کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: عذاب قبر کا بیان
حدیث نمبر: 12395
١٢٣٩٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق عن مسروق عن عائشة قالت: دخلت عليها يهودية فوهبت لها طيبًا، فقالت: أجارك اللَّه من عذاب القبر، قالت: فوقع في نفسي من ذلك فلما جاء رسول اللَّه ﷺ قلت: يا رسول اللَّه ﷺ إن (للقبر) (١) عذابًا؟ قال: "نعم انهم ليعذبون في قبورهم عذابًا (تسمعه) (٢) البهائم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے پاس ایک یہودیہ خاتون آئی پس اس نے آپ کو خوشبو ھبہ کی، اس نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کو عذاب قبر سے پناہ دے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے دل میں اس کے بارے میں خیال آیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا قبر میں عذاب ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں، بیشک وہ اپنی قبروں میں عذاب دیئے جاتے ہیں، جس کو بہائم سنتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12395
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٦٣٦٦)، ومسلم (٥٨٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12395، ترقيم محمد عوامة 12150)
حدیث نمبر: 12396
١٢٣٩٦ - حدثنا عبيدة عن منصور عن إبراهيم عن مسروق عن عائشة عن النبي ﷺ بنحو حديث أبي معاوية (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے مثل منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12396
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12396، ترقيم محمد عوامة 12151)
حدیث نمبر: 12397
١٢٣٩٧ - حدثنا (أبو) (١) معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "تعوذوا باللَّه من جهنم، تعوذوا باللَّه من عذاب القبر، (تعوذوا) (٢) باللَّه من فتنة المسيح الدجال، (تعوذوا) (٣) باللَّه من فتنة المحيا والممات" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہنم سے اللہ کی پناہ مانگو، عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو، مسیح دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگو، اللہ پاک سے دنیا وآخرت کے فتنوں کی پناہ مانگو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12397
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه الترمذي (٣٦٠٤)، والبخاري في الأدب المفرد (٦٤٨)، وابن جرير في تهذيب الآثار مسند عمر (٨٦١)، والطبراني في الدعاء (١٣٧٦)، وأصله عند البخاري (١٣١١)، ومسلم (٥٧٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12397، ترقيم محمد عوامة 12152)
حدیث نمبر: 12398
١٢٣٩٨ - حدثنا ابن علية عن الجريري عن أبي (نضرة) (١) عن أبي سعيد قال: (حدثنا) (٢) زيد بن ثابت عن النبي ﷺ قال: "إن هذه الأمة تبتلى في قبورها، فلولا أن لا تدافنوا لدعوت اللَّه أن (يسمعكم) (٣) من عذاب القبر الذي (أسمع) (٤) منه". ثم أقبل علينا بوجهه فقال: "تعوذوا باللَّه من عذاب القبر" [قلنا: (نعوذ) (٥) باللَّه من ⦗٢١٠⦘ عذاب القبر] (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک اس امت کو قبروں میں (عذاب میں) مبتلا کیا جائے گا، اگر تم لوگ مردہ کو دفن کرنا چھوڑ نہ دو تو میں اللہ پاک سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر سنواتا جو میں سنتا ہوں، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو، ہم نے عرض کیا ہم عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12398
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٢٨٦٧) وأحمد (٢١٦٥٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12398، ترقيم محمد عوامة 12153)
حدیث نمبر: 12399
١٢٣٩٩ - حدثنا وكيع عن مسعر عن علقمة بن مرثد عن المغيرة بن عبد اللَّه اليشكري عن المعرور بن سويد عن عبد اللَّه قال: قالت أم حبيبة زوج النبي ﷺ: [اللهم (متعني) (١) بزوجي: النبي ﷺ، وبأبي: أبي سفيان، وبأخي: معاوية فقال النبي ﷺ (٢): "إنك قد سألت اللَّه لآجال (مضروبة) (٣) وأيام معدودة وأرزاق مقسومة (لن) (٤) يعجل شيئًا [أقبل (أجله) (٥) (أو) (٦) يؤخر شيئًا] (٧)، عن (أجله) (٨)، ولو كنت سألت اللَّه أن (يعيذك) (٩) من عذاب في النار أو عذاب (في) (١٠) القبر كان خيرًا وأفضل" (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ حضرت ام حبیبہ نے یوں دعا مانگی، اے اللہ ! مجھے میرے شوہر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، میرے والد ابو سفیان اور میرے بھائی معاویہ سے فائدہ پہنچا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک تو نے اللہ سے ان تقدیروں کے بارے میں جو طے ہوچکی اور ان دنوں کے جو گنے جا چکے اور اس رزق کا جو تقسیم ہوچکا ہے سوال کیا ہے، کوئی بھی چیز اپنی تدبیر سے نہ پہلے ہوگی، نہ مؤخر ہوگی، اگر تو اللہ تعالیٰ سے عذاب جہنم سے نجات اور عذاب قبر سے نجات کا سوال کرتی تو وہ زیادہ بہتر اور افضل ہوتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12399
