کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی عورت قتل خطاء کے کفارہ کے روزے رکھ رہی ہو تو روزے مکمل کرنے سے پہلے ہی اس کو حیض آ جائے تو کیا وہ انہی روزوں کو مکمل کرے گی یا نئے سرے سے روزے رکھے گی
حدیث نمبر: 12602
١٢٦٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: سألته عن امرأة ثقيلة الرأس نامت ومعها ابنها فأصبح ميتًا، قال: أطيب لنفسها أن تكفر عتق رقبة أو تصوم شهرين متتابعين. ⦗٢٨٥⦘ قلت: فإن حاضت؟ (قال) (١): ذلك ما لا بد للنساء منه (٢)، تقضي أيام (حيضها) (٣) إذا فرغت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے دریافت کیا ایک بڑے سر والی عورت کے ساتھ اس کا بچہ سویا ہوا تھا، صبح وہ مردہ پایا گیا، (اس کا کیا حکم ہے ؟ ) فرمایا اس کے نفس کی پاکی یہ ہے کہ وہ کفارہ ادا کرے ایک غلام آزاد کرے، یا لگا تار ساٹھ روزے رکھے، میں نے عرض کیا اگر روزوں کے درمیان اس کو حیض آجائے ؟ فرمایا یہ تو عورتوں کے لئے لازمی چیز ہے، جب حیض بند ہوجائے تو ان دنوں کے روزوں کی قضاء کرلے، (دوبارہ سارے روزے نہ رکھے) ۔
حدیث نمبر: 12603
١٢٦٠٣ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن قال: إذا قتلت المرأة نفسًا خطأ فصامت ثم حاضت قضت يومًا مكانه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی عورت کسی کو خطاء قتل کر دے پھر (کفارے میں) روزے رکھے اور اس کو حیض آجائے، تو ان ایام کی بعد میں قضاء کرلے۔
حدیث نمبر: 12604
١٢٦٠٤ - حدثنا أبو عبد الرحمن المقرئ قال: حدثنا سعيد بن أبي أيوب قال: حدثنا يزيد بن أبي حبيب عن ابن شهاب عن ابن المسيب قال: (أما) (١) المرأة فتصوم، فإذا حاضت تتم ما بقي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن المسیب فرماتے ہیں کہ عورت روزے رکھے، پھر جب اس کو حیض آجائے تو جو باقی روزے رہ گئے ہیں ان کو مکمل کرلے۔
حدیث نمبر: 12605
١٢٦٠٥ - حدثنا (عبد الرحيم) (١) عن أشعث عن الحسن في امرأة جعلت عليها أن تعتكف فأدركها الحيض، (قال) (٢): تقضي ما حاضت من عدة أيام (أخر) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ کوئی عورت اعتکاف کی نذر مانے پھر اس کو ان دنوں میں حیض آجائے تو جن دنوں میں اس کو حیض آیا ہے ان دنوں کی بعد میں قضاء کرلے۔