حدیث نمبر: 12499
١٢٤٩٩ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن أبي عثمان عن أسامة بن زيد قال: دمعت (عين) (١) رسول اللَّه ﷺ حين أتي (بابنة) (٢) (زينب) (٣) ونفسها تقعقع كأنها في شن قال: فبكى، قال: فقال له رجل: تبكي وقد نهيت عن البكاء؟ فقال: "إنما هذه رحمة جعلها اللَّه في قلوب عباده وإنما يرحم اللَّه من عباده الرحماء" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ بن زید سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جب حضرت زینب کی بیٹی کو لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے، حضرت زینب کا سانس اکھڑ رہا تھا، گویا کہ وہ بڑھاپے میں ہیں، یہ حالت دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رو پڑے، ایک شخص نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ رو رہے ہیں حالانکہ آپ نے تو رونے سے منع کیا ہوا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ تو رحمت (کے آنسو) ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے، بیشک اللہ پاک اس پر رحم کرتا ہے جو اس کے بندوں پر رحم کرنے والا ہو۔
حدیث نمبر: 12500
١٢٥٠٠ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن عطاء عن جابر قال: أخذ النبي ﷺ بيد عبد الرحمن بن عوف فخرج به إلى النخل فأتي بإبراهيم وهو يجود بنفسه (فوضع) (١) في حجره، فقال: "يا بني لا أملك لك من اللَّه شيئًا"، وذرفت (عينه) (٢) فقال له عبد الرحمن: تبكي يا رسول اللَّه أو لم تنه عن البكاء؟ قال: "إنما نهيت عن النوح عن صوتين (أحمقين) (٣) فاجرَيْن صوت عند (نغمة) (٤) (لهو ولعب) (٥) (و) (٦) مزامير شيطان، وصوت عند مصيبة خمش وجوه وشق جيوب ⦗٢٥٨⦘ ورنة شيطان، إنما هذه رحمة ومن لا يرحم لا يرحم، يا إبراهيم لولا أنه أمر حق ووعد صدق وسبيل مأْتِيَّه، وإن (أخرانا) (٧) (سيلحق) (٨) أولانا، لحزنّا (٩) عليك حزنًا أشد من هذا، وانا بك لمحزونون، تبكي العين و (يحزن) (١٠) القلب ولا نقول ما يسخط الرب" (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑا اور کھجور کے درختوں کی طرف گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کو لایا گیا وہ اس وقت قریب المرگ تھے، ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں رکھا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے بیٹے ! میں تیرے لئے اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے، حضرت عبد الرحمن نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ رو رہے ہیں ؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رونے سے منع نہیں کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے نوحہ کرنے سے منع کیا ہے، دو فاجر اور احمق آوازوں سے : نغمہ کے وقت لھو ولعب کی آواز اور شیطان کی بانسری (کی آواز) اور مصیبت کی وقت کی آواز : چہروں کو نوچنا، گریبان چاک کرنا اور شیطان کی طرح زور سے چیخنا، بیشک یہ تو رحمت کے آنسو ہیں، اور جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا، اے ابراہیم اگر یہ امر حق نہ ہوتا، وعدہ سچا نہ ہوتا اور راستہ اور جہت انجانی نہ ہوتی اور ہمارے آخر والے عنقریب ہمارے پہلوں سے ملنے والے نہ ہوتے تو ہمارا غم تیرے بارے میں اس سے زیادہ ہوتا، اور ہم تیری وجہ سے البتہ غمگین ہیں آنیں ور روتی ہیں اور دل غمگین اور مغموم ہے اور ہم ایسی بات نہیں کریں گے جس سے ہمارا رب ناراض ہو۔
حدیث نمبر: 12501
١٢٥٠١ - حدثنا وكيع ثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قال: ذكر لها حديث ابن عمر: أن الميت (ليعذب) (١) ببكاء الحي فقالت: وهل أبو عبد الرحمن كما وهل يوم قليب (بدر) (٢) إنما قال رسول اللَّه ﷺ: "إنّه ليعذب وإنَّ أهله ليبكون عليه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث بیان کی گئی کہ میت کو زندہ کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے آپ نے فرمایا حضرت ابو عبد الرحمن کو اسی طرح غلطی ہوئی ہے جس طرح انہیں بدر کے کنویں کے مقتولوں کے بارے میں غلطی ہوئی تھی۔ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک میت کو عذاب دیا جا رہا ہوتا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 12502
