کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: قبر پر پانی چھڑکنا
حدیث نمبر: 12429
١٢٤٢٩ - حدثنا أبو أسامة عن ربيع عن الحسن أنه لم يكن يرى بأسًا برش الماء على القبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع فرماتے ہیں کہ حسن قبر پر پانی چھڑکنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12429
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12429، ترقيم محمد عوامة 12182)
حدیث نمبر: 12430
١٢٤٣٠ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن (أبي) (١) جعفر قال: لا بأس برش الماء على القبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ قبر پر پانی چھڑکنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12430
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12430، ترقيم محمد عوامة 12183)
حدیث نمبر: 12431
١٢٤٣١ - حدثنا حرمي بن عمارة عن عبد اللَّه بن بكر قال: كنت في جنازة ومعنا زياد بن جبير بن حية، فلما سووا القبر صب عليه الماء فذهب رجل يمسه (ويصلحه) (١) فقال زياد: يكره أن (تمس) (٢) الأيدي القبر بعد ما يرش عليه الماء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن بکر فرماتے ہیں کہ میں جنازے میں تھا ہمارے ساتھ حضرت زیاد بن جبیر بن حیہ بھی تھے جب قبر برابر کرلی گئی تو اس پر پانی ڈالا گیا، ایک شخص آیا وہ قبر کو چھونے لگا اور اس کو درست کرنے لگا حضرت زیاد نے فرمایا قبر پر پانی ڈالنے کے بعد اس کو ہاتھوں سے چھونا ناپسندیدہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12431
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12431، ترقيم محمد عوامة 12184)