حدیث نمبر: 12469
١٢٤٦٩ - حدثنا (ابن) (١) علية عن حبيب بن (الشهيد) (٢) عن ابن سيرين أن زيد ابن ثابت استأذن عثمان في نبش قبور كانت في مسجد النبي ﷺ فأذن له فنبشها وأخرجها من المسجد، قال: وإنما (كانت) (٣) تركت في المسجد لأنه كان في ⦗٢٤٦⦘ (أرقاء) (٤) الناس قلة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت نے حضرت عثمان سے اجازت مانگی کہ جو قبریں مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ہیں ان کو اکھیڑ (کھود) دیا جائے، تو آپ نے ان کو اجازت دے دی، تو انہوں نے ان قبروں کو کھود کر مسجد سے نکال دیا (اور کہیں اور دفنا دیا) اور وہ قبریں مسجد میں اس لیے چھوڑی گئی تھی کہ لوگوں کی نرم زمینیں بہت کم تھیں۔
حدیث نمبر: 12470
١٢٤٧٠ - حدثنا يزيد بن هارون (أخبرنا) (١) حماد بن سلمة عن أبي التياح عن أنس أن (٢) مسجد رسول اللَّه ﷺ كان لبني (النجار) (٣) فقال لهم رسول اللَّه ﷺ: " (ثامنوني) (٤) به"، فقالوا: لا (نلتمس) (٥) به (ثمنًا) (٦) إلا عند اللَّه، وكانت فيه قبور من قبور المشركين ونخل وحرث، فأمر بالحرث (فحرث) (٧)، وبالنخل فقطع، وبالقبور فنبشت (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے مروی ہے کہ مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی نجار کی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : مجھ سے اس کا ثمن لے لو، انہوں نے عرض کیا ہم اس کا ثمن اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں، اور مسجد میں مشرکین کی قبریں، کھجور کے درخت اور کھیتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھیتی کو کاٹنے، درختوں کو کاٹنے اور قبروں کو کھودنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 12471
١٢٤٧١ - حدثنا أبو أسامة أنا إسماعيل أنا قيس قال: رمى مروان طلحة يوم الجمل بسهم في ركبته فمات (فدفناه) (١) على (شاطئ) (٢) الكَلَّاء (٣)، فرأى بعض ⦗٢٤٧⦘ أهله أنه قال: (ألا) (٤) تريحونني من هذا الماء فإني (قد) (٥) غرقت، ثلاث مرات يقولها، (قال) (٦): فنبشوه فاشتروا له دارًا من (دور) (٧) آل (أبي) (٨) بكرة بعشرة آلاف (فدفناه) (٩) فيها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ جنگ جمل میں مروان نے حضرت طلحہ کے گھٹنے پر نیزہ مارا جس سے وہ شھید ہوگئے اور ان کو بصرہ میں دفن کردیا گیا، ان کے اھل میں سے کسی نے ان کو خواب میں دیکھا انہوں نے فرمایا : کیا تم مجھے راحت نہیں پہنچاؤ گے اس پانی سے ؟ بیشک مں ڈوب رہا ہوں، تین بار یہی کہا، پھر انہوں نے اس قبر کو کھودا اور ان کے لیے حضرت ابو بکرہ کے آل کے گھروں میں سے ایک گھر دس ہزار کا خرید کر اس میں ان کو دفن کردیا۔