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٢٦٦٣) وأحمد (٣٧٠٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12399، ترقيم محمد عوامة 12154)
حدیث نمبر: 12400
١٢٤٠٠ - حدثنا وكيع (عن) (١) عثمان (الشحام) (٢) عن مسلم بن أبي بكرة ⦗٢١١⦘ عن أبيه عن النبي ﷺ أنه كان يدعو في أثر الصلاة: "اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر (و) (٣) عذاب القبر" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم بن ابی بکرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے بعد یوں دعا فرماتے : اے اللہ ! میں کفر، فقر اور عذاب قبر سے پناہ مانگتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12400
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عثمان صدوق، أخرجه أحمد (٢٠٣٨١)، والترمذي (٣٥٠٣)، وابن حبان (١٠٢٨)، والحاكم ١/ ٣٥، والنسائي ٣/ ٧٣، والبخاري في التاريخ ٧/ ٢٥٧، وابن خزيمة (٧٤٧)، وابن أبي عاصم في السنة (٨٧٠)، وابن السني (١١١)، وابن حجر في نتائج الأفكار ٢/ ٢٩٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12400، ترقيم محمد عوامة 12155)
حدیث نمبر: 12401
١٢٤٠١ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون عن عمر أن النبي ﷺ كان يتعوذ (باللَّه) (١) من الجبن والبخل وعذاب القبر وفتنة الصدر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بزدلی، بخل، عذاب قبر اور دل کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12401
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (١٤٥)، وأبو داود (١٥٣٩)، وابن ماجه (٣٨٤٤)، والنسائي ٨/ ٢٥٥، وسيأتي ٩/ ٩٩ و ١٠/ ١٨٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12401، ترقيم محمد عوامة 12156)
حدیث نمبر: 12402
١٢٤٠٢ - حدثنا أبو معاوية (و) (١) ابن نمير عن الأعمش عن المنهال عن زاذان عن البراء قال: خرجنا مع النبي ﷺ في جنازة رجل من الأنصار فانتهينا إلى القبر (ولما) (٢) (يُلحد) (٣)، (فجلس) (٤) (النبي ﷺ) (٥) وجلسنا حوله (كأنه) (٦) على رؤوسنا الطير وفي يده عود ينكت به في الأرض، فرفع رأسه فقال: "استعيذوا باللَّه ⦗٢١٢⦘ من عذاب القبر" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء فرماتے ہیں کہ ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک انصاری کے جنازے پر گئے، جب ہم قبرستان پہنچے اور لحد ابھی تک تیار نہ ہوئی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہوئے ہم بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد اس طرح بیٹھ گئے جس طرح ہمارے سروں پر پرندے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ مبارک میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین کو کرید رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا : عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12402
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (١٨٥٣٤)، وأبو داود (٤٧٥٣)، وابن ماجه (١٥٤٩)، والطيالسي (٧٥٣)، وهناد في الزهد (٣٣٩)، وابن جرير في التفسير (٢٠٧٦٤)، والآجري (ص ٣٦٧)، واللالكائي (٢١٤٠)، والبيهقي في عذاب القبر (٢١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12402، ترقيم محمد عوامة 12157)
حدیث نمبر: 12403
١٢٤٠٣ - (إلا أن ابن نمير قال) (١): حدثنا الأعمش قال: حدثنا المنهال (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12403
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد ٤/ ٢٨٨ (١٨٥٥٨)، وابن جرير في التفسير ١٣/ ٢١٥، ومسند عمر من تهذيب الآثار (٧١٩)، وابن منده في الإيمان (١٠٦٤)، وعبد اللَّه بن أحمد في السنة (١٤٣٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12403، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 12404
١٢٤٠٤ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم (عن) (١) أبي عثمان وعبد اللَّه بن الحارث عن زيد بن أرقم قال: لا أقول لكم إلا ما سمعت النبي ﷺ يقول: "اللهم إني أعوذ بك من العجز والكسل والجبن والبخل وعذاب القبر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تمہارے سامنے بیان نہیں کرتا مگر جو میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : اے اللہ ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں، عاجزی، سستی، بزدلی، بخل اور عذاب قبر سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12404
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٢٧٢٢)، وأحمد (١٩٣٠٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12404، ترقيم محمد عوامة 12158)
