حدیث نمبر: 12958
١٢٩٥٨ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أن عمر قال: لئن أحمل على نعلين في سبيل اللَّه أحب إليَّ من أن أعتق ولد الزنى (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں دو جوتوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں مدد کروں یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ میں ولد الزنی آزاد کروں۔
حدیث نمبر: 12959
١٢٩٥٩ - حدثنا ابن فضيل عن يزيد عن مجاهد عن عائشة قالت: لئن أتصدق بثلاث (نويات) (١) أو (أمتع) (٢) بسوط في سبيل اللَّه أحب إليَّ من أن أعتق ⦗٣٦٨⦘ ولد (الزنى) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں تین گٹھلیاں صدقہ کروں یا ایک کوڑا اللہ کے راستہ میں دوں یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ میں ولد الزنی کو آزاد کروں۔
حدیث نمبر: 12960
١٢٩٦٠ - حدثنا ابن فضيل عن مجاهد قال: أعتق العباس بعض رقيقه في مرضه، فرد ابن عباس (منهم) (١) اثنين كانوا يرون أنهما أولاد زنا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت عباس نے اپنے مرض میں کچھ غلاموں کو آزاد کیا، پھر ان میں سے دو غلاموں کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے واپس کردیا، لوگوں کا خیال تھا کہ وہ دونوں ولد الزنی ہیں۔
حدیث نمبر: 12961
١٢٩٦١ - [حدثنا ابن فضيل عن ليث عن مجاهد أن عمرو بن (العاص) (١) أعتق (رقيقه) (٢) في (مرضه) (٣)، فرد عبد اللَّه بن عمرو منهم ستة كانوا يرون أنهم أولاد (زنا) (٤)] (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ حضرت عمرو بن عاص نے اپنے غلاموں کو مرض میں آزاد کیا، حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ان میں سے چھ غلاموں کو واپس کردیا، وہ سمجھتے تھے کہ وہ اولاد الزنی میں سے ہیں۔
حدیث نمبر: 12962
١٢٩٦٢ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن عبد الأعلى عن ابن الحنفية عن علي أنه كره عتق ولد (الزنى) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن الحنفیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ولد الزنی آزاد کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