کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: عورت غلطی سے کسی کو قتل کر دے اور اس کا کوئی ولی بھی نہ ہو جو کفارہ ادا کرے اس کی طرف سے
حدیث نمبر: 12838
١٢٨٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا داود بن أبي هند عن الشعبي قال: مرت رفقة من أهل الشام فاشتروا جارية فأعتقوها فطرحت طنا من قصب على صبي فقتلته، (فأوتي بها) (١) مسروق، فقال: التمسوا أولياءها، فلم يجدوا أحدًا، فنظر ساعة و (تفكر) (٢)، وقال: قال اللَّه: ﴿فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ﴾ [المجادلة: ٤]، اذهبي فصومي شهرين متتابعين ولا شيء لهم عليك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ میں اہل شام کے پاس سے ایک مرتبہ گذرا تو انہوں نے ایک باندی خرید کر اس کو آزاد کردیا، اس باندی نے لکڑیوں کی گٹھڑی ایک بچہ پر پھینکی جس کی وجہ سے وہ بچہ ہلاک ہوگیا، اسے حضرت مسروق کے پاس لایا گیا، آپ نے فرمایا اس کے اولیاء کو تلاش کرو، انہوں نے کسی کو نہ پایا، آپ کچھ دیر غور وفکر فرماتے رہے پھر فرمایا کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے، { فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعِیْنِ } اس کو لے جاؤ اور اس سے ساٹھ روزے رکھواؤ، اور ان کے لیے اس پر کچھ نہیں ہے (جرمانہ وغیرہ) ۔
حدیث نمبر: 12839
١٢٨٣٩ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق قال: طرحت جارية طنًا من قصب على صبي فقتلته، فأتى (مسروق في) (١) ذلك فقال: هل (تعلم) (٢) لها من موالي؟ قالوا: لا ندري من مواليها، قال: (فهل) (٣) لها مال؟ قالوا: (ما) (٤) نعلم (لها) (٥) (مالا) (٦)، قال: فمروها أن تصوم شهرين متتابعين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک باندی نے لکڑیوں کی گٹھڑی بچہ پر پھینک کر اس کو مار دیا اس کو حضرت مسروق کے پاس لائے، آپ نے فرمایا کیا اس کے موالی ہیں ؟ لوگوں نے کہا ہمیں نہیں معلوم، آپ نے پوچھا کیا اس کے پاس مال ہے ؟ کہا ہمیں نہیں معلوم کہ اس کے پاس مال ہے کہ نہیں، آپ نے فرمایا اس کو حکم دو کہ وہ لگاتار ساٹھ روزے رکھے۔