کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص فوت ہو جائے لیکن اس کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جب تک قرض نہ ادا کر لیا جائے نماز جنازہ نہیں ادا کی جائے گی
حدیث نمبر: 12385
١٢٣٨٥ - حدثنا يعلى بن عبيد حدثنا محمد بن عمرو عن سعيد بن أبي (سعيد) (١) المقبري عن عبد اللَّه بن أبي قتادة عن أبيه قال: أتي رسول اللَّه ﷺ بجنازة ليصلي عليها فقال: "عليه دين؟ " قالوا: نعم ديناران. قال: " (هل) (٢) ترك لهما وفاء"، قالوا: لا، قال: "فصلوا على صاحبكم". قال أبو قتادة: هما عليَّ يا رسول اللَّه، فصلى عليه النبي ﷺ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابو قتادہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک جنازہ لایا گیا، کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : کیا اس کے ذمہ کسی کا قرض ہے ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا جی ہاں دو دینار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے اتنا مال چھوڑا ہے جس سے ادائیگی ہو سکے ؟ عرض کیا کہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کرو، حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! وہ میرے ذمہ ہیں پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12385
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، فظاهر الإسناد أنه حسن، لكن نفى بعضهم سماع عبد اللَّه من أبيه، أخرجه أحمد (٢٢٥٦)، والترمذي (١٠٦٩)، وابن ماجه (٢٠٤٧)، والنسائي ٤/ ٦٥، وابن حبان (٣٠٦٠)، وعبد بن حميد (١٩١)، والدارمي (٢٥٩٣)، وعبد الرزاق (١٥٢٥٨)، والطحاوي في شرح المشكل (٤١٤٧)، والطبراني في الأوسط (٢٥١٢)، وابن عبد البر في التمهيد ٢٣/ ٢٤٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12385، ترقيم محمد عوامة 12141)
حدیث نمبر: 12386
١٢٣٨٦ - حدثنا زيد بن الحباب عن موسى بن عبيدة عن إياس بن سلمة عن أبيه أن النبي ﷺ أتي بجنازة (رجل) (١) من الأنصار ليصلي عليه فقال: "هل ترك شيئًا؟ " قالوا: لا، قال: "هل عليه دين؟ "، قالوا: نعم عليه ديناران، قال: "صلوا على صاحبكم"، قال أبو قتادة: هما عليَّ يا رسول اللَّه ﷺ (قال) (٢): ⦗٢٠٥⦘ فصلى عليه النبي ﷺ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس بن سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کریں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا اس نے کچھ چھوڑا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا اس کے ذمہ کسی کا قرض ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا جی ہاں۔ اس کے ذمہ دو دینار قرض ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اپنے ساتھی کا جنازہ خود ہی ادا کرو، حضرت ابو قتادہ نے عرض کیا : وہ میرے ذمہ ہیں اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز جنازہ ادا فرمائی، راوی کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ایاس نے بتلایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جب حضرت ابو قتادہ سے ملاقات ہوئی تو دریافت فرمایا : ان دو دیناروں کا کیا بنا ؟ یہاں تک کہ انہوں نے وہ دینار ادا کردیے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12386
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال موسى بن عبيدة، وورد من طربق آخر، وأخرجه البخاري (٢٢٨٩)، وأحمد (١٦٥١٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12386، ترقيم محمد عوامة 12142)
حدیث نمبر: 12387
١٢٣٨٧ - قال: (فأخبرني إياس) (١) أن رسول اللَّه ﷺ كان إذا (لقيه أبو) (٢) قتادة قال: " (ما) (٣) فعل (الديناران) (٤)؟ " حتى قضاهما (٥).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12387
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ إياس تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12387، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 12388
١٢٣٨٨ - حدثنا حسين بن علي (عن) (١) زائدة عن عبد اللَّه بن محمد بن عقيل عن جابر بن عبد اللَّه قال: مات رجل (فأتينا) (٢) رسول اللَّه ﷺ ليصلي عليه، فخطا خطى ثم قال: "عليه دين؟ ". (قلنا) (٣): نعم (عليه) (٤) ديناران، قال: "صلوا على صاحبكم" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کا انتقال ہوا تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا فرمائیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا اس کے ذمہ قرض ہے ؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں اس کے ذمہ دو دینار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی ادا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12388
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عبد اللَّه بن محمد بن عقيل الصواب أنه ضعيف، أخرجه الطيالسي (١٦٧٣)، وأحمد (١٤٥٣٦)، والطحاوي في المشكل (٤١٤٥)، والحاكم ٢/ ٥١، والبيهقي ٦/ ٧٤، وابن غطريف (٢٦)، وابن بشكوال ٥/ ٣٤٢، والدارقطني ٣/ ٧٩، وأصله عند أبي داود (٣٣٤٣)، والنسائي ٤/ ٦٥، وابن حبان (٣٥٦٤)، وعبد الرزاق (١٥٢٥٧)، وعبد بن حميد (١٠٨١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12388، ترقيم محمد عوامة 12143)
حدیث نمبر: 12389
١٢٣٨٩ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) حدثنا محمد بن عمرو حدثنا أبو كثير مولى الليثيين عن محمد بن عبد اللَّه بن جحش أن رجلًا جاء إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه ما لي إن قتلت في سبيل اللَّه؟ قال: "الجنة"، فلما ولى قال: "إلا الدَّيْنُ (سارَّني) (٢) به جبريل (آنفًا) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبد اللہ بن جحش سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر میں اللہ کے راستہ میں اپنی جان قربان کر دوں۔ (تو کیا بدلہ ہے ؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جنت، پھر جب وہ پلٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سوائے قرض کے جو حضرت جبرئیل نے مجھے ابھی بتلایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12389
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو كثير روى عنه جمع وذكره ابن حبان في الثقات وقال ابن حجر: ثقة، ومحمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (١٧٢٥٣)، والنسائي ٧/ ٣١٤، والحاكم ٢/ ٢٥، وابن أبي عاصم في الجهاد (٢٣٨)، والطبراني ١٩/ ٥٥٨، وابن قانع ٣/ ١٨، وعبد بن حميد (٣٦٧)، والمزي ٢٥/ ٤٥٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12389، ترقيم محمد عوامة 12144)
حدیث نمبر: 12390
١٢٣٩٠ - حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا يحيى بن سعيد عن سعيد بن أبي سعيد عن عبد اللَّه بن أبي قتادة عن أبيه (عن) (١) النبي ﷺ بنحو منه إلا أنه قال: "قال لي جبريل ﵇ (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن قتادہ اپنے والد سے اسی طرح روایت کرتے ہیں مگر اس کے آخر میں ہے کہ مجھے حضرت جبرئیل نے بتلایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12390
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (١٨٨٥) وأحمد (٢٢٥٤٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12390، ترقيم محمد عوامة 12145)