کے متعلق فرماتے ہیں ان کے ورثاء کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا اور اگر کسی شخص کے ذمہ سال کے روزے ہوں تو اگر ورثاء چاہیں تو روزے رکھ لیں، ورثاء میں سے ہر کوئی تین مہینے رکھے گا۔
حدیث نمبر: 13018
١٣٠١٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن كريب عن كريب عن ابن عباس ﵄ (١) عن سنان (بن) (٢) عبد اللَّه الجهني أنه حدثته عمته أنها أتت النبي ﷺ فقالت: يا رسول اللَّه، (إنها) (٣) توفيت أمي وعليها (مشي) (٤) إلى الكعبة نذر؟، فقال: "هل تستطيعين أن تمشي عنها؟ " فقالت: نعم، قال: "فامشي عن أمك"، فقالت: أيجزئ ذلك عنها؟ فقال: " (نعم) (٥)، أرأيت لو كان عليها دين فقضيته هل كان يقبل منك؟ " قالت: نعم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "اللَّه أحق بذلك" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سنان بن عبد اللہ الجھنی اپنی چچی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ٖ ! میری والدہ فوت ہوگئیں ہیں ان کے ذمہ کعبہ پیدل جانے کی نذر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : کیا تم طاقت رکھتی ہو کہ ان کی جگہ چل کر جاؤ ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر اپنی والدہ کی طرف سے چل کر جاؤ، میں نے عرض کیا کیا یہ ان کی طرف سے کفایت کر جائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیرا کیا خیال ہے کہ اگر ان پر قرض ہوتا جو تو ادا کرتی تو کیا وہ قرضہ تجھ سے قبول (وصول) کیا جاتا ؟ میں نے کہا جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اس کے زیادہ حقدار ہیں۔
حدیث نمبر: 13019
١٣٠١٩ - حدثنا ابن نمير عن عبد اللَّه بن (عطاء عن ابن) (١) (بريدة) (٢) عن أبيه ⦗٣٨٣⦘ قال: كنت جالسًا عند النبي ﷺ إذ جاءته امرأة (فقالت) (٣): (إنه) (٤) كان على أمي صوم شهرين، (أفيجزي) (٥) عنها أن (نصوم) (٦) عنها؟ قال: "نعم" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ایک عورت آئی اور عرض کیا : میری والدہ پر دو مہینے کے روزے تھے، کیا یہ کافی ہوجائے گا کہ میں اس کی طرف سے روزے رکھ لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں۔