کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: موت کے بعد میت کو کیا چیز پہنچتی ہے (ثواب کے اعمال میں سے)
حدیث نمبر: 12451
١٢٤٥١ - حدثنا جعفر بن عون عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة (قالت) (١): جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: إن أمي (افتلتت) (٢) نفسها، وإنها لو تكلمت تصدقت، فهل (لها) (٣) من أجر إن تصدقت عنها؟ قال: "نعم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میری والدہ کا اچانک انتقال ہوگیا اور بیشک وہ اگر گفتگو کرتی تو صدقہ و خیرات کرتی، اگر اب میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کو اجر ملے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں۔
حدیث نمبر: 12452
١٢٤٥٢ - حدثنا هشيم عن حجاج عن (عمرو) (١) بن (شعيب) (٢) عن أبيه عن جده أنه سأل النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه إن (العاص) (٣) بن وائل كان يأمر في الجاهلية أن ينحر مائة بدنة، وإن هشام بن (العاص) (٤) نحر حصته من ذلك خمسين بدنة أفأنحر؟ عنه فقال: "إن أباك لو كان أقر بالتوحيد (فصمت عنه) (٥) أو تصدقت (عنه) (٦) أو (أعتقت) (٧) عنه بلغه ذلك" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! عاص بن وائل نے زمانہ جاہلیت میں حکم دیا تھا کہ سو اونٹ ذبح کیے جائیں اور ہشام بن العاص نے ان کے حصہ کے پچاس اونٹ ذبح کیے تھے، کیا میں ان کی طرف سے ذبح کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تیرے والد نے توحید کا اقرار کرلیا تھا تو تمہارے ان کی طرف سے روزہ رکھنے سے، صدقہ کرنے سے اور غلام آزاد کرنے سے ان کو ثواب ملے گا۔
حدیث نمبر: 12453
١٢٤٥٣ - حدثنا شريك عن سالم عن سعيد بن أبي سعيد قال: لو تصدق عن الميت بكراع لتبعه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن ابو سعید فرماتے ہیں کہ اگر میت کی طرف سے تھوڑا سا گوشت صدقہ کیا جائے تو البتہ اس کو ثواب پہنچتا ہے۔
حدیث نمبر: 12454
١٢٤٥٤ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عبيد اللَّه عن ابن عباس أن سعد بن (عبادة) (١) استفتى النبي ﷺ في نذر كان على أمه توفيت قبل أن تقضيه فقال: "اقضه عنها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی والدہ کی نذر کے بارے میں دریافت فرمایا کہ وہ نذر پوری کرنے سے پہلے ہی وفات پا گئی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم ان کی طرف سے پوری کردو۔
حدیث نمبر: 12455
١٢٤٥٥ - حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن حماد بن سلمة عن عاصم عن (١) (أبي) (٢) صالح عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "إن الرجل ليرقى الدرجة فيقول: ما هذا؟ فيقال: باستغفار ولدك من بعدك لك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک کسی شخص کا ایک درجہ (جنت میں) بڑھ جاتا ہے، وہ پوچھتا ہے یہ کیسے ہوا ؟ تو اس کو کہا جاتا ہے یہ اس استغفار کی وجہ سے ہے جو تیرے بیٹے نے تیرے بعد تیرے لیے کی۔
حدیث نمبر: 12456
١٢٤٥٦ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن يحيى بن سعيد (عن سعيد) (١) بن المسيب قال: إن الرجل ليرفع بدعاء ولده له من بعده (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ بیشک آدمی کا درجہ (جنت) بڑھ جاتا ہے اس کے بیٹے کی دعا کی وجہ سے جو وہ اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے مانگتا ہے۔
حدیث نمبر: 12457
١٢٤٥٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن عطاء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان اور حضرت زید بن اسلم سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے والد کا انتقال ہوچکا ہے کیا میں ان کی طرف سے غلام آزاد کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں۔
حدیث نمبر: 12458
١٢٤٥٨ - (وعن) (١) سفيان (عن زيد) (٢) بن أسلم (قالا) (٣): جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه (أ) (٤) أعتق عن أبي وقد مات؟ قال: "نعم" (٥).
حدیث نمبر: 12459
١٢٤٥٩ - حدثنا وكيع ثنا (بن) (١) أبي رواد ثنا شريك عن الحجاج بن دينار قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن من البر (بعد البر) (٢) أن تصلي (عليهما) (٣) مع صلاتك وأن تصوم عنهما مع صيامك وأن تصدّق عنهما مع صدقتك" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج بن دینار سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک نیکی کے بعد نیکی یہ ہے کہ تو والدین کے لیے اپنی نماز کے ساتھ نماز ادا کر، اور ان کی طرف سے روزہ رکھ اپنے روزے کے ساتھ، اور اپنے صدقہ کے ساتھ ان کی طرف سے بھی صدقہ کر۔
حدیث نمبر: 12460
١٢٤٦٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن عطاء قال: يقضى عن الميت أربع: العتق والصدقة (والحج) (١) والعمرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میت کی طرف سے چار کام (اعمال) کیے جاسکتے ہیں، غلام آزاد کرنا، صدقہ کرنا، حج کرنا اور عمرہ کرنا۔
حدیث نمبر: 12461
١٢٤٦١ - حدثنا وكيع عن أبيه عن عبد الكريم عن عطاء قال: (يتبع) (١) الميت بعد موته العتق والحج والصدقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میت کے مرنے کے بعد اس کی طرف سے غلام آزاد کرنے، حج کرنے اور صدقہ کرنے کا ثواب اسے ملتا ہے۔
حدیث نمبر: 12462
١٢٤٦٢ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن عبد اللَّه بن عطاء عن ابن بريدة عن أبيه قال: كنت جالسًا عند النبي ﷺ إذ جاءته امرأة فقالت له: (إنه) (١) كان على أمي ⦗٢٤٤⦘ صوم شهرين (أفيجزي) (٢) عنها أن أصوم عنها؟ قال: "نعم" قالت: فإن أمي لم تحج قط (أفيجزى) (٣) أن أحج عنها؟ قال: "نعم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا ایک عورت حاضر ہوئی اور عرض کیا : میری والدہ کے ذمہ دو مہینے کے روزے تھے کیا یہ کافی ہے کہ میں ان کی طرف سے روزے رکھ لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں اس نے عرض کیا : میری والدہ نے کبھی حج نہیں کیا تھا کیا کافی ہے (جائز ہے) کہ میں ان کی طرف سے حج کرلوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں۔
حدیث نمبر: 12463
١٢٤٦٣ - حدثنا الفضل بن دكين عن الحسن بن صالح عن عبد اللَّه بن عطاء عن أبي جعفر أن الحسن والحسين كانا يعتقان عن علي بعد موته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ حضرات حسنین حضرت عیِ کی وفات کے بعد ان کی طرف سے غلام آزاد کرتے تھے۔