حدیث نمبر: 12735
١٢٧٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع قال: كان ابن عمر إذا حلف أطعم مدًا (وإن وكدّ) (١) أعتق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حلف اٹھاتے تو ایک مد کھلا دیتے اور اگر اس کو پختہ کرتے تو غلام آزاد کرتے، ایوب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع سے پوچھا تاکید اور پختہ کرنا کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا، ایک ہی چیز پر باربار قسم اٹھانا۔
حدیث نمبر: 12736
١٢٧٣٦ - قال: فقلت لنافع: ما التوكيد؟، قال: يردد اليمين في الشيء الواحد.
حدیث نمبر: 12737
١٢٧٣٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا (هشام) (١) عن حماد عن إبراهيم قال: إذا قال الرجل للرجل وله عليه مال: إن لم تقضني يوم كذا وكذا فهو عليك صدقة، فليس بشيء، (وإذا قال) (٢): وإن لم تعطني إلى يوم كذا وكذا فهو (في) (٣) المساكين صدقة، فهو كما قال.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں ک جب کوئی شخص دوسرے سے کہے، اس کا اس شخص کے ذمہ مال ہے، اگر تو نے مجھے فلان دن ادا نہ کیا تو وہ تجھ پر صدقہ ہے، تو وہ کچھ بھی نہیں ہے، اور اگر وہ یوں کہے کہ اگر تو نے مجھے فلان دن عطا نہ کیا تو وہ مسکینوں کے لیے صدقہ ہے، تو وہ اسی طرح ہوگا جس طرح اس نے کہا۔
حدیث نمبر: 12738
١٢٧٣٨ - حدثنا ابن نمير عن يحيى بن سعيد عن منصور (بن) (١) عبد الرحمن عن أمه أنها سألت عائشة ﵂ (٢) ما يكفر قول الإنسان: كل مالي في سبيل اللَّه أو في (رتاج) (٣) الكعبة؟ (فقالت) (٤): يكفرها ما يكفر اليمين (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ میں میری والدہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ انسان کے اس قول پر کیا کفارہ ہے کہ وہ یوں کہے میرا سارا مال اللہ کے راستے میں یا کعبہ کے دروازے کے لیے ؟ امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : وہ اس کا کفارہ ادا کرے گا جو قسم کا کفارہ ہے۔