کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: مؤمن کی روح کس طرح قبض کی جاتی ہے اور کافر کی روح کس طرح قبض کی جاتی ہے
حدیث نمبر: 12432
١٢٤٣٢ - حدثنا أبو معاوية (عن) (١) الأعمش عن المنهال عن زاذان عن البراء قال: خرجنا مع رسول اللَّه ﷺ في جنازة رجل من الأنصار، فانتهينا إلى القبر (ولما) (٢) يلحد، فجلس رسول اللَّه ﷺ وجلسنا حوله كأنما على رؤوسنا الطير، وفي يده عود ينكت به فرفع رأسه فقال: " (استعيذوا) (٣) باللَّه (من) (٤) عذاب القبر"، ثلاث مرات أو مرتين، ثم قال: "إن العبد المؤمن إذا كان في انقطاع من الدنيا وإقبال من الآخرة، نزل اليه من السماء ملائكة بيض الوجوه كان وجوههم الشمس، حتى يجلسون منه مدَّ البصر، معهم كفن من أكفان الجنة وحنوط من حنوط الجنة، ثم يجيء ملك ⦗٢٢٧⦘ الموت فيقعد عند رأسه فيقول: أيتها النفس الطيبة اخرجي إلى مغفرة من اللَّه ورضوان، (فتخرج) (٥) (تسيل) (٦) كما تسيل (القطرة) (٧) من فِيِّ السقاء (٨)، فإذا (أخذوها) (٩) لم يدعوها في يده طرفة عين حتى يأخذوها فيجعلوها في ذلك الكفن وذلك الحنوط، فيخرج منها كأطيب نفحة مسك وجدت على وجه الأرض، فيصعدون بها فلا يمرون (بها) (١٠) على (ملأ) (١١) من الملائكة إلا قالوا: ما هذا الروح الطيب، فيقولون هذا فلان بن فلان، بأحسن أسمائه التي كان يسمى بها في الدنيا، حتى ينتهون لها إلى السماء الدنيا فيستفتح فيفتح لهم، فيستقبله من كل سماء مقربوها إلى السماء التي تليها، حتى ينتهى (به) (١٢) إلى السماء السابعة قال: فيقول اللَّه (تعالى) (١٣): اكتبوا كتاب عبدي في عليين، في السماء الرابعة، وأعيدوه إلى الأرض فإني منها خلقتهم وفيها أعيدهم ومنها أخرجهم تارة أخرى. (فتعاد) (١٤) روحه (في) (١٥) جسده ويأتيه ملكان، فيجلسانه فيقولان له: من ربك؟ فيقول: (ربي) (١٦) ⦗٢٢٨⦘ اللَّه. فيقولان [له: ما دينك؟ فيقول: ديني الإسلام. فيقولان له: ما (هذا) (١٧) الرجل الذي بعث فيكم؟ فيقول: هو رسول اللَّه ﷺ فيقولان] (١٨): ما عملك؟ فيقول: قرأت كتاب اللَّه وآمنت به وصدقت به. فينادي مناد من السماء أن صدق عبدي فافرشوه من الجنة وألبسوه من الجنة وافتحوا له بابًا (إلى) (١٩) الجنة، فيأتيه من طيبها وروحها، ويفسح له في قبره مد بصره، ويأتيه رجل حسن (الوجه) (٢٠) حسن الثياب طيب الريح فيقول: أبشر بالذي (يسرك) (٢١)، هذا يومك الذي كنت توعد فيقول: ومن أنت؟ فوجهك (الوجه) (٢٢) (الذي) (٢٣) يجيء بالخير، فيقول: أنا عملك الصالح، فيقول: رب أقم الساعة، أقم الساعة، حتى أرجع إلى أهلي ومالي. وإن العبد الكافر إذا كان في انقطاع من الدنيا وإقبال من الآخرة نزل إليه من السماء ملائكة سود الوجوه معهم المسوح، حتى يجلسون منه مد البصر، ثم قال: ثم يجيء ملك الموت حتى يجلس عند رأسه فيقول: (يا) (٢٤) أيتها النفس الخبيثة اخرجي إلى سخط اللَّه وغضبه، قال: (فتفرق) (٢٥) (في) (٢٦) جسده، قال: فتخرج ⦗٢٢٩⦘ (فينقطع) (٢٧) (معها) (٢٨) العروق والعصب كما (تنزع) (٢٩) (السفود) (٣٠) من الصوف المبلول، (فيأخذها فإذا أخذها) (٣١) لم يدعوها في يده طرفة عين حتى يأخذوها فيجعلوها في تلك المسوح، فيخرج منها كأنتن (٣٢) جيفة وجدت (على ظهر) (٣٣) الأرض، فيصعدون بها، فلا يمرون بها على ملأ من الملائكة إلا قالوا: ما هذا الروح الخبيث؟ فيقولون: فلان بن فلان باقبح أسمائه التي كان يسمى بها في الدنيا، حتى ينتهي به إلى سماء الدنيا فيستفتحون فلا يفتح (له) (٣٤). ثم قرأ رسول اللَّه ﷺ: ﴿لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ﴾ [الأعراف: ٤٠]. قال: فيقول اللَّه ﷿: اكتبوا كتاب عبدي في سجين في الأرض السفلى، وأعيدوه إلى الأرض فإني منها خلقتهم وفيها أعيدهم ومنها أخرجهم تارة أخرى. فتطرح روحه طرحًا، قال ثم قرأ رسول اللَّه ﷺ: ﴿وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ﴾ [الحج: ٣١]، قال: (فتعاد) (٣٥) روحه في جسده ويأتيه (الملكان) (٣٦) (فيجلسانه) (٣٧) فيقولان له: من ربك ⦗٢٣٠⦘ فيقول: هاه هاه لا أدري، (فيقولان) (٣٨) له: (و) (٣٩) ما دينك؟ فيقول: هاه هاه لا أدري، قال: (فينادي) (٤٠) مناد من السماء: افرشوا له من النار (وألبسوه) (٤١) من النار وافتحوا له بابًا إلى النار. قال: فيأتيه من حرها وسمومها ويضيق عليه قبره حتى (تختلف) (٤٢) (عليه) (٤٣) أضلاعه، ويأتيه رجل قبيح (الوجه وقبيح) (٤٤) الثياب منتن الريح فيقول: أبشر بالذي يسووك، هذا يومك الذي كنت توعد، فيقول: من أنت فوجهك الوجه الذي يجيء بالشر فيقول: أنا عملك الخبيث، (فيقول) (٤٥) رب لا (تقمِ) (٤٦) الساعة رب لا تقم الساعة" (٤٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک انصاری کے جنازے میں گئے جب ہم قبر پر پہنچے اور لحد ابھی تک تیار نہ ہوئی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہوئے اور ہم لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد اس طرح بیٹھ گئے جس طرح ہمارے سروں پر پرندے بیٹھ گئے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین کو کرید رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا لوگو ! عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو ! دو یا تین بار یہ فرمایا پھر فرمایا مؤمن بندے کا جب دنیا سے تعلق ختم ہونے اور آخرت کی طرف متوجہ (جانے) ہونے کا وقت آتا ہے تو آسمان سے سفید چہروں والے فرشتے آتے ہیں گویا کہ ان کے چہرے سورج ہیں یہاں تک کہ وہ اس کی آنکھوں کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں ان کے ساتھ (پاس) جنت کے کفن اور جنت کی خوشبو ہوتی ہے پھر ملک الموت آ کر اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے اے پاکیزہ نفس ! اللہ کی رضا اور اس کی مغفرت (کے سایہ) میں نکل تو وہ روح اس طرح بہہ نکلتی ہے جس طرح مشکیزہ سے پانی کا قطرہ نکلتا ہے پھر وہ اس کو پکڑ لیتا ہے جب اس کو پکڑتا ہے تو پلک جھپکنے کی دیر کے لیے بھی اس کو نہیں چھوڑتا یہاں تک کہ اس کو کفن اور خوشبو میں رکھ دیتے ہیں اس میں سے پاکیزہ مشک کی خوشبو نکلتی ہے جیسی خوشبو زمین میں پائی جاتی ہے۔ پھر وہ فرشتے اس پاکیزہ روح کو لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں اور وہ جس فرشتوں کی جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں یہ پاکیزہ روح کون ہے ؟ وہ کہتے ہیں فلاں بن فلاں اسے اچھے نام کے ساتھ پکارتے ہیں جو دنیا میں اس کا اچھا اور خوبصورت نام تھا، یہاں تک کہ وہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں پھر وہ فرشتے دروازہ کھلواتے ہیں تو ان کے لیے دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور ہر آسمان کے مقرب فرشتے اس کا استقبال کرتے ہیں یہاں تک کہ اس کو ساتویں آسمان تک لے جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے کی کتاب چوتھے آسمان پر علیین میں لکھ دو اور اس کو زمین کی طرف لوٹا دو بیشک اسی میں سے میں نے ان کو پیدا کیا تھا اور اسی میں لوٹاؤں گا اور اسی میں سے دوبارہ (قیامت کے دن) نکالوں گا۔ پھر اس کی روح کو جسم کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے اللہ میرا رب ہے پھر وہ اس سے پوچھتے ہیں تیرا دین کونسا ہے ؟ وہ کہتا ہے میرا دین اسلام ہے پھر اس سے پوچھتے ہیں یہ شخص کون ہے جو تمہاری طرف مبعوث کیا گیا تھا ؟ وہ کہتا ہے یہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ وہ کہتے ہیں اس کے متعلق تو کیا جانتا ہے ؟ وہ کہے گا میں نے اللہ کی کتاب کی تلاوت کی اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی۔ پھر آسمان سے ایک منادی ندا دے گا کہ میرے بندے نے سچ کہا ہے اس کے لیے جنت سے بچھونا بچھا دو اور جنت کا لباس اس کو پہنا دو اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو پس اس کے لیے جنت کی خوشبو اور ہوا آئے گی اور اس کی قبر کو تاحد نگاہ وسیع کردیا جائے گا اس کے پاس خوبصورت چہرے خوبصورت کپڑے اور خوبصورت خوشبو والا شخص آئے گا وہ کہے گا خوشخبری ہے ان نعمتوں کی جو تجھ کو خوش کردیں گی۔ یہی وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا گیا تھا، وہ شخص پوچھے گا تو کون ہے ؟ وہ بھلائی اور خیر کے ساتھ اس کے چہرے کی طرف متوجہ ہوگا اور کہے گا میں تیرا نیک عمل ہوں وہ شخص عرض کرے گا اے میرے رب ! قیامت قائم فرما ! اے میرے رب ! قیامت قائم فرما تاکہ میں اپنے اہل اور مال کی طرف لوٹ جاؤں۔ اور جب کافر بندے کا دنیا سے تعلق ختم ہو رہا ہوتا ہے اور آخرت کی طرف جانے کا وقت آتا ہے تو اس کی طرف آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے آتے ہیں ان کے ساتھ پرانے کمبل ہوتے ہیں اور وہ اس کی آنکھوں کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آ کر اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے اے خبیث نفس ! اللہ کی ناراضگی اور غصہ میں نکل، فرمایا روح اس کے جسم میں جدا جدا ہو کر نکلتی ہے وہ اس طرح نکلتی ہے کہ جس کی وجہ سے اس کے پٹھے اور رگیں کٹ جاتے ہیں جیسے سیخ کو گیلی روئی میں سے کھینچ کر نکالا جائے پھر وہ اس کو پکڑ لیتے ہیں جب اس کو پکڑتے ہیں تو پلک جھپکنے کی دیر کے لیے بھی اس کو نہیں چھوڑتے یہاں تک کہ اس کمبل میں ڈال دیتے ہیں اس میں مردار کی سی بدبو نکلتی ہے جیسی بدبو زمین پر پائی جاتی ہے پھر وہ فرشتے اس کی روح کو لے کر آسمان کی طرف چڑھتے ہیں وہ فرشتوں کی کسی جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ دریافت کرتے ہیں یہ خبیث روح کس کی ہے ؟ وہ کہتے ہیں فلاں بن فلاں کی ہے اس برے نام سے اس کو پکارتے ہیں جس نام سے وہ دنیا میں پکارا
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12432
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أو بعضه أحمد (١٨٥٣٤)، وأبو داود (٤٧٥٣)، والنسائي ٤/ ٧٨، وابن ماجة (١٥٤٩)، والحاكم ١/ ٣٧، وهناد في الزهد (٣٣٩)، والطيالسي (٧٥٣)، وابن جرير في التفسير (٢٠٧٦٤)، والآجري في الشريعة ص ٣٦٧، واللالكائي (٢١٤٠)، وعثمان بن سعيد في الرد على الجهمية ص ٢٩، وابن خزيمة في التوحيد (ص ١١٩)، وابن منده في الإيمان (١٠٦٤)، والبيهقي في شعب الإيمان (٣٩٥)، وعبد الرزاق (٦٧٣٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12432، ترقيم محمد عوامة 12185)
حدیث نمبر: 12433