١٢٥٠٢ - حدثنا شبابة بن سوار ثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت (عن) (١) أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ولد لي الليلة غلام فسميته باسم أبي: إبراهيم"، قال: ثم (دفعه) (٢) إلى أم سيف -امرأة قين بالمدينة يقال له أبو سيف- فانطلق ⦗٢٥٩⦘ رسول اللَّه ﷺ وانطلقت معه فصادفنا أبا سيف ينفخ في كيره وقد امتلأ البيت دخانًا، فأسرعت المشي بين يدي النبي ﷺ حتى انتهى إلى أبي سيف (فقلت) (٣): يا أبا سيف أمسك أمسك جاء رسول اللَّه ﷺ. فأمسك، فدعا رسول اللَّه ﷺ بالصبي فضمه إليه، وقال: ما شاء اللَّه أن يقول، قال أنس: فلقد رأيته يكيد بنفسه قال: فدمعت (عينا) (٤) النبي ﷺ فقال رسول اللَّه ﷺ: "تدمع العين ويحزن القلب ولا نقول إلا ما يرضي ربنا وإنا بك يا إبراهيم لمحزونون" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رات میرا بیٹا پیدا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام اپنے والد کے نام پر ابراہیم رکھا ہے۔ پھر آپ نے اس کو ام سیف کے پاس دودھ پلانے کے لیے بھیج دیا جو مدینہ کے ابو سیف لوہار کی بیوی تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلا، ہم اچانک ابو سیف کے پاس پہنچے جو اپیا دھونکنی میں پھونک مار رہا تھا جس کی وجہ سے سارے گھر میں دھواں بھرا ہوا تھا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تیز چل کر ابو سیف کے پاس پہنچا اور اس سے کہا : اے ابو سیف رک جا رک جا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں، تو وہ رک گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بیٹے کو بلایا اور اس کو سینے سے لگایا اور کہا جو اللہ نے چاہا، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان (ابراہیم) کو دیکھا کہ وہ نزع کی تکلیف میں مبتلا ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : آنکھیں بہہ رہی ہیں اور دل غمگین ہے اور ہم بات نہیں کریں گے مگر جس سے ہمارا رب راضی ہو اور اے ابراہیم ! ہم تیری وجہ سے بہت غمگین اور مغموم ہیں۔
حدیث نمبر: 12481
(١٢٤٨١) [*] حدثنا عبيد اللَّه بن موسى ثنا أسامة بن زيد عن نافع عن ابن عمر قال: رجع رسول اللَّه ﷺ يوم أحد فسمع نساء بني عبد الأشهل يبكين (على) (١) هلكاهن فقال: "لكن حمزة لا بواكي له"، فجئن نساء الأنصار (يبكين) (٢) على حمزة فرقد فاستيقظ فقال: "يا ويحهن إنهن لهاهنا حتى الآن، مروهن فليرجعن ولا يبكين على هالك بعد اليوم" (٣).
حدیث نمبر: 12503
١٢٥٠٣ - حدثنا الحسن بن موسى عن سعيد بن زيد قال: حدثني عطاء بن السائب ثنا عكرمة قال: كان ابن عباس يقول: احفظوا هذا الحديث، إن إحدى بنات النبي ﷺ كانت في الموت فوضعها رسول اللَّه ﷺ على يديه ووضع (رأسها) (١) ⦗٢٦٠⦘ على ثدييه وهي تسوق حتى (قبضت) (٢)، فوضعها وهو يبكي، قال: فصاحت أم أيمن، فقال النبي ﷺ " [أو لا أراك (تبكين) (٣)] (٤) عند (رسول اللَّه) (٥) ﷺ"، قالت: (و) (٦) لا أرى رسول اللَّه ﷺ-يبكي قال: "إني لم أبك، ولكنها رحمة" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا اس حدیث کو یاد کرو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک بیٹی موت کے قریب تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھوں پر اٹھایا اور سینے سے لگایا، راوی کہتے ہیں کہ وہ قریب المرگ تھیں یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو نیچے رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رو رہے تھے، حضرت ام ایمن نے چیخنا شروع کردیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تیرے لیے مناسب نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے روئے، حضرت ام ایمن نے فرمایا : کیا میں رسول اللہ کو روتے ہوئے نہیں دیکھ رہی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نہیں رو رہا یہ تو رحمت کے آنسو ہیں۔