حدیث نمبر: 12372
١٢٣٧٢ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن مجالد عن الشعبي قال: كان يقال اقتراب الساعة موت الفجأة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اقتراب الساعۃ سے مراد اچانک آنے والی موت ہے۔
حدیث نمبر: 12373
١٢٣٧٣ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن حجاج عن الزبير بن عدي عن بعض أصحاب عبد اللَّه (عن) (١) عبد اللَّه قال: موت الفجاءة راحة على (المؤمنين) (٢) (وتَحيُّفٌ) (٣) على (الكفار) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ اچانک اور غیر متوقع آنے والی موت مؤمن کیلئے راحت ہے اور کافر کیلئے سزا۔
حدیث نمبر: 12374
١٢٣٧٤ - حدثنا ابن نمير (حدثنا) (١) مالك (بن) (٢) مغول عن طلحة عن تميم ⦗٢٠٠⦘ بن سلمة قال: مات منا رجل بغتة فقال (رجل من) (٣) أصحاب النبي ﷺ: أخذة غضب! -فذكرته لإبراهيم- وقل ما (كنا) (٤) (نذكر) (٥) لإبراهيم حديثًا إلا وجدنا عنده فيه فقال: كانوا يكرهون أخذة (كأخذة) (٦) الأسف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تمیم بن سلمہ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ایک شخص اچانک فوت ہوگیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص نے کہا غصہ کی حالت میں اٹھایا گیا ہے، میں نے اس کا ذکر ابراہیم سے کیا اور بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ ہم ابراہیم سے کوئی حدیث ذکر کرتے مگر ان کے پاس اس کو پالیتے، آپ نے فرمایا : صحابہ کرام ناپسند کرتے تھے اچانک اٹھائے جانے کو (موت کو) جس طرح غصب کرنے والا اچانک اٹھا لیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 12375
١٢٣٧٥ - حدثنا يحيى بن آدم حدثنا أبو شهاب عن الأعمش عن زبيد عن أبي الأحوص عن عبد اللَّه وعائشة (قالا) (١): موت الفجاءة رأفة بالمؤمن وأسف على (الفاجر) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ اچانک آنے والی موت مؤمن کے لیے باعث راحت اور کافر کے لیے باعث حسرت و افسوس ہے۔
حدیث نمبر: 12376
١٢٣٧٦ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: سمعت مجاهد بن أبي راشد قال: قال مجاهد: من أشراط الساعة موت البدار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اچانک آنے والی موت قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 12377
١٢٣٧٧ - [حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن إبراهيم أنه كره موت الفجاة] (١).
حدیث نمبر: 12378
١٢٣٧٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن تميم بن سلمة عن عبيد بن ⦗٢٠١⦘ خالد (١) عن (رجل) (٢) من أصحاب (محمد ﷺ) (٣) في موت الفجأة قال: أخذة (أسف) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن خالد صحابہ میں سے کسی سے روایت کرتے ہیں کہ اچانک آنے والی موت غاصب کے لینے کی طرح ہے۔