حدیث نمبر: 12948
١٢٩٤٨ - حدثنا عبد الأعلى عن برد عن نافع عن ابن عمر أنه أعتق ولد زنى وأمه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ولد الزنی اور اس کی ماں کو آزاد کیا۔
حدیث نمبر: 12949
١٢٩٤٩ - [حدثنا ابن نمير عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر أنه أعتق ولد زنى وأمه] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے اسی طرح منقول ہے۔
حدیث نمبر: 12950
١٢٩٥٠ - [حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن محمد قال: كان لا يرى (بأسًا) (١) بعتق ولد الزنى (٢)] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ محمد ولد الزنی آزاد کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 12951
١٢٩٥١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن طاوس عن أبيه في عتق ولد الزنى [قال: له ما احتسب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ولد الزنی کو آزاد کرنے کے متعلق فرمایا کہ اس کو آزاد کرنے میں کچھ حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 12952
١٢٩٥٢ - حدثنا أسباط عن عبد الملك قال: سئل عطاء عن عتق ولد الزنى أعتقه؟] (١) قال: نعم، عتقه حسن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا کہ ولد الزنی آزاد کیا جاسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، اس کا آزاد کرنا اچھا ہے۔
حدیث نمبر: 12953
١٢٩٥٣ - حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن يزيد (١) بن أبي (حريز) (٢) عن (مريم) (٣) بنت أبي يزيد عن أم (يحيث) (٤) أنها سألت أبا أمامة عن ولد الزنى تعتقه، قال: هو (كالدرهم) (٥) (الزيف) (٦)، تصدّقي به (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام نجید سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ابو امامہ سے ولد الزنی آزاد کرنے سے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا وہ کھوٹے دراھم کی طرح ہے اس کے ساتھ صدقہ ادا کرو۔
حدیث نمبر: 12954
١٢٩٥٤ - حدثنا وكيع عن ثور الشامي عن (عمر بن) (١) عبد الرحمن بن سعد قال: جاء رجل إلى ابن عباس فقال: إن لي غلامين، أحدهما رشدة والآخر غية، وإني أريد أن أعتق أحدهما، فأيهما ترى أن أعتق؟ قال: أكثرهما ثمنًا (ولو ولد زنا) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد الرحمن بن سعد سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور دریافت کیا کہ میرے پاس دو غلام ہیں، ایک صحیح النسب ہے اور دوسرا ولد الزنی، اور میں ایک غلام آزاد کرنا چاہتا ہوں، آپ کے خیال میں کونسا آزاد کروں ؟ آپ نے فرمایا دیکھو جو قیمتی ہو اس کو آزاد کرو، انہوں نے پایا کہ ولد الزنی زیادہ قیمتی ہے، پس آپ نے ان کو اس کے آزاد کرنے کا حکم دے دیا۔
حدیث نمبر: 12955
١٢٩٥٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن فراس عن الشعبي قال: أعتق أكثرهما ثمنًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جو دونوں میں زیادہ قیمتی ہو اس کو آزاد کر۔
حدیث نمبر: 12956
١٢٩٥٦ - (حدثنا وكيع) (١) عن هشام عن أبيه عن عائشة أنها سئلت عن ولد الزنى، فقالت: ليس عليه من خطيئة أبويه شيء، ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [الأنعام: ١٦٤] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ولد الزنی کو آزاد کرنے کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا اس کے والدین کا گناہ اس پر نہیں ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی { وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی }۔
حدیث نمبر: 12957
١٢٩٥٧ - حدثنا (وكيع) (١) قال حدثنا عيسى (الخباط) (٢) قال: سمعت الشعبي يقول: ولد الزنى خير الثلاثة، إنما (هذا) (٣) شيء قاله كعب: هو شر الثلاثة.
مولانا محمد اویس سرور
عیسیٰ الخباط فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ ولد الزنی تین میں بہترین ہے، بیشک یہ وہ ہے جس کے بارے میں حضرت کعب فرماتے ہیں یہ تین میں بدترین ہے۔