١٢٤٣٣ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير ثنا الأعمش، ثنا المنهال عن زاذان عن البراء عن النبي ﷺ حدثنا حسين بن علي عن (زائدة) (١) عن عاصم عن شقيق عن أبي ⦗٢٣١⦘ موسى قال: (تخرج) (٢) نفس المؤمن وهي أطيب ريحًا من المسك، قال: (فتصعد) (٣) بها الملائكة الذين يتوفونها (فتلقاهم) (٤) ملائكة دون السماء فيقولون: من هذا معكم؟ فيقولون: فلان (٥) ويذكرونه بأحسن عمله، فيقولون: حياكم اللَّه وحيا (من) (٦) معكم (٧). قال: (فتفتح) (٨) له أبواب السماء، قال: فيشرق وجهه، (قال) (٩): فيأتي الربَّ ولوجهه برهان مثل الشمس، قال: (وأما) (١٠) الآخر (فتخرج) (١١) نفسه وهي أنتن من الجيفة، فيصعد بها الذين (يتوفونها) (١٢) قال: (فتلقاهم) (١٣) (ملائكة) (١٤) دون السماء، فيقولون: من هذا معكم؟ فيقولون: هذا فلان (ويذكرونه) (١٥) بأسوأ عمله، فيقولون: ردوه فما (ظلمه) (١٦) اللَّه شيئًا، وقرأ ⦗٢٣٢⦘ أبو موسى: ﴿(وَ) (١٧) لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ﴾ (١٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء سے اسی طرح منقول ہے اس میں اس بات کا اضافہ ہے کہ سجین نچلی زمین کی تہہ میں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12433
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عاصم في أبي وائل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12433، ترقيم محمد عوامة 12186)
حدیث نمبر: 12434
١٢٤٣٤ - حدثنا يزيد بن هارون (أخبرنا) (١) محمد بن (عمرو) (٢) عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: إن الميت ليسمع خفق نعالهم حين يولون عنه مدبرين، فإن كان مؤمنًا كانت الصلاة عند رأسه وكانت الزكاة عن يمينه وكان الصيام عن يساره وكان فعل الخيرات من الصدقة (والصلة) (٣) والمعروف (٤) والإحسان إلى الناس عند رجليه، (فيؤتى) (٥) من قبل رأسه (فتقول) (٦) الصلاة: ما قبلي مدخل، (ويؤتى) (٧) عن يمينه (فتقول) (٨) الزكاة: ما قبلي مدخل، (ويؤتى) (٩) عن يساره فيقول الصيام (١٠): ما قبلي مدخل، (ويؤتى) (١١) من قبل رجليه (فيقول) (١٢) فعل الخير: ⦗٢٣٣⦘ من الصدقة والصلة والمعروف والإحسان إلى الناس (فيقول) (١٣) (١٤): ما قبلي مدخل. (قال) (١٥): فيقال له: اجلس، (فيجلس) (١٦) قد (مثلت) (١٧) له الشمس (تدانت) (١٨) للغروب، فيقال له: أخبرنا عن ما نسألك عنه فيقول: دعوني حتى أصلي، فيقال له: إنك ستفعل، فأخبرنا عما نسألك، فيقول: و (عم) (١٩) (تسألوني) (٢٠)؟ (فيقولون) (٢١): أرأيت هذا الرجل الذي كان فيكم ما تقول فيه؟ (و) (٢٢) ما تشهد به عليه؟ قال: فيقول محمد، فيقال له: نعم، فيقول: أشهد أنه رسول اللَّه ﷺ وأنه (جاء) (٢٣) بالبينات من عند اللَّه فصدقناه، فيقال (له) (٢٤): على ذلك (حييت) (٢٥) وعلى ذلك مت، وعلى ذلك تبعث، إن شاء اللَّه (تعالى) (٢٦). ثم (يفسح له في قبره سبعون ذراعا وينور له فيه، ثم) (٢٧) يفتح له باب إلى الجنة فيقال له: انظر إلى ما ⦗٢٣٤⦘ أعد اللَّه لك فيها (٢٨)، فيزداد غبطة وسرورًا، (ثم يفتح له باب إلى النار فيقال له: ذلك مقعدك وما أعد اللَّه لك فيها لو عصيته فيزداد غبطة وسرورًا) (٢٩)، ثم (يجعل) (٣٠) (نسمة) (٣١) من (النسم) (٣٢) الطيب (وهو) (٣٣) طير خضر (تعلق) (٣٤) (بشجر) (٣٥) الجنة ويعاد (الجسم) (٣٦) إلى ما بدأ منه من التراب، فذلك (قول اللَّه) (٣٧) تعالى: ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ [إبراهيم: ٢٧] (٣٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بیشک میت جوتوں کی آواز سنتا ہے جب وہ اس کو دفنا کر واپس جاتے ہیں، پھر اگر مؤمن ہو تو نماز اس کے سر کے پاس ہوتی ہے، زکوٰۃ اس کی داہنی جانب اور روزہ اس کے بائیں جانب اور اس کے نیک اعمال، صدقہ، صلہ رحمی، اور لوگوں کے ساتھ احسان اس کے پاؤں کے پاس ہوتے ہیں، پھر وہ عذاب سر کی طرف سے آئے گا تو نماز کہے گی، نہیں ہے میری طرف سے داخل ہونے کا راستہ نہیں ہے، اگر آئے گا اس کے دائیں جانب سے تو زکوٰۃ کہے گی میری طرف سے داخل ہونے کا راستہ نہیں ہے، اس کے بائیں جانب سے آئے گا تو روزہ کہے گا میری طرف سے داخل ہونے کا راستہ نہیں ہے پھر اس کے پاؤں کی جانب سے آئے گا تو اس کے اچھے اعمال صدقہ، صلہ رحمی اور احسان کہیں گے، ہماری طرف سے داخل ہونے کا راستہ نہیں ہے۔ پھر اس کو کہا جائے گا، بیٹھ جا، وہ بیٹھ جائے گا تو اس کو ایسا لگے گا جیسے سورج غروب ہونے کے قریب ہو، فرشتے اس کو کہیں گے جو ہم تجھ سے سوال کریں گے اس کا جواب دے، وہ کہے گا مجھے چھوڑو تاکہ میں نماز ادا کرلوں، اس کو کہا جائے گا بیشک تو یہ ادا کرچکا ہے، ہمیں بتا جو ہم تجھ سے سوال کریں گے، وہ کہے گا تم مجھ سے کیا سوال پوچھتے ہو ؟ وہ کہیں گے کیا تو اس شخص کو دیکھتا ہے جو تمہاری طرف مبعوث کیا گیا اس کے متعلق کیا کہتا ہے ؟ اور تو اس کے بارے میں کیا گواہی دیتا ہے ؟ وہ پوچھے گا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ؟ اس کو کہا جائے گا ہاں، تو وہ کہے گا میں گواہی دیتا ہوں وہ اللہ کے رسول ہیں اور وہ ہمارے پاس اللہ کی طرف سے واضح دلائل لے کر آئے تھے تو ہم نے ان کی تصدیق کی، اس کو فرشتے کہیں گے، اسی پر تو زندہ تھا، اسی پر تجھے موت آئی اور اسی پر تو دوبارہ اٹھایا جائے گا ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ پھر اس کی قبر ستر گز لمبی کردی جائے گی اور اس میں اس کے لیے روشنی کردی جائے گی پھر اس کے لیے جنت کی طرف دروازہ کھول دیا جائے گا، اور اس کو کہا جائے گا دیکھ جس کا اللہ تعالیٰ نے تجھ سے وعدہ فرمایا تھا، اس کے سرور اور خوشی میں اضافہ ہوجائے گا، پھر ایک دروازہ جہنم کی طرف کھولا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا تیرا ٹھکانہ یہ ہوتا جس کا اللہ نے تجھ سے وعدہ فرمایا تھا اگر تو نافرمانی کرتا، اس کی خوشی میں اضافہ ہوجائے گا، پھر اس کے لیے خوشبودار ہوا (باد نسیم) چلے گی اور وہ سبز رنگ کا پرندہ ہے جو جنت کے درخت کے ساتھ لٹکا ہوا ہے۔ اور اس کے جسم کو لوٹا دیا جائے گا جس مٹی سے اس کو پیدا کیا گیا تھا، اور اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا قول ہے : { یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَۃِ }۔ محمد راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن حکم بن ثوبان نے فرمایا : پھر اس کو کہا جائے گا دلہن کی طرح آرام سے سو جا اس کو نہیں اٹھاتا مگر اس کے گھر میں محبوب شخص یعنی خاوند، یہاں تک کہ اس کو اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اٹھائیں گے۔ محمد راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر وہ کافر تھا تو اس کے سر کے جانب لایا جائے گا وہ عذاب اس کے لیے کچھ نہ پائے گا، پھر اسے کے بائیں جانب لایا جائے گا نہیں پائے گا اس کے لیے کچھ، پھر اس کے بائیں جانب لایا جائے گا تو نہیں پائے گا اس کے لیے کچھ، پھر اس کے پاؤں کی جانب لایا جائے گا نہیں پائے گا اس کے لیے کچھ، اس کو کہا جائے گا، بیٹھ جا، وہ خوف زدہ انداز میں بیٹھے گا، اس کو کہا جائے گا جو ہم پوچھیں اس کا جواب دے، وہ کہے گا تم مجھ سے کیا پوچھتے ہو ؟ اس کو کہا جائے گا، یہ شخص جو تم میں تھا تو اس کے بارے میں کیا کہتا ہے ؟ اور اس کے متعلق کیا گواہی دیتا ہے ؟ وہ پوچھے گا کونسا شخص ؟ اس کو کہا جائے گا جو تمہارے درمیان تھا، وہ ان کے نام کی طرف رہنمائی نہیں پائے گا، اس کو کہا جائے گا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، تو وہ کہے گا مجھے نہیں معلوم میں نے لوگوں سے اس کے متعلق سنا تھا تو جس طرح انہوں نے کہا اسی طرح میں نے کہا، اس کو کہا جائے گا اسی پر تو زندہ تھا، اسی پر تو مرا اور اسی پر دوبارہ ان شاء اللہ اٹھایا جائے گا، پھر اس کے لیے جہنم کی جانب ایک دروازہ کھول دیا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا یہ تیرا ٹھکانہ ہے جس کا اللہ نے تجھ سے وعدہ کیا تھا، اس کی حسرت اور ہلاکت میں اضافہ ہوجائے گا، پھر اس کے لیے ایک دروازہ جنت کی طرف کھولا جائے گا، اور اس کو کہا جائے گا یہ تیرا ٹھکانہ ہوتا (اگر نیک اعمال کرتا ایمان لاتا) تو اس کی حسرت اور ہلاکت میں اضافہ ہوجائے گا، پھر اس کی قبر کو اس پر تنگ کردیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں مل جائیں گی، اور یہی اس کی تنگ زندگی ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : { فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا وَّ نَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَعْمٰی }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12434
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، وأخرجه عبد الرزاق (٦٧٠٣)، وابن جرير في التفسير ١٣/ ٢١٥، وسبق أوله في حديث مرفوع ٣/ ٣٧٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12434، ترقيم محمد عوامة 12188)
حدیث نمبر: 12435
١٢٤٣٥ - (و) (١) قال محمد: (قال عمر) (٢) بن الحكم بن ثوبان: ثم يقال له: (نم) (٣) فينام (نومة) (٤) العروس لا يوقظه إلا أحب أهله إليه، حتى يبعثه اللَّه ﷿.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12435
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12435، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 12436
١٢٤٣٦ - قال محمد: قال أبو سلمة: قال أبو هريرة: وإن كان كافرًا (فيؤتى) (١) من قبل رأسه فلا يوجد له شيء، ثم (يؤتى) (٢) عن (يمينه) (٣) فلا يوجد له شيء، ثم (يؤتى) (٤) عن شماله (فلا يوجد له) (٥) شيء، ثم (يؤتى) (٦) من قبل رجليه فلا يوجد له شيء، فيقال له: اجلس فيجلس فزعًا مرعوبًا، فيقال له: أخبرنا عما نسألك فيقول: و (عم) (٧) (تسألوني) (٨) (عنه) (٩)؛ (فيقال) (١٠): أرأيت هذا الرجل الذي كان فيكم (ماذا تقول فيه؟ وماذا تشهد به عليه؟ قال: فيقول: أي رجل؟ قال: فيقال: الذي كان فيكم) (١١)، فلا يهتدي لاسمه، فيقال: محمد، فيقول: لا أدري، سمعت الناس يقولون قولًا فقلت كما قالوا، فقال: على ذلك (حييت) (١٢) وعلى ذلك مت وعلى ذلك تبعث إن شاء اللَّه (١٣). ثم يفتح له باب إلى (النار ثم يقال) (١٤) له: ذلك ⦗٢٣٦⦘ مقعدك وما أعد اللَّه لك فيها فيزداد حسرة وثبورا، ثم يفتح له باب إلى (الجنة) (١٥) فيقال له: ذلك مقعدك (فيها) (١٦)، فيزداد حسرة وثبوار، ثم يضيق عليه قبره حتى (تختلف) (١٧) أضلاعه وهي المعيشة [الضنك التي قال اللَّه تعالى: ﴿فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا] (١٨) وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى﴾ [طه: ١٢٤] (١٩).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12436
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمر صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12436، ترقيم محمد عوامة ---)