کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص نذر مانے کہ وہ اپنی ناک میں نکیل ڈالے گا، (نکیل کی طرح سوراخ کرے گا) تو اس کا کیا کفارہ ہے؟
حدیث نمبر: 12806
١٢٨٠٦ - حدثنا وكيع عن علي بن مبارك عن يحيى بن أبي كثير عن رجل عن ⦗٣٢٨⦘ (عبد اللَّه) (١) بن (عمر) (٢) في رجل نذر أن يزم أنفه قال: يكفر (عن) (٣) يمينه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص نذر مانے کہ وہ اپنی ناک میں (نکیل کی مانند) سوراخ کرے گا، آپ نے فرمایا وہ اپنی قسم کا کفارہ اداکرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12806
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12806، ترقيم محمد عوامة 12543)
حدیث نمبر: 12807
١٢٨٠٧ - حدثنا وكيع عن شعبة عن أبي (جمرة) (١) الضبعي أن رجلًا من بني سليم نذر أن يزم أنفه فقال ابن عباس: النذر نذران: فما كان للَّه ففيه الوفاء، وما كان للشيطان ففيه الكفارة، أطلق زمامك (وكفر) (٢) يمينك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جمرہ فرماتے ہیں کہ بنی سلیم کے ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ اپنی ناک میں (نکیل کی طرح) سوراخ کرے گا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : نذر دو طرح کی ہوتی ہیں، پس جو اللہ کے لیے ہو اس کو پورا کیا جائے گا، اور جو شیطان کے لیے ہو اس کا کفارہ دیا جائے گا، اپنی لگام کھول دے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12807
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12807، ترقيم محمد عوامة 12544)
حدیث نمبر: 12808
١٢٨٠٨ - حدثنا أبو أسامة عن عثمان بن غياث قال: سألت جابر بن زيد عن رجل نذر أن يجعل في أنفه حلقة من ذهب قال: لا يزال عاصيًا ما دامت عليه، فمره فليكفر يمينه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن غیاث فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن زید سے دریافت کیا کہ ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ میں سونے کا حلقہ ڈالے گا، (سوراخ کر کے) آپ نے فرمایا جب تک وہ رہے گا وہ شخص گناہ گار ہوتا رہے گا، پس اس کو حکم دو کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12808
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12808، ترقيم محمد عوامة 12545)
حدیث نمبر: 12809
١٢٨٠٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث بن سوار عن الحسن في الرجل يجعل على (أنفه) (١) أن يزمها ويحج ماشيًا، قال: (قد) (٢) نهى رسول اللَّه (ﷺ) (٣) عن المثلة، انزع هذا (عنك) (٤) وحج راكبًا وانحر بدنة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے نذر مانی ہے کہ وہ اپنی ناک میں سوراخ کرے گا (کہ اس میں لگام یا نکیل ڈالے) اور پیدل حج کرے گا، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے، اس کو اپنے سے اتار دے اور سوار ہو کر حج ادا کر اور اونٹ کی قربانی کر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12809
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ أشعث ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12809، ترقيم محمد عوامة 12546)
حدیث نمبر: 12810
١٢٨١٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن ليث عن طاوس قال: لا زمام ولا خزام ولا نياحة يعني (في الإسلام) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ اسلام میں نکیل ڈالنا، اور بالوں کا حلقہ بنانا اور نوحہ کرنا نہیں ہے، (خزامہ کہتے ہیں کہ بالوں کا حلقہ جو اونٹ کی ناک کے سوراخ میں ڈالا جاتا ہے اور اس سے اس کی لگام کو باندھا جاتا ہے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12810
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12810، ترقيم محمد عوامة 12547)