کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کسی شخص سے قسم اٹھوائی جائے اور وہ اس میں کسی چیز کی نیت کر لے
حدیث نمبر: 13004
١٣٠٠٤ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم في الرجل يستحلف بالطلاق فيحلف، قال: اليمين (على) (١) ما استحلفه (الذي يستحلفه) (٢)، وليس نية الحالف بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ کسی شخص کو طلاق کی قسم دی جائے اور وہ قسم اٹھا لے تو قسم اس پر ہوگئی جس پر قسم اٹھوانے والے نے اس سے اٹھوائی ہے، اس میں قسم اٹھانے والے کی نیت کا اعتبار نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 13005
١٣٠٠٥ - حدثنا معتمر عن عمران عن الحسن قال: من حلف لرجل على يمين يرى (أنها) (١) ليست (بيمين) (٢) فهي يمين عاقدة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ کوئی شخص کسی سے قسم اٹھوائے یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ قسم کے ساتھ نہیں ہے تو یہ یمین منعقدہ ہے۔
حدیث نمبر: 13006
١٣٠٠٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن أبي العلاء عن أبي هاشم عن إبراهيم قال: اليمين على نية المستحلف.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں قسم میں قسم اٹھوانے والے کی نیت کا اعتبار ہے۔
حدیث نمبر: 13007
١٣٠٠٧ - [حدثنا يزيد قال: (حدثنا) (١) هشيم قال: (حدثنا) (٢) عباد بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "اليمين على نية المستحلف] (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قسم میں قسم اٹھوانے والی کی نیت کا اعتبار ہے۔
حدیث نمبر: 13008
١٣٠٠٨ - حدثنا يزيد قال: حدثنا أبو معشر عن موسى بن عقبة عن ابن ⦗٣٨٠⦘ (الفغواء) (١) قال: قال عمر: يمينك على ما صدقك صاحبك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ تیری قسم اس پر محمول ہے جس پر تیرے ساتھی نے تجھے سچا ٹھہرایا ہے۔
حدیث نمبر: 13009
١٣٠٠٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن حماد عن إبراهيم قال: إذا كان مظلومًا فله أن (يوري) (١) (بيمينه) (٢) (فإن) (٣) كان ظالما فليس له أن (يوري) (٤).