حدیث نمبر: 12520
١٢٥٢٠ - حدثنا أبو عبد الرحمن بقي بن مخلد قال: حدثنا أبو بكر عبد اللَّه بن محمد بن أبي شيبة قال: حدثنا إسماعيل بن إبراهيم بن علية عن أيوب عن أبي قلابة عن أبي المهلب (عن عمران بن حصين) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا نذر في معصية اللَّه ولا (فيما لا يملك) (٢) العبد" (٣).
حدیث نمبر: 12521
١٢٥٢١ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير وأبو أسامة عن عبيد اللَّه بن عمر عن طلحة بن عبد الملك (١) عن القاسم بن محمد عن عائشة عن النبي ﷺ قال: "من نذر أن (يطيع) (٢) اللَّه فليطعه ومن نذر أن يعصي اللَّه فلا يعصه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ کی اطاعت کی نذر مانے اس کو چاہئے کہ اللہ کی اطاعت کرے اور جو اللہ کی نافرمانی کی نذر مانے اس کو چاہئے کہ اللہ کی نافرمانی نہ کرے۔
حدیث نمبر: 12522
١٢٥٢٢ - حدثنا عبد اللَّه بن المبارك عن معمر (عن) (١) زيد بن رفيع عن أبي عبيدة قال: (قال) (٢) عبد اللَّه: إن النذر لا يقدم شيئًا ولا يؤخره ولكن اللَّه يستخرج به من البخيل فلا وفاء (لنذر) (٣) في معصية (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ نے ارشاد فرمایا : نذر کسی چیز کو آگے پیچھے نہیں کرتی، لیکن اللہ پاک اس کے ذریعہ سے بخیل سے نکالتا ہے، پس گناہ اور نافرمانی کی نذر کو پورا نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 12523
١٢٥٢٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن الدالاني عن أبي سفيان عن جابر قال: لا وفاء لنذر في معصية (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ معصیت اور نافرمانی کی نذر کو پورا کرنا نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 12524
١٢٥٢٤ - حدثنا (محمد) (١) بن فضيل عن النعمان بن قيس عن خالته مليكة عن عبيدة قالت: سألته عن النذر فقال: ما كان من نذر (٢) في شيء من طاعة اللَّه فأمضوه وما كان من نذر في شيء من طاعة الشيطان فلا تجيزوه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن قیس اپنی خالہ حضرت ملیکہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبیدہ سے نذر کے متعلق سوال کیا ؟ آپ نے فرمایا اگر کوئی نذر اللہ کی اطاعت کی ہو تو اس کو پورا کردو، اور جو نذر شیطان کی اطاعت کی ہو اس کو نہیں پورا کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 12525
١٢٥٢٥ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي عن مسروق قال: النذر نذران، (فنذر) (١) (للَّه) (٢) ونذر (للشيطان) (٣) فما كان للَّه ففيه الوفاء والكفارة، وما كان للشيطان فلا وفاء فيه ولا كفارة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ نذر دو طرح کی ہے، ایک نذر اللہ کے لیے ہے اور دوسری نذر شیطان کے لیے ہے، پس جو نذر اللہ کے لیے ہو اس کو پورا کرنا بھی ہے اور اس میں کفارہ بھی ہے، اور جو نذر شیطان کے لیے ہے اس کو پورا کرنا نہیں ہے اور اس میں کفارہ بھی نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 12526
١٢٥٢٦ - حدثنا حفص بن غياث عن أشعث عن الحكم وحماد عن إبراهيم عن علقمة قال: النذر نذران: فما كان للَّه (فوف) (١) به، وما كان في معصية فلا (تف به) (٢) و (عليه) (٣) الكفارة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ نذر دو طرح کی ہیں، پس جو نذر اللہ کے لیے ہو اس کو پورا کرو، اور جو نذر شیطان کے لیے ہو اس کو پورا مت کرو، اور تیرے ذمہ اس کا کفارہ ہے۔
حدیث نمبر: 12527
١٢٥٢٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن (عمارة بن) (١) القعقاع (عن إبراهيم) (٢) قال: لا نذر في معصية، كفِّر (بيمينك) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ معصیت کی نذر نہیں ہے، اپنی قسم کا کفارہ ادا کر،
حدیث نمبر: 12528
١٢٥٢٨ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي حصين عن سعيد بن جبير قال: جاء رجل إلى ابن عباس فقال: إني نذرت أن أقوم على قعيقعان عريانًا إلى الليل فقال: أراد الشيطان أن يبدي عورتك وأن يضحك (عليك) (١) الناس، (٢) البس ثيابك وصل عند الحجر ركعتين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور پوچھا کہ میں نے نذر مانی ہے کہ میں قعیقعان میں رات تک برہنہ کھڑا رہوں گا، آپ نے فرمایا شیطان چاہتا ہے تیرا ستر ظاہر کر دے اور لوگ تجھ پر ہنسیں، اپنے کپڑے پہن اور حجر اسود کے پاس جا کردو رکعت نماز ادا کر۔
حدیث نمبر: 12529
١٢٥٢٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا أبان (العطار) (١) قال: حدثنا يحيى بن أبي كثير عن أبي قلابة عن ثابت بن الضحاك الأنصاري أن رسول اللَّه ﷺ قال: "ليس على رجل نذر فيما لا يملك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت بن الضحاک انصاری سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آدمی پر اس چیز کی نذر نہیں ہے جس کا وہ مالک نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 12530
١٢٥٣٠ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن شعبة عن ثابت قال: سألت ابن عمر عن نذر المعصية فيه وفاء قال: لا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے معصیت کی نذر سے متعلق دریافت فرمایا کہ اس کو پورا کیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : نہیں۔
حدیث نمبر: 12531
١٢٥٣١ - حدثنا محمد بن فضيل عن بيان عن قيس قال: دخل أبو بكر على امرأة من (أحمس) (١) (مصمتة) (٢) في (حجتها) (٣) فجعلت تشير إليه ولا تكلمه فقال: ما لها لا تتكلم فقالوا: إنها نذرت أن تحج مصمتة فقال: تكلمي فإن هذا لا يحل لك إنما هذا من عمل الجاهلية (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق احمس کی ایک خاتون کے پاس گئے جو اپنے خیمہ میں خاموش بیٹھی تھی، وہ آپ کی طرف اشارے کر رہی تھی لیکن بات نہیں کر رہی تھی، آپ نے پوچھا اس کو کیا ہوا یہ بات نہیں کر رہی ؟ لوگوں نے بتایا کہ اس نے نذر مانی ہے کہ وہ خاموش رہ کر حج کرے گی، آپ نے فرمایا : بات کر، یہ تیرے لیے جائز نہیں ہے، یہ جاہلیت کے کاموں میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 12532
١٢٥٣٢ - حدثنا شبابة بن سوار عن شعبة عن ابن الجويرية (أو عن أبي الجويرية) (١) الشك من أبي بكر قال: سمعت عبد اللَّه بن بدر يذكر عن النبي ﷺ قال: "ولا نذر في معصية" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن بدر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : معصیت کی نذر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 12533
١٢٥٣٣ - حدثنا أبو أسامة عن أبي فروة يريد (بن) (١) سنان عن عروة بن رويم عن أبي ثعلبة الخشني عن النبي ﷺ قال: "لا وفاء لنذر في معصية" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ثعلبہ الخشنی سے مروی ہے کہ حضور ا قدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : معصیت کی نذر کو پورا کرنا نہیں ہے۔