کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص قسم اٹھا لے کہ وہ اپنے غلام کو ضرور مارے گا، تو کتنا مارنا کافی ہو جائے گا؟
حدیث نمبر: 12792
١٢٧٩٢ - حدثنا عبد اللَّه بن مبارك عن ابن جريج عن عبد اللَّه بن عبيد بن عمير عن أبيه أنه كان يحلل يمينه (بضرب) (١) دون ضرب أو ضرب أدنى من ضرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ شخص اپنے غلام کو معمولی سا (ہلکا سا) مارنے کی وجہ سے اپنی قسم سے بری ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 12793
١٢٧٩٣ - حدثنا ابن عيينة عن سليمان الأحول عن أبي معبد عن ابن عباس قال: من حلف على ملك يمينه ليضربنه فكفارته تركه وله من الكفارة (حسنة) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص قسم اٹھائے کہ وہ اپنے غلام کو ضرور مارے گا تو اس کا کفارہ اس کو نہ کرنا ہے، اور اس کے لیے کفارہ میں نیکی ہے۔
حدیث نمبر: 12794
١٢٧٩٤ - حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن قيس بن سعد عن عطاء عن ابن عباس في رجل نذر أن يضرب غلامه ثلاثين سوطًا أو أكثر، قال: يجمعها فيضربه ضربة واحدة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے نذر مانی ہے کہ وہ اپنے غلام کو تیس یا اس سے زیادہ کوڑے ماروں گا، آپ نے فرمایا سب کوڑوں کو اکھٹا جمع کرے اور اس کے ساتھ ایک ہی مرتبہ مار دے۔