حدیث نمبر: 12902
١٢٩٠٢ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن في رجل جعل عليه صوم (شهر) (١) قال: (إن) (٢) سمى شهرًا معلومًا فليصمه (وليتابع) (٣)، وإذا لم (يسم) (٤) شهرًا معلومًا (أو) (٥) لم ينوه فليستقبل الأيام فليصم ثلاثين يومًا، (فإن) (٦) صام على (٧) الهلال وأفطر على رؤيته فكانت تسعة وعشرين (يومًا) (٨) أجزأه ذلك، وإن فرق (إذا) (٩) استقبل الأيام.
حدیث نمبر: 12903
١٢٩٠٣ - حدثنا الثقفي عن خالد عن أبي قلابة في الرجل يجعل عليه صوم شهر قال: هو أعلم بما جعل (وجعله نيته) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کہے مجھ پر ایک مہینے کے روزے ہیں تو وہ زیادہ جانتا ہے جو اس نے کہا ہے اور اس کی نیت کا اعتبار ہے (اس کی نیت پر محمول کریں گے) ۔
حدیث نمبر: 12904
١٢٩٠٤ - حدثنا (ابن نمير) (١) عن حجاج عن عطاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد اور ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نذر مانے کہ مجھ پر ایک مہینے کے روزے ہیں اور مہینوں میں سے کوئی مہینہ متعین نہ کرے تو اگر وہ چاہے تو لگاتار رکھے اور اگر چاہے تو جدا جدا دنوں میں رکھ لے۔
حدیث نمبر: 12905
١٢٩٠٥ - وعن (حماد) (١) عن إبراهيم (قالا) (٢): إذا جعل الرجل عليه صوم شهر ولم (يسم) (٣) شهرًا من الشهور، قال: إن شاء تابع وإن شاء فرق.
حدیث نمبر: 12906
١٢٩٠٦ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر (عن) (١) ميمون قال: النذر في الصيام متتابع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون فرماتے ہیں کہ نذر اگر روزوں کی ہو تو وہ لگاتار رکھے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 12907
١٢٩٠٧ - حدثنا حفص عن حجاج قال: سألت عطاء وحدثني من سأل إبراهيم عن رجل نذر أن يصوم شهرًا، (قالا: يصوم ثلاثين) (١) يعني متفرقًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا اور مجھے اس شخص نے بتایا جس نے ابراہیم سے دریافت کیا تھا ایک شخص نذر مانتا ہے کہ مجھ پر ایک ماہ کے روزے ہیں ؟ دونوں نے فرمایا : وہ تیس روزے رکھے گا یعنی جدا جدا لگاتار رکھنا ضروری نہیں۔