حدیث نمبر: 12420
١٢٤٢٠ - حدثنا (حسين) (١) بن علي عن زائدة عن عاصم عن (زر) (٢) عن عبد اللَّه قال: إذا (أدخل) (٣) الرجل قبره فإن كان (من) (٤) أهل السعادة ثبته اللَّه بالقول الثابت فيسأل ما أنت؟ فيقول: أنا عبد اللَّه (حيًا وميتًا) (٥) وأشهد أن لا إله إلا اللَّه وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله، قال: فيقال: كذلك كنت (قال) (٦): فيوسع عليه قبره ما شاء اللَّه ويفتح له باب إلى الجنة ويدخل عليه (من) (٧) روحها وريحها حتى ⦗٢٢٠⦘ يبعث. وأما الآخر فيؤتى في قبره فيقال له: ما أنت ثلاث مرات؟ (فيقول: لا أدري. فيقال له: لا دريت ثلاث مرات) (٨) ثم يضيق عليه (قبره) (٩) حتى (تختلف) (١٠) أضلاعه أو (يماس) (١١)، (وترسل) (١٢) عليه حيات من جانب القبر (فتنهشه وتأكله) (١٣)، كلما (جزع) (١٤) وصاح قمع (بقماع) (١٥) من حديد أو من نار، ويفتح له باب إلى النار (١٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص کو قبر میں اتارا جائے تو اگر وہ نیک بختوں میں سے ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو سوال و جواب کے لیے مضبوط فرما دیتا ہے، اس سے سوال کیا جاتا ہے تو کون ہے ؟ وہ کہتا ہے میں زندہ ہونے کی حالت میں اور مرنے کی حالت میں اللہ کا بندہ ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں، اس کو کہا جاتا ہے تو اسی طرح تھا، پھر اس کی قبر کو جتنا اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کشادہ فرما دیتا ہے اور اس کے لیے جنت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور اس پر جنت کی خوشبو اور ہوا داخل کی جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ دوبارہ اٹھایا جائے، اور دوسرے شخص کو قبر میں لایا جاتا ہے تو اس سے دریافت کیا جاتا ہے کون ہے تو ؟ تین بار یہی سوال ہوتا ہے، وہ کہتا ہے میں نہیں جانتا، اس کو کہا جائے گا تو جانتا بھی نہیں تھا، تین بار یہی کہا جائے گا، پھر اس کی قبر اس پر اتنی تنگ کردی جائے گی کہ اس کے جسم اور پسلیاں آپس میں مل جائیں گے، اور اس پر قبر کی طرف سے بہت سانپ چھوڑے جاتے ہیں جو اسے ڈستے ہیں اور کھاتے ہیں، جب بھی وہ چیخے اور چلائے گا اس کو لوہے یا آگ کا گرز مارا جائے گا اور اس کے لے ی جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 12421
١٢٤٢١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (سعد) (١) بن عبيدة عن البراء ابن عازب: ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ [إبراهيم: ٢٧]، قال: التثبيت في الحياة الدنيا إذا جاء الملكان إلى الرجل في القبر (فقالا) (٢) له: من ربك؟ (فقال) (٣): ربي اللَّه. (قالا) (٤): وما دينك؟ قال: ديني الإسلام. ⦗٢٢١⦘ (قالا) (٥): ومن نبيك؟ قال: (نبيي) (٦) محمد ﷺ. فذلك (التثبيت) (٧) في الحياة الدنيا (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کی آیت { یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا } میں دنیا کی زندگی میں ثابت قدمی سے مراد یہ ہے کہ جب قبر میں کسی شخص کے پاس دو فرشتے آتے ہیں وہ اس سے کہتے ہیں، تیرا رب کونسا ہے ؟ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے، وہ پوچھتے ہیں تیرا دین کونسا ہے ؟ وہ کہتا ہے میرا دین اسلام ہے، وہ پوچھتے ہیں تیرا نبی کون ہے ؟ وہ کہتا ہے میرے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، یہ دنیا کی زندگی میں ثابت قدمی ہے۔
