کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کوئی عورت نذر مانے کہ وہ پچاس مسجدوں میں نماز ادا کرے گی
حدیث نمبر: 12945
١٢٩٤٥ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم في امرأة جعلت على نفسها (أو) (١) نذرت أن تصلي في خمسين مسجدًا (و) (٢) أن تصدق من خمسين بيتًا وأن تصدق به، فأمرها أن لا تصدق فإنها معصية، تكفر (عن) (٣) يمينها وتصلي في خمسين مسجدًا، لأن الصلاة من طاعة اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے مروی ہے کہ ایک عورت نے نذر مانی کہ وہ پچاس مسجدوں میں نماز ادا کرے گی اور پچاس گھروں سے صدقہ جمع کر کے پھر اس کو صدقہ کرے گی، اس کو حکم دیا کہ وہ صدقہ جمع نہ کرے کیونکہ یہ معصیت ہے اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور پچاس مسجدوں میں نماز ادا کرے کیونکہ نماز طاعات میں سے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12945
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12945، ترقيم محمد عوامة 12672)
حدیث نمبر: 12946
١٢٩٤٦ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن في امرأة نذرت عليها أن تصلي إلى كل سارية من سواري مسجد البصرة قال: تصلي بعدد سواري المسجد في مقام واحد.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے مروی ہے کہ کوئی عورت نذر مانے کہ بصرہ کی مسجد کے ہر ستون پر نماز ادا کرے گی، تو وہ ایک ہی جگہ کھڑی ہو کر مسجد کے ستونوں کے بقدر نماز ادا کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12946
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12946، ترقيم محمد عوامة 12673)
حدیث نمبر: 12947
١٢٩٤٧ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبي البختري عن (١) مرة قال: دخلت المسجد وأنا أحدث نفسي أن أصلي عند كل اسطوانة ركعتين، ورجل يرمقني لا أشعر به، فلما جلست نظرت فإذا عبد اللَّه جالسا، فأتيته فجلست إليه، فإذا الرجل الذي يرمقني عنده، قال: ولا يشعر بمكاني، (قال) (٢): (يا أبا) (٣) ⦗٣٦٥⦘ عبد الرحمن، إن رجلًا دخل المسجد فجعل يصلي عند كل اسطوانة ركعتين، فقال: لو علم أن اللَّه عند (الاسطوانة الأولى) (٤) لم يتحول حتى (يقضي) (٥) صلاته، قال: فتركت بقية ما أردت أن أصلي (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مرہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور میں اپنے دل میں کہہ رہا تھا کہ میں ہر ستون کے پاس دو رکعتیں ادا کروں گا ایک شخص مجھے ترچھی نگاہ سے گھور رہا تھا میں اس کو نہیں جانتا تھا، جب میں بیٹھا تو میں نے دیکھا حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تشریف فرما ہیں، میں ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا، تو وہ شخص مجھے دیکھ رہا تھا وہ ان کے پاس تھا اور وہ میری جگہ کو نہیں جانتا تھا، اس نے کہا اے ابو عبد الرحمن ! ایک مسجد میں داخل ہوتا اور کہتا ہے کہ میں ہر ستون کے پاس دو رکعتیں ادا کروں گا، آپ نے فرمایا اگر وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی ستون کے پاس ہیں تو وہاں سے نہیں پھرے گا یہاں تک کہ اپنی نماز مکمل کرے گا، حضرت مرہ کہتے ہیں کہ میں نے جو پڑھنے کا ارادہ کیا تھا وہ ترک کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12947
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ رواية ابن فضيل عن عطاء بعد اختلاطه.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12947، ترقيم محمد عوامة 12674)