حدیث نمبر: 12553
١٢٥٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن عطاء عن سعيد بن جبير عن (ابن عباس) (١) قال: النذر إذا لم يسم أغلظ اليمين، وعليه أغلظ الكفارة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نذر کا جب نام نہ لے تو وہ سخت قسم ہے، اور اس پر کفارات میں سے سب سے سخت (بڑا) کفارہ آئے گا۔
حدیث نمبر: 12554
١٢٥٥٤ - (حدثنا) (١) ابن فضيل (عن ليث) (٢) عن الحكم عن ابن (معقل) (٣) عن عبد اللَّه بن مسعود قال: من جعل (للَّه) (٤) عليه نذرًا لم (يسم) (٥) فعليه نسمة (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں جو شخص یوں کہے مجھ پر اللہ کے لیے نذر ہے لیکن اس کا نام نہ لے تو اس کے ذمہ غلام آزاد کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 12555
١٢٥٥٥ - حدثنا عبد الرحيم عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن جبير عن ابن عمر قال: إذا قال علي نذر فلم يسمه فعليه كفارة (التي تليه، ثم التي تليه، ثم التي تليه) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص یوں کہے مجھ پر نذر ہے اور اس کو متعین نہ کر نام لے کر تو اس پر پیچھے آنے والا کفارہ ہے پھر وہ جو اس کے بعد ہے اور پھر وہ جو اس کے بعد ہے۔
حدیث نمبر: 12556
١٢٥٥٦ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن مغيرة عن إبراهيم قال: كفارة النذر غير المسماة كفارة اليمين.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ وہ نذر جس کا نام لے کر اس کو متعین نہ کیا ہو اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے۔
حدیث نمبر: 12557
١٢٥٥٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن داود (بن) (١) أبي هند عن ابن المسيب قال: إذا قال: عليَّ نذر، فعليه نذر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن المسیب فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص یوں کہے مجھ پر نذر ہے تو اس پر نذر (کا پورا کرنا) ہے۔
حدیث نمبر: 12558
١٢٥٥٨ - قال جابر بن زيد: إذا قال: عليَّ نذر؛ فإن سمى فهو ما سمى، وإن نوى (فعليه) (١) ما نوى، فإن لم يكن سمى شيئًا صام يومًا أو صلى ركعتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص کہے مجھ پر نذر ہے، پھر اگر وہ نام لے کر متعین کر دے تو وہ ہے جس کو اس نے متعین کیا، اور اگر وہ کسی کی نیت کرلے تو وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ہے اور اگر اس نے کسی کو متعین نہ کیا ہو تو ایک دن کا روزہ رکھ لے یا دو رکعت نماز پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 12559
١٢٥٥٩ - حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن ابن عباس قال: (إذا قال) (١): عليَّ نذر ولم يسم فهي يمين مغلظة، (يحرر) (٢) رقبة (أو) (٣) يصوم شهرين أو يطعم ستين مسكينًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب کوئی شخص کہے مجھ پر نذر ہے اور اس کو متعین نہ کرے تو وہ یمین مغلظہ ہے، وہ غلام آزاد کرے یا ساٹھ روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے، حسن فرماتے ہیں کہ وہ قسم ہے اور اس پر کفارہ ادا کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 12560
١٢٥٦٠ - قال: وقال الحسن: هي يمين يكفرها.
حدیث نمبر: 12561
١٢٥٦١ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن (١) رافع عن خالد بن يزيد عن عقبة بن عامر ﵁ (٢) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من نذر نذرًا فلم يسمه فعليه كفارة يمين" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن عامر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے نذر مانی اور اس کا نام لے کر اس کو متعین نہ کیا تو اس پر قسم والا کفارہ ہے۔
حدیث نمبر: 12562
١٢٥٦٢ - حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم وحماد قال: سألتهما عن رجل جعل (عليه) (١) نذرًا (لم) (٢) يسمه، (قالا) (٣): عليه الكفارة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے پوچھا ایک شخص کے بارے میں کہ اس نے نذر مانی ہے لیکن اس کا نام لے کر متعین نہیں کیا ؟ آپ دونوں نے فرمایا اس پر کفارہ ہے۔
حدیث نمبر: 12563
١٢٥٦٣ - حدثنا وكيع عن عبد اللَّه بن سعيد بن أبي هند عن (بكير) (١) بن عبد اللَّه ابن الأشج عن كريب عن ابن عباس رضي اللَّه (عنهما) (٢) قال: النذور أربعة: من نذر نذرًا لم يسمه فكفارته كفارة يمين، ومن (نذر نذرًا)) (٣) (٤) (في معصية فكفارته كفارة يمين) (٥)، (ومن نذر نذرًا فيما لا يطيق فكفارته كفارة ⦗٢٧٧⦘ يمين) (٦)، ومن نذر نذرًا فيما يطيق فليوف بنذره (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ نذر کی چار قسمیں ہیں کسی شخص نے نذر مانی لیکن اس کو متعین نہ کیا تو اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے، اور کسی نے معصیت کی نذر مانی تو اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے، اور جس نے نذر مانی اس چیز کی جس کی وہ طاقت نہیں رکھتا تو اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے، اور جس نے نذر مانی اس چیز کی جس کی وہ طاقت رکھتا ہے تو اس کو چاہئے کہ اپنی نذر پوری کرے۔
حدیث نمبر: 12564
١٢٥٦٤ - حدثنا عبد السلام عن (خصيف) (١) عن عكرمة في النذر لا يسمى (٢) قال: يمين مغلظة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں وہ نذر جس کو متعین نہ کیا ہو وہ یمین مغلظہ ہے۔