حدیث نمبر: 12422
١٢٤٢٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن السدي عن أبيه عن أبي هريرة رفعه قال: "إنه (ليسمع) (١) خفق نعالهم إذا ولوا (مدبرين) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ مردے کو دفنانے کے بعد لوگ پیٹھ پھیر کر جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز (آہٹ) سنتا ہے۔
حدیث نمبر: 12423
١٢٤٢٣ - حدثنا ابن نمير حدثنا (سفيان) (١) عن الأسود بن قيس عن نبيح قال: سمعت أبا سعيد يقول: ما من جنازة إلا تناشد حملتها إن كانت مؤمنة (و) (٢) اللَّه عنها راض (قالت) (٣): أسرعوا بي، وإن كانت كافرة (و) (٤) اللَّه (عنها) (٥) ساخط ⦗٢٢٢⦘ قالت: ردوني. (فما) (٦) شيء (إلا) (٧) يسمعه إلا الثقلين، ولو سمعه الإنسان جزع (وفزع) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نبی ح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید سے سنا وہ فرماتے ہیں کوئی جنازہ ایسا نہیں ہے مگر وہ اپنے اٹھانے والے کو کہتا ہے (مطالبہ کرتا ہے) اگر وہ مؤمن ہو اور اللہ پاک اس سے راضی ہوں، مجھے جلدی لے کر چلو اور اگر وہ کافر ہوں اور اللہ پاک اس سے ناراض ہوں تو کہتا ہے مجھے واپس لے چلو، جن و انس کے علاوہ ہر چیز اس کی آواز سنتی ہے۔ اگر انسان آواز سن لے تو چیخے اور (چیختے چیختے) کمزور لاغر ہوجائے۔
حدیث نمبر: 12424
١٢٤٢٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء عن تميم (بن) (١) غيلان (ابن) (٢) سلمة قال: جاء رجل إلى أبي الدرداء وهو مريض فقال: يا أبا الدرداء إنك قد أصبحت على جناح فراق الدنيا فمرني بأمر ينفعني (اللَّه) (٣) به وأذكرك به، قال: (إنا) (٤) من أمة معافاة، فأقم الصلاة وأد زكاة مالك (إن كان لك) (٥)، وصم رمضان واجتنب الفواحش ثم (أبشر) (٦). قال: ثم أعاد الرجل على أبي الدرداء فقال (له) (٧) مثل ذلك. قال شعبة: وأحسبه أعاد عليه ثلاث مرات ورد عليه أبو الدرداء ثلاث (مرات) (٨)، (فنفض) (٩) الرجل رداءه وقال: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ ⦗٢٢٣⦘ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي (الْكِتَابِ)﴾ (١٠) إلى قوله: ﴿وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ﴾، (فقال) (١١) أبو الدرداء: عليَّ (بالرجل) (١٢)، (فجاءه) (١٣) فقال أبوالدرداء: ما قلت؟ قال: كنت رجلًا معلمًا عندك) (١٤) من العلم ما ليس (عندي) (١٥)، فأردت أن تحدثني بما ينفعني اللَّه به فلم (ترد) (١٦) عليّ إلا قولًا واحدًا، (فقال) (١٧) (له) (١٨) أبو الدرداء: اجلس ثم اعقل ما أقول لك، أين أنت من يوم ليس لك من الأرض إلا عرض ذراعين في طول (أربعة) (١٩) أذرع، أقبل بك أهلك الذين كانوا لا يحبون فراقك وجلساؤك وإخوانك (فأطبقوا) (٢٠) عليك (البنيان) (٢١) ثم أكثروا (عليك) (٢٢) التراب ثم تركوك (بمثل) (٢٣) ذلك، ثم جاءك ملكان أسودان ⦗٢٢٤⦘ أزرقان جعدان أسماؤهما منكر ونكير، فأجلساك ثم سألاك: ما أنت؟ أم على ماذا كنت؟ (ثم) (٢٤) ماذا (تقول) (٢٥) في هذا؟ فإن قلت: واللَّه ما أدري، سمعت الناس قالوا قولًا (فقلت) (٢٦)، (فقد) (٢٧) واللَّه (رديت وخزيت وهويت) (٢٨)، (وإن) (٢٩) قلت: محمد رسول اللَّه أنزل اللَّه عليه كتابه (فآمنت) (٣٠) به وبما جاء به فقد واللَّه نجوت وهديت. (ولن) (٣١) (تستطيع) (٣٢) ذلك إلا بتثبيت من اللَّه مع ما ترى من الشدة والخوف (٣٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تمیم بن غیلان بن سلمہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابو الدرداء کے پاس آیا اور آپ بیمار تھے، اس نے عرض کیا اے ابو الدرداء ! بیشک آپ دنیا کی جدائی کے پہلو میں ہیں (جدائیگی قریب ہے) آپ مجھے ایسے کام کا حکم فرمائیں جس سے اللہ پاک مجھے فائدہ دے اور اس کے ساتھ میں آپ کو یاد کروں۔ آپ نے فرمایا تو عافیت والی امت میں سے ہے نماز قائم کر، تیرے مال پر اگر زکوٰۃ ہے تو وہ ادا کر، رمضان کے روزے رکھ، اور برے کاموں سے اجتناب کر، پھر تیرے لیے خوشخبری ہے۔ اس شخص نے پھر یہی سوال دہرایا آپ نے اس کو بھی اسی طرح جواب ارشاد فرمایا، حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ اس شخص نے تین بار سوال دہرایا اور آپ نے تین بار یہی جواب ارشاد فرمایا وہ شخص اپنی چادر کو جھٹکتے ہوئے کھڑا ہوا اور یہ آیت پڑھی { اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالْھُدٰی مِنْ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتٰبِ } سے { وَ یَلْعَنُھُمُ اللّٰعِنُوْنَ } [البقرۃ ١٥٩] تک حضرت ابو الدرداء نے فرمایا اس شخص کو میرے پاس واپس لے کر آؤ ! پھر اس سے فرمایا تو نے کیا کہا ؟ اس نے عرض کیا آپ سکھانے والے ہیں آپ کے پاس وہ علم ہے جو میرے پاس نہیں میں آپ کے پاس ارادے سے آیا تھا کہ آپ مجھ سے وہ چیز بیان کریں گے جس سے اللہ پاک مجھے نفع دیں گے مگر آپ مجھ سے صرف یہی بات بار بار فرماتے رہے۔ حضرت ابو الدرداء نے اس سے فرمایا میرے پاس بیٹھ جا اور جو میں کہوں اس کو اپنے پلے باندھ لے۔ اس دن تو کہاں ہوگا (تیرا کیا ہوگا) جس دن زمین میں سے تیرے لیے دو گز چوڑائی اور چار گز لمبائی کے سوا کچھ نہ ہوگا منحرف ہوجائیں گے تیرے وہ اہل و عیال جو تجھ سے جدا نہیں ہونا چاہتے تیرے ہم نشین اور تیرے بھائی تجھ پر عمارت کو مضبوط کریں گے۔ پھر تجھ پر کثرت سے مٹی ڈالیں گے پھر تجھے ہلاکت کے لیے چھوڑ دیں گے پھر تیرے پاس دو سیاہ فرشتے، زرد رنگ کا لباس پہنے گنگھریالے بالوں والے آئیں گے جن کا نام منکر نکیر ہے۔ وہ دونوں تیرے پاس بیٹھیں گے اور تجھ سے سوال کریں گے تو کیا ہے ؟ یا تو کس پر تھا ؟ یا تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا ہے ؟ اگر تو نے کہا خدا کی قسم میں نہیں جانتا میں نے لوگوں کو اس کے بارے میں ایک بات کرتے ہوئے سنا تھا میں نے بھی کہہ دیا تو خدا کی قسم تو ہلاک اور ذلیل و رسواہو گیا۔ اور اگر تو نے یوں کہا یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اللہ پاک نے ان پر کتاب اتاری میں اس کتاب پر اور جو کچھ یہ لے کر آئے اس پر ایمان لایا تو خدا کی قسم تو نجات و ہدایت پا گیا اور تو ہرگز شدت اور خوف کی وجہ سے ان سوالوں کے جواب نہیں دے سکتا مگر اللہ تعالیٰ تیرے دل کو مضبوط کر دے تو دے سکتا ہے۔