حدیث نمبر: 12405
١٢٤٠٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر عن أم (مبشر) (١) (قالت) (٢): دخل علي النبي ﷺ وأنا في حائط من حوائط بني النجار فيه قبور (منهم) (٣) قد (ماتوا) (٤) في الجاهلية (قالت) (٥): فخرج فسمعته يقول: ⦗٢١٣⦘ " (استعيذ) (٦) باللَّه من عذاب القبر"، قلت: يا رسول اللَّه ﷺ وللقبر عذاب قال: "إنهم ليعذبون في (قبورهم) (٧) عذابًا (تسمعه) (٨) البهائم" (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام مبشر فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اس وقت میں بنو نجار کی دیواروں میں سے ایک دیوار کے پاس تھی جس میں زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی قبریں تھیں، (جو زمانہ جاہلیت میں انتقال کرچکے تھے) فرماتی ہیں کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے میں نے سنا آپ فرما رہے تھے، لوگو ! عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو، میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ! قبر میں عذاب بھی ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک ان کو قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے جس کو تمام جانور سنتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12405
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو سفيان صدوق، أخرجه أحمد (٢٧٠٤٤)، وابن حبان (٣١٢٥)، وهناد في الزهد (٣٤٩)، وابن أبي عاصم في السنة (٨٧٥)، والطبراني ٢٥/ ٢٦٨، والآجرى في الشريعة ص ٣٦٣، والبيهقي في إثبات عذاب القبر (٩٥)، ومن طريق جابر: أخرجه عبد الرزاق (٦٧٤٢)، والبزار (٨٧١/ كشف الاستار) وأبو يعلى (٢١٤٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12405، ترقيم محمد عوامة 12159)
حدیث نمبر: 12406
١٢٤٠٦ - حدثنا وكيع عن شعبة عن عون بن أبي جحيفة عن أبيه عن البراء (بن عازب) (١) عن أبي أيوب أن النبي ﷺ سمع صوتًا حين غربت الشمس فقال: "هذه أصوات اليهود (تعذب) (٢) في قبورها" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ایوب فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غروب آفتاب کے وقت ایک (چیخ کی) آواز سنی تو فرمایا : یہ یہودیوں کے (چیخنے کی) آواز ہے جن کو قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12406
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٣٧٥)، ومسلم (٢٨٦٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12406، ترقيم محمد عوامة 12160)
حدیث نمبر: 12407
١٢٤٠٧ - حدثنا وكيع عن هشام عن قتادة عن أنس أن النبي ﷺ (كان) (١) (يتعوذ) (٢) من الجبن والبخل وفتنة المحيا والممات وعذاب القبر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بزدلی، بخل، زندگی اور موت کے فتنوں سے اور عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12407
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٢٨٢٣)، ومسلم (٢٧٠٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12407، ترقيم محمد عوامة 12161)
حدیث نمبر: 12408
١٢٤٠٨ - (حدثنا عفان قال: حدثنا وهيب حدثنا) (١) موسى بن عقبة عن أم خالد بنت خالد أنها سمعت النبي ﷺ[وهو يتعوذ من عذاب القبر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام خالد بنت خالد فرماتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12408
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٣٧٦)، وأحمد (٢٧٠٥٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12408، ترقيم محمد عوامة 12162)
حدیث نمبر: 12409
١٢٤٠٩ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن فاطمة عن (أسماء) (١) عن] (٢) النبي ﷺ قال: "قد أوحي إليَّ أنكم تفتنون في القبور مثل أو قريبًا من فتنة المسيح الدجال ثم (يؤتى) (٣) أحدكم (فيقال له) (٤) ما علمك بهذا الرجل، قال: فأما المؤمن فيقول محمد هو رسول اللَّه ﷺ، جاءنا بالبينات والهدي فأجبنا واتبعنا، فيقال: (نم) (٥) صالحًا (فقد) (٦) علمنا أنك مؤمن باللَّه، وأما المنافق (أو) (٧) المرتاب"، (لا أدري أي ذلك قالت أسماء) فيقول: "لا أدري سمعت الناس قالوا (قولا فقلته) (٨) " (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسمائ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مرِی طرف وحی کی گئی ہے کہ بیشک تم لوگ قبروں میں آزمائے جاؤ گے (فتنہ میں مبتلا کئے جاؤ گے) اسی کے مثل یا مسیح دجال کے فتنہ کے قریب، پھر تم میں سے ایک کو لایا جائے گا اس کو کہا جائے گا، اس شخص کے بارے میں تو کیا جانتا ہے ؟ فرمایا مؤمن شخص کہے گا، یہ محمد ہں ں، اللہ کے رسول ہیں، جو ہمارے پاس واضح دلائل اور ھدایت لے کر آئے ہم نے اس کو قبول کیا اور ان کی اتباع کی، اس کو کہا جائے گا امن و سلامتی سے سو جا ہمیں معلوم تھا کہ تو اللہ پر ایمان لانے والا ہے، بہر حال منافق اور شک کرنے والا، (کہے گا) مجھے نہیں معلوم یہ کون ہیں، حضرت اسمائ فرماتی ہیں وہ کہے گا، مجھے نہیں معلوم میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا تو میں نے بھی وہ کہہ دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12409
