کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص کسی کو غلطی سے قتل کر دے پھر وہ روزے رکھے کیا اس کی طرف سے غلام آزاد کرنے سے کافی ہو جائے گا؟
حدیث نمبر: 12840
١٢٨٤٠ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا زكريا بن أبي زائدة عن الشعبي قال: سئل مسروق عن هذه الآية: ﴿وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ. . . فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ﴾ [النساء: ٩٢]، فسئل عن صيام شهرين، عن الرقبة وحدها أو عن الدية والرقبة فقال: من لم يجد فهو (عن) (١) الدية والرقبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا گیا { وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ وَّ دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰٓی اَھْلِہٖ } [النساء ٩٢] { فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعِیْنِ } [النساء ٩٢] ان سے دریافت کیا کہ دو مہینے کے روزے صرف اکیلے غلام آزاد کرنے سے کافی ہوں گے یا غلام اور دیت دونوں سے ؟ آپ نے فرمایا جو نہ پائے تو وہ دیت اور غلام دونوں سے کافی ہوجائیں گے۔