حدیث نمبر: 12415
١٢٤١٥ - حدثنا محمد بن عبيد قال: ثنا يزيد بن كيسان عن أبي حازم عن أبي هريرة قال: مر رسول اللَّه ﷺ على قبر فوقف عليه فقال: "إيتوني بجريدتين"، فجعل (إحداهما) (١) عند رأسه والأخرى عند رجليه، فقيل له: يا رسول اللَّه ﷺ أينفعه ذلك؟ فقال: " (لعله) (٢) يخفف عنه بعض عذاب القبر ما (بقيت) (٣) فيه ندوة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے تو اس کے پاس کھڑے ہوگئے پھر فرمایا، میرے پاس دو کھجور کی لکڑیاں لے کر آؤ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کھجور کی لکڑی سر کے پاس اور دوسری پاؤں کے پاس گاڑ دی، عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا اس سے اس کو فائدہ ہوگا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شاید کہ ان سے کچھ عذاب قبر میں کمی آجائے جب تک ان میں رطوبت باقی ہے، (جب تک کہ یہ تر ہیں) ۔
حدیث نمبر: 12416
١٢٤١٦ - حدثنا وكيع عن الأسود بن شيبان قال: حدثني بحر بن (مرار) (١) عن جده أبي بكرة قال: كنت أمشي مع (النبي ﷺ) (٢) فمر على قبرين فقال: "إنهما ليعذبان، من (يأتيني) (٣) بجريدة؟ " (فاستبقت) (٤) أنا ورجل فأتينا بها، قال: فشقها من رأسها فغرس على (هذا) (٥) واحدة، وعلى (هذا) (٦) واحدة، وقال: "لعله" (٧) (أن) (٨) يخفف عنهما ما بقي فيهما من (بلولتهما) (٩) شيء، (إن يعذبان) (١٠) (في) (١١) الغيبة والبول" (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بحر بن مرار اپنے دادا حضرت ابو بکرہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں پر گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے، کون ہے جو میرے پاس کھجور کی لکڑی لے کر آئے، حضرت ابو بکرہ فرماتے ہیں کہ میں نے اور ایک شخص نے جلدی کی اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھجور کی لکڑی لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سرے سے لکڑی کو چیر کردو حصوں میں تقسیم فرمایا اور ایک کو ایک قبر پر اور دوسری کو دوسری قبر پر گاڑ دیا، اور فرمایا : جب تک کہ ان لکڑیوں میں تری موجود ہے شاید کہ اس کی وجہ سے ان کے عذاب میں کمی ہوجائے، ان کو عذاب غیبت اور پیشاب (کے قطروں سے نہ بچنے کی وجہ سے) ہو رہا ہے۔
حدیث نمبر: 12417
١٢٤١٧ - حدثنا سليمان بن حرب ثنا [(أبو) (١) سلمة] (٢) حماد بن سلمة عن ⦗٢١٨⦘ عاصم ابن بهدلة عن حبيب بن أبي جبيرة عن (يعلى) (٣) بن (سيابة) (٤) أن النبي ﷺ مر بقبر يعذب صاحبه فقال: "إن صاحب هذا القبر يعذب في غير (كبير) (٥) "، ثم دعا (له) (٦) (بجريدة) (٧) فوضعها على قبره ثم قال: "لعله (يخفف) (٨) عنه ما كانت رطبة" (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ بن سیابہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گذرے جس کو عذاب ہو رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس قبر والے کو کسی بڑے کام کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کھجور کی لکڑی منگوا کر اس کی قبر پر گاڑ دی اور فرمایا : شاید کہ اس کی وجہ سے اس کے عذاب میں کمی ہوجائے جب تک کھجور کی لکڑی تر رہے۔
حدیث نمبر: 12418
١٢٤١٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن طاوس عن ابن عباس قال: مر النبي ﷺ بقبرين فقال: "إنهما ليعذبان وما يعذبان في (كبير) (١) أما أحدهما فكان لا (يستتر) (٢) من البول، وأما الآخر فكان يمشي (بالنميمة) (٣) "، ثم (أخذ) (٤) جريدة رطبة فشقها نصفين، ثم غرس في كل قبر واحدة فقالوا: يا رسول اللَّه ﷺ لم فعلت هذا؟ قال: "لعله (أن) (٥) يخفف عنهما ما لم ييبسا" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا : ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے، اور ان کو کسی بڑے کام کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، ان میں سے ایک پیشاب کے قطروں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا شخص چغل خور تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کی گیلی ٹہنی لی اور اس کو چیر کردو کیا اور ہر ایک کی قبر پر ایک ایک گاڑھ دی، صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کیوں کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : شاید کہ ان کے عذاب میں کمی کردی جائے جب تک یہ گیلی رہیں۔
حدیث نمبر: 12419
١٢٤١٩ - حدثنا وكيع (قال) (١): حدثنا الأعمش (قال) (٢): سمعت مجاهدًا يحدث عن طاوس عن ابن عباس عن النبي ﷺ بمثله إلا أن وكيعًا قال: فدعا بعسيب رطب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی کے مثل منقول ہے۔