کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس بات کے بیان میں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نہیں روتے تھے
حدیث نمبر: 12504
١٢٥٠٤ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) حدثنا محمد بن عمرو حدثنا أبي عن علقمة ابن وقاص عن عائشة أم المؤمنين قالت: (حضر) (٢) رسول اللَّه ﷺ وأبو بكر وعمر يعني سعد بن معاذ، فوالذي (نفس محمد) (٣) بيده إني لأعرف بكاء عمر من بكاء أبي بكر، وإني لفي حجرتي، قالت: (وكانوا) (٤) كما قال اللَّه (٥) رحماء بينهم، ⦗٢٦١⦘ قال علقمة: أي (أماه) (٦) كيف كان (يصنع) (٧) رسول اللَّه ﷺ؟ (قالت) (٨): كانت عينه لا (تدمع) (٩) على أحد (ولكنه) (١٠) كان إذا وجد فإنما هو أخذ بلحيته (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ بن وقاص سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر حضرت سعد بن معاذ کے پاس حاضر تھے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے میں پہچان رہی تھی کہ یہ ابوبکر کے رونے کی آواز ہے یہ حضرت عمر کی ہے اور میں اپنے حجرے میں تھی، فرماتی ہیں کہ وہ تو ایسے تھے جیسے اللہ نے فرمایا ہے { رُحَمَائُ بَیْنَہُمْ } آپس میں رحم دل، حضرت علقمہ نے فرمایا : امی جان حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (غم میں) کیا کرتے تھے ؟ امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی پر (آواز نکال کر نوحہ کے انداز میں) نہں ب روتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی غم پاتے تو اپنی داڑھی مبارک پکڑ لیتے۔
حدیث نمبر: 12505
١٢٥٠٥ - حدثنا أبو أسامة عن شعبة عن علي بن زيد عن أبي عثمان قال: أتيت عمر بنعي النعمان بن مقرن فوضع يده على رأسه وجعل يبكي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر کے پاس حضرت نعمان بن مقرن کی وفات کی خبر لایا تو آپ نے اپنا ہاتھ سر پر رکھ کر رونا شروع کردیا۔
حدیث نمبر: 12506
١٢٥٠٦ - حدثنا شريك عن الهجري عن (ابن) (١) أبي أوفى قال: إن بكت باكية أو دمعت عين فلا بأس ولكن (قد) (٢) نهينا عن (الترثي) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی اوفی فرماتے ہیں کہ کوئی روئے یا اس کے آنسو نکل آئیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن واویلا مچانے اور نوحہ کے انداز میں رونے سے منع کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 12507
١٢٥٠٧ - حدثنا إسماعيل بن علية (عن ابن عون) (١) عن نافع قال: كان ابن ⦗٢٦٢⦘ عمر في السوق فنعي إليه حجر فأطلق حبوته وقام (و) (٢) (غلبه) (٣) النحيب (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بازار میں تھے آپ کو حجر کی وفات کی اطلاع دی گئی تو آپ نے اپنی چادر پکڑی اور کھڑے ہوگئے اور آپ پر رونے کا غلبہ ہوگیا۔
حدیث نمبر: 12508
١٢٥٠٨ - حدثنا وكيع (حدثنا) (١) إسرائيل عن (أبي) (٢) إسحاق عن عامر بن سعد البجلي عن أبي مسعود وثابت بن زيد (٣) و (قرظة) (٤) بن كعب قالوا: رخص لنا في البكاء على الميت في غير نوح (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن سعد البجلی سے مروی ہے کہ حضرت ابی مسعود ، حضرت ثابت بن زید اور حضرت قرظہ بن کعب فرماتے ہیں کہ میت پر نوحہ کے بغیر رونے کی اجازت دی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 12509
١٢٥٠٩ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن عامر بن سعد قال: دخلت على أبي مسعود وقرظة بن كعب فقالا: (إنه) (١) رخص لنا في البكاء عند المصيبة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن سعد فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابی مسعود اور حضرت قرظہ بن کعب کے پاس آیا تو آپ دونوں حضرات نے فرمایا : بیشک ہمیں مصیبت میں رونے کی اجازت دی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 12510
١٢٥١٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن أبي إسحاق عن عامر بن سعد عن أبي مسعود و (ثابت) (١) بن (يزيد) (٢) نحوه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن سعد سے اسی کے مثل منقول ہے۔
حدیث نمبر: 12511
١٢٥١١ - حدثنا عفان حدثنا وهيب عن هشام بن عروة عن وهب بن كيسان عن محمد بن عمرو بن عطاء عن سلمة بن الأزرق عن أبي هريرة قال: مر على النبي ﷺ بجنازة يبكي عليها وأنا معه وعمر بن الخطاب، فانتهر عمر اللاتي يبكين مع الجنازة، فقال رسول اللَّه ﷺ: "دعهن يا ابن الخطاب، فإن النفس مصابة والعين دامعة والعهد قريب" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا جس کے ساتھ رونے والی عورتیں بھی تھیں میں اور حضرت عمر بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، حضرت عمر نے جنازے کے ساتھ رونے والیوں کو ڈانٹا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے خطاب کے بیٹے ! ان کو چھوڑ دو ، بیشک نفس مصیبت زدہ ہے، اور آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں اور وعدہ (مقرر وقت) قریب ہے۔
حدیث نمبر: 12512
١٢٥١٢ - حدثنا وكيع عن هشام بن عروة عن وهب بن كيسان عن محمد بن عمرو بن عطاء عن أبي هريرة عن النبي ﷺ بنحوه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل منقول ہے۔