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٨٦)، ومسلم (٩٠٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12409، ترقيم محمد عوامة 12163)
حدیث نمبر: 12410
١٢٤١٠ - حدثنا وكيع وأبو (معاوية عن) (١) الأعمش قال: سمعت مجاهدًا يحدث عن طاوس عن ابن عباس قال: مر رسول اللَّه ﷺ على قبرين فقال: "إنهما ليعذبان وما يعذبان في (كبير) (٢)، أما أحدهما فكان يمشي بالنميمة، وأما الآخر ⦗٢١٥⦘ فكان (لا يستبرئ) (٣) (من) (٤) بوله" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا : ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے، اور ان کو کسی بڑے کام کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، ان میں سے ایک چغل خور تھا اور دوسرا پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12410
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٦٠٥٢)، ومسلم (٢٩٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12410، ترقيم محمد عوامة 12164)
حدیث نمبر: 12411
١٢٤١١ - ولم يقل أبو معاوية سمعت مجاهدًا.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12411
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12411، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 12412
١٢٤١٢ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن زيد بن وهب عن عبد الرحمن بن حسنة قال: كنت أنا وعمرو بن (العاص) (١) جالسين فخرج علينا رسول اللَّه ﷺ ومعه (درقة) (٢) أو شبهها فاستتر بها ثم (بال) (٣) وهو جالس، فقلنا: يا رسول اللَّه ﷺ (تبول) (٤) كما تبول المرأة قال: فجاءنا فقال: "أو ما علمتم ما (أصاب) (٥) صاحب بني إسرائيل؟ كان الرجل (منهم) (٦) إذا أصابه الشيء من البول قرضه بالمقراض فنهاهم عن ذلك فعذب في قبره" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن حسنہ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت عمرو بن العاص بیٹھے ہوئے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چمڑہ کی ڈھال یا اس کے مشابہ کوئی چیز تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پردہ فرمایا اور بیٹھ کر قضائے حاجت کی، ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اس طرح (چھپ کر) قضائے حاجت فرمائی ہے جس طرح عورت کرتی ہے ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : کیا تمہیں نہیں معلوم بنی اسرائیل کے صاحب پر کیا گذری ؟ ان میں سے کسی شخص کے کپڑوں کو اگر پیشاب کا قطرہ لگ جاتا تو وہ اس کو قینچی سے کاٹ دیتا، پس ان کو روکا اس سے تو ان کو قبر میں عذاب ہوا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12412
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (١٧٧٦٠)، وابن ماجه (٣٤٦)، والنسائي (١/ ٢٦)، وأبو داود (٢٢)، وابن حبان (٣١٢٧)، والحاكم ١/ ١٨٤، والحميدي (٨٨٢)، وأبو يعلى (٩٣٢)، وابن الجارود (١٣١)، ويعقوب في المعرفة ١/ ٣٨٤، وابن المنذر في الأوسط ١/ ٣٣٧، والبيهقي ١/ ١٠٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12412، ترقيم محمد عوامة 12165)
حدیث نمبر: 12413
١٢٤١٣ - حدثنا عبيدة بن حميد عن عبد الملك بن عمير عن مصعب بن سعد ⦗٢١٦⦘ عن سعد أنه قال لبنيه: (يا) (١) بني، تعوذوا باللَّه (بكلمات) (٢) كان رسول اللَّه ﷺ يتعوذ بهن، فذكر عذاب القبر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد سے مروی ہے کہ حضرت سعد نے اپنے بیٹے کو فرمایا : اے بیٹے ! ان کلمات سے اللہ سے پناہ مانگو جن سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پناہ مانگتے تھے، پھر آپ نے عذاب قبر کا ذکر فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12413
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٦٣٧٤) وأحمد (١٥٨٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12413، ترقيم محمد عوامة 12166)
حدیث نمبر: 12414
١٢٤١٤ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن (عبد الملك) (١) بن عمير عن مصعب بن سعد عن (سعد عن) (٢) النبي ﷺ مثله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد سے اسی کے مثل منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12414
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٦٣٩٠) وأحمد (١٦٢١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12414، ترقيم محمد عوامة